یہ حقیقت ہے کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے مگر پی ٹی آئی کی باجی علیمہ خان نے اپنے جھوٹے بیانیے کو اس قدر تقویت دے رکھی ہے اور انہوں نے جھوٹ کے اوپر جھوٹ بول کر اپنے جھوٹے خان بانی کو مزید مشکلات میں پھنسا کر تحریک انصاف کو ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔ جب سے بانی جیل میں ہیں اس دن سے ان کے سوشل میڈیا نے بھی شور مچا رکھا ہے کہ جیل میں ان کے لیڈر کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کی صحت کو خطرہ ہے وہ نجانے کتنی بیماریوں میں مبتلا ہیں ان کو قیدیوں والا کھانا دیا جاتا ہے۔ ٹی وی، اخبارات، کتابیں اور سب کچھ بند ہے۔ اس سلسلے میں یہ لوگ اپنے بانی کی سفارشیں لے کر عدالتوں تک گئے کہ قیدی نمبر 804کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک رکھا گیا۔ عدالتوں نے بھی جیل حکام سے کئی بار پوچھا جبکہ معاملات اس کے برعکس تھے۔ گزشتہ دنوں جیل حکام نے ایک پریس ریلیز جاری کی اور اس کے مطابق جو صورتحال سامنے آئی… اس قدر سہولیات وہ بھی ایک مجرم کو وہ بھی گھر کے ماحول سے بڑھ کر۔ اب پتہ چلا کہ بانی جھکے گا نہیں کی آڑ میں باہرکیوں نہیں آنا چاہتے۔ اس سے پہلے کہ بات کو آگے لے کر چلوں ایک نظر اس پریس ریلیز پر جس میں قیدی نمبر 804کو کیا عیاشیاں کرائی جا رہی ہیں ،بانی ایک بڑے قومی اور اخلاقی مجرم جنہوں نے اپنے ساتھیوںکے ذریعے اس ملک کو کیسے لوٹا اور کس طرح قوم کی غلط ذہن سازی کی۔ قوم کو بدتمیز بنایا۔ یوتھ کو غلط راہوں پر ڈالا… پہلے ایک نظر پریس ریلیز پر…
بانی پی ٹی آئی کو جیل ہذا میں قانون و قاعدہ کے مطابق بی کلاس کی تمام سہولیات میسر ہیں جس میں ان کی خوراک، صحت، مطالعہ کتب و اخبارات سمیت ورزش اور واک شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کو بی کلاس کی تمام سہولت میسر ہے تاہم ان کو سات سیلز پر مشتمل کمپلیکس میں رکھا گیا ہے اور وہاں چہل قدمی کے لئے کھلا صحن بھی موجود ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے پاس ایکسرسائز کے لئے سائیکل، LED، اخبارات اور ذاتی انتخاب کے مطابق کتب کی سہولت بھی میسر ہیں۔ مذکورہ سہولیات دیگر بی کلاس کے اسیران کو میسر نہیں۔ مزید برآں بانی پی ٹی آئی کو اپنا کھانا تیار کرانے کے لئے باقاعدہ ایک قیدی کک فراہم کیا گیا ہے جو کہ ان کا ناشتہ، دوپہر اور شام کا کھانا ان کی اپنی خواہش کے مطابق تیار کرتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی جب سے جیل میں ہیں انہوں نے 413مرتبہ ٹویٹر سے ٹویٹ کر ایا ہے جس سے انہوں نے اپنے پارٹی ورکرز کو اہم ملکی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں ہدایات جاری کی ہیں۔ جیسا کہ عام انتخابات 2024ئ، ضمنی انتخابات سمبڑیال، پی ٹی آئی کا 26نومبر 2024ء کا احتجاج، حکومت کے ساتھ مذاکرات یا 20ویں آئینی ترمیم کے بارے میں پارٹی کا لائحہ عمل شامل ہیں۔ گزشتہ 12ماہ سے بھی کم عرصہ میں یعنی اگست 2024ء سے اب تک بانی پی ٹی آئی کے بیانات 45اہم مواقع پر سرخیاں بن چکے ہیں۔ مزید یہ کہ 2024ء سے تا حال 10بین الاقوامی میڈیا چینلز کے ساتھ بھی باہمی تعامل کر چکے ہیں۔ جن میں Fox News، WSJ News، ITV، The Telegraphاور دیگرز بین الاقوامی چینلز شامل ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اندرون جیل ہونے والی مختلف عدالتی سماعتوں کے دوران تمام Main Streamمیڈیا چینلز اور اخبارات کے صحافیوں سے براہ راست سارا سارا دن مخاطب رہے ہیں۔
علاوہ ازیں گزشتہ 3ماہ میں 66خواتین و حضرات جن میں بانی پی ٹی آئی کی پارٹی کے سیاسی لیڈر، فیملی ممبرز اور وکلا نے ملاقاتیں کی۔ جیل ہذا میں متعین ڈاکٹر دن میں تین مرتبہ مذکورہ قیدی کا طبی معائنہ کرتے ہیں۔ ان کے تمام وائنلز چیک کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کی چیکنگ کے دوران مذکورہ قیدی کو کسی بھی قسم کی بیماری یا عارضہ رپورٹ نہ ہوا ہے اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کے وائنلز بالکل مقررہ معیار کے مطابق ہیں۔
مزید برآں بانی پی ٹی آئی کو واک اور ایکسرسائز کی مکمل سہولیات میسر ہیں اور اپنے احاطہ کے کھلے صحن میں دو گھنٹے ہر روز ایکسرسائز کرتے ہیں۔اس ریلیزکے بعد ہر انسان سوچے گا کہ یہ کس قسم کی قید ہے کہ ان کو مکمل سیاست کرنے کی اجازت اور وہ جیل کے اندر بنی گالا اور زمان پارک بنائے ہوئے ہیں۔ وہ تو بادشاہ بن کر جیل سے احکامات جاری کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو ٹی وی، اخبارات، غیر ملکی چینلز، صحافیوں سے براہ راست ملاقات، حکومت وقت کو جیل کے اندر سے آئے روز دھمکیاں دینا اور تو اوران کو جیل کے 7سیلز پر مشتمل ایک کمپلیکس میں رکھا گیا ہے جہاں تمام وی آئی پیز مراعات کے ساتھ بانی بھرپور زندگی انجوائے کر ر ہے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ دنیا بھر میں جیل کے اندر مجرموں کو اس قدر شاندار رہائشی مراعات دی گئی ہوں اوروہ جس سے ملنا چاہیں مل سکتے ہیں۔ واہ بھئی واہ… قیدی ہو تو ایسا۔ خدارااگرحکومت اس مہنگائی کے دور میں پوری قوم کو جیلوں میں ڈال کر ایسی مراعات دے تو کون ظالم ہے جو ایسی جیل نہ بھگتے گا۔ روزانہ کی بنیاد پر میڈیکل چیک اپ، صبح کے ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک مرغن غذائیں، سپیشل کک یہ سہولیات تو شاید اس کو بنی گالا اور زمان پارک میں بھی نہ ملتی ہوں… سوال پیدا ہوتا ہے کہ یوتھیوں کی باجی علیمہ روزانہ کس بات کا رونا روتی ہیں۔ یہ مگرمچھ کے آنسو بہا کر وہ صنم جاوید جیسی یوتھی خواتین کو تو متاثر کر سکتی ہیں مگر وہ باشعور قوم کو اب ورغلا نہیں سکتیں۔دوسری طرف یہ پریس ریلیز یوتھیوں کے منہ پر بڑا طمانچہ ہے۔گو ان کیلئے طمانچے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، گھٹیا الزامات لگانا تحریک انصاف کے منشور کا پہلا اور ضروری حصہ ہے۔ میرے خیال میںاس قدر سرکاری مراعات تو نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز، خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، حمزہ شہباز شریف کوبھی نہیں دی گئیں ان کو تو موت کی چکیوں میں رکھا گیا۔ ان کو قیدیوں کے کھانے دیئے گئے ان کو تو کولر کی سہولیات بھی نہیں تھیں۔ ان کو تو جیل میں سات سات کمرے الاٹ نہیں کئے گئے اورنہ ان کو تو کک دیئے گئے لہٰذا ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے نہ گزارش عرض صرف اتنی سی ہے کہ لاڈلے کو اس قدر مراعات کیوں ملیں۔ جیل کے قواعد و ضوابط کے تحت بی کلاس قیدی کی سہولیات اگر ہیں تو دوسرے قیدیوں کو جو بی کلاس کے ہیں ان کے بارے میں تو جیل حکام کو پریس ریلیز جاری نہیں کرنا پڑتی۔