Wed, September 16, 2026

اتنی سختی اور اتنی نرمی

اتنی سختی اور اتنی نرمی

نورین نیازی کی زبان سے ریاست پاکستان کے حوالے سے جو ہرزہ سرائی کی گئی اس کے ایک ہفتہ بعدتک کیا کارروائی ہوئی اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف ریاستی جبر وسختی کا جو واویلا کیا جاتا ہے اس میں کتنی حقیقت ہے لیکن یہ بیان کس وجہ سے آیا ۔ گذشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل کے متعلق کچھ انکشافات کئے تھے ۔ جن میں ایک تو ایران امریکہ کے درمیان مفاہمتی یاداشت کو سبو تاژ کرنے کی سازش کا الزام اور دوسرا الزام یہ تھا کہ اسرائیل امریکن رائے عامہ کو متاثر کرنے کی سازش کر رہا ہے ۔ امریکہ میں اسرائیل کی اس سازش کے مہرے کون ہیں یہ امریکہ جانے اور وہاں کے ریاستی ادارے جانیں لیکن جو اسرائیل اپنے مربی و مہربان کہ جس امریکہ کی وجہ سے اس کا وجود برقرار ہے اس امریکہ کی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی سازش کر سکتا ہے کہ یہودیوں سے وفا کی امید ہی عبث ہے تو کیا وہ یہودی اسلامی دنیا کی اکلوتی نیوکلیئر پاور پاکستان میں کون سی سازش ہو گی جو وہ نہیں کر رہا ہو گا اور نورین نیازی کا بیان بھی انہی اسرائیلی سازشوں میں سے ایک سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ نورین نیازی نے جو بے ہودہ الزام ریاست پاکستان پر لگایا ہے یہ نادر خیال تو ہندوستان کے مودیوں کو بھی نہیں آیا ۔ نورین نیازی نے جو کچھ کہا یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اسی طرح کے بیانات عین حالت جنگ میں بھی علیمہ خان اور تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے دیئے گئے تھے ۔ عمر ایوب خان کا یہ بیان تو قومی اسمبلی کے فلور پر دیا گیا تھا کہ ” یہ کیا جنگ لڑیں گے ان کی تو معیشت اتنی خراب ہے کہ ان کے پاس تو جنگی جہازوں میں تیل بھرنے کے لئے پیسے بھی نہیں ہیں ۔ “ حالت جنگ میں سیاسی قیادت چاہے وہ حزب اختلاف ہی کیوں نہ ہو ، ہمیشہ عوام کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور خاص طور پر وطن کی خاطر میدان جنگ میں لڑنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اس طرح کی حوصلہ شکنی تو ملک و قوم کے غداروں کا کام ہوتا ہے لیکن ریاست ان کے لئے در حقیقت ماں کی نرم آغوش جیسی ہے کہ یہ جو مرضی کر لیں لیکن انھیں کچھ نہیں کہا جاتا اور انھیں ہر طرح کی بات کرنے کا سرٹیفیکیٹ ملا ہوا ہے ۔
کچھ لوگ اس کو ایک غیر سیاسی خاتون کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اب بات اگر خاتون ہونے کی ہی ہے تو عرض ہے کہ یہ الفاظ تو تمام ریڈ لائنز کو کراس کر جاتے ہیں لیکن ان سے کہیں کم درجہ کا بیان اگر پاکستان پیپلز پارٹی والوں کی جانب سے آتا تو اب تک ان کے خلاف ایک جگہ نہیں بلکہ ملک کے درجنوں شہروں میں سینکڑوں ایف آئی آرز درج ہو چکی ہونی تھیں اور انھیں کہیں جائے پناہ نہیں ملنی تھی ۔ رہی ایک غیر سیاسی خاتون ہونے کی بات تو انڈین میڈیا کو دیکھ لیں کہ اس نے اس غیر سیاسی خاتون کے بیان کو لے کر پاکستان کے خلاف کیا کیا بکواس نہیں کی ۔ اس طرح کے ریاست مخالف بیانات کے بعد کیا تحریک انصاف یا کوئی بھی بندہ جس میں کچھ سیاسی سمجھ بوجھ ہے وہ یہ توقع کرے گا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت میں چار چاند لگیں گے یا مقبولیت کے چاند جن پر پہلے ہی گرہن لگ چکا ہے وہ بالکل ہی ڈوب جائیں گے ۔ اب تو دنیا کو اور خود تحریک انصاف کو اور وہ سیاسی تجزیہ کار جو اب بھی تحریک انصاف کی کسی نام نہاد مقبولیت پر یقین رکھتے ہیں انھیں اس بات کا پتا چل گیا ہو گا کہ لوگ الیکشن میں تحریک انصاف کو ووٹ کیوں نہیں دیتے اور تحریک انصاف کی احتجاج کی ہر کال کیوں بری طرح ناکام ہوتی ہے اور محترمہ علیمہ خان کی بار بار اڈیالہ جیل پر دس ہزار بندوں کی کال کے جواب میں دو ڈھائی سو بندوں کے سوا کوئی کیوں نہیں آتا ۔ دوسرے صوبوں سے تو رہنے دیں ان کے اپنے صوبے جہاں ان کی حکومت ہے وہاں پر ان کے کہنے پر کوئی احتجاج کے لئے نہیں نکلتا اور اگر کبھی جلسہ بھی کرتے ہیں تو تمام تر حکومتی وسائل استعمال کرنے کے باوجود بھی دو چار وزراءسے زیادہ لوگ جمع نہیں کر پاتے ۔ 
ایک جانب مولانا فضل الرحمن کا بیان ہے اور وہ اپنے بیان کے تسلسل میں بیان دیئے جا رہے ہیں اور ابھی ان کے بیان نے سیاسی ماحول کو جس طرح آلودہ کیا تھا اس کی تپش جاری تھی کہ نورین نیازی صاحبہ کا بیان آ گیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ تو مولانا کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی اور قوی امیدیہی ہے کہ نورین نیازی کے خلاف بھی مٹی پاﺅ فارمولہ ایک بار پھر کامیاب ہو جائے گا۔ ریاست کے خلاف بیان دینا اور بات کرنا کس قدر سنگین جرم ہے اور ریاستیں اس کا کیا جواب دیتی ہیں اس حوالے سے ماضی قریب کی ایک مثال دے کر اجازت چاہوں گا کہ دامن کالم میں اب مزید گنجائش نہیں رہی کہ دور نہ جائیں اوم پوری اپنے پڑوسی ملک کے ایک نامور اداکار تھے انھوں نے پاکستان کے حق میں بیان دیئے جو کہ بالکل حقیقت پر مبنی تھے اور جس میں انھوں نے ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا کہ ہندوستان جس کا الزام ہمیشہ پاکستان پر لگاتا ہے لیکن اس بیان کے چند روز بعد ہی وہ اپنے بیڈ روم میں مردہ پائے گئے ۔ ریاستیں تو اپنے غداروں کو دنیا بھر میں تلاش کر کے انھیں ان کیفر کردار تک پہنچاتی ہیں لیکن ہم اپنے ملک کے غداروں کے خلاف اپنے ملک میں بھی کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔ اس سے زیادہ نرمی اور کسے کہتے ہیں ۔

ٹیگز: