Wed, September 16, 2026

برسات بھی سانحہ بن جاتی ہے

برسات بھی سانحہ بن جاتی ہے

موسم برسات میں پورا ملک سیلاب کے خطرے سے دو چار ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ اہم تصور کیے جانے والے سیاحتی مقامات کئی سانحات کو جنم دیتے ہیں۔ ان علاقوں کے رہائشی افراد بھی اس دوران کئی طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرتے ہیں۔ 2018 سے ہمارا ایک کلاس فیلو، جس کا تعلق شمالی علاقہ جات سے تھا، ہمیں ہر سال مدعو کرتا تھا اور اس کی دعوت موصول ہونے کے بعد ہم ٹیلی ویژن پر دیکھتے تھے کہ اس علاقے میں آس پاس کے تمام پل بہہ گئے ہیں رستے بند ہو گئے ہیں اور صورت حال خراب ہو چکی ہے۔ کئی بار وادیِ سوات جانا ہوا۔ مضافات میں نکل کر بار بار تعمیر کی جانے والی سڑکوں کی حالت دیکھ کر طبیعت اچھی خاصی خراب ہو جاتی تھی۔ اکثر جگہوں پر موبائل فون حتیٰ کہ بجلی کی دستیابی کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن سیاحتی مقامات سے لاکھوں ڈالر زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے وہاں سیلاب اور موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کا کوئی مستقل حل کیوں نہیں نکالا جا سکا؟ 
ویسے تو پورا پاکستان ہی ایک زرعی ملک ہے، جس کا بڑا انحصار بارشوں اور دریاؤں کے پانی پر ہے۔ مگر یہی پانی جب اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو سیلاب کی شکل اختیار کر کے ملک کی معیشت، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور انسانی جانوں کو بھاری نقصان پہنچاتا ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں، خاص طور پرخیبر پختونخوا، جنوبی پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ سیلاب ایک قدرتی عمل ہے، مگر اس کی شدت اور اثرات کو کم کرنے کے لیے انسانی حکمتِ عملی اور جدید سائنسی طریقے انتہائی ضروری ہیں۔
پاکستان میں سیلاب کے خطرات کو کم کرنے کے لیے فوری اور طویل مدتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں شہری اور دیہی علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ بدقسمتی سے اکثر شہروں میں بارش کے پانی کے نکاس کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے پانی سڑکوں، بازاروں اور گھروں میں جمع ہو جاتا ہے اور معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ نکاسی آب کے مؤثر نظام کے ذریعے ابتدائی درجے پر سیلاب کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔
ایک اور اہم قدم ڈیمز اور ریزروائرز کی تعمیر ہے۔ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بہت محدود ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس صرف اتنے ذخائر ہیں جو 30 دن کے لیے پانی کو محفوظ رکھ سکتے ہیں، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں یہ شرح 200 دن سے زائد ہے۔ نئی جھیلوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیمز کی تعمیر سے نہ صرف سیلابی پانی کو روکا جا سکتا ہے بلکہ اس پانی کو بعد ازاں آبپاشی، بجلی کی پیداوار اور پینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سیلاب کی شدت کو کم کرنے میں درختوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ جنگلات زمین کی مٹی کو باندھے رکھتے ہیں اور پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر پاکستان میں جنگلات کی کٹائی نے نہ صرف ماحولیاتی توازن کو بگاڑا ہے بلکہ زمین کی گرفت کو بھی کمزور کیا ہے۔ نتیجتاً بارش کا پانی زمین پر تیزی سے بہتا ہے اور سیلابی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ہمیں وسیع پیمانے پر شجرکاری مہمات کا آغاز کرنا ہو گا، خصوصاً دریاؤں اور ندی نالوں کے کناروں پر۔
دریاؤں کے کناروں پر حفاظتی بند اور پشتے قائم کرنا اور ان کی بروقت مرمت بھی ایک مؤثر حل ہے۔ کئی علاقوں میں پرانے بند ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جنہیں مرمت یا دوبارہ تعمیر کیے بغیر اگلے سیلاب کا سامنا نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی سطح پر ایک جامع سروے اور مرمت کا عمل ازحد ضروری ہے تاکہ کمزور جگہوں کی نشاندہی ہو سکے۔
سیلاب سے بروقت بچاؤ کے لیے ابتدائی وارننگ سسٹم کی تنصیب نہایت اہم ہے۔ جدید ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ مانیٹرنگ، موسمیاتی ریڈار، اور موبائل ایپلیکیشنز کے ذریعے عوام کو پیشگی آگاہ کیا جا سکتا ہے کہ کس علاقے میں کب اور کتنا خطرہ ہے۔ اگر دیہی علاقوں میں بھی موبائل فون پر بروقت پیغام رسانی کی جائے تو لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکتا ہے، اور قیمتی جانوں کا تحفظ ممکن ہے۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ سیلابی پانی کو ضائع ہونے سے کیسے بچایا جائے۔ دنیا بھر میں ایسے جدید طریقے موجود ہیں جن کی مدد سے بارش اور سیلاب کے پانی کو ذخیرہ، صاف اور دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے "بارش کے پانی کا ذخیرہ" یا "رین واٹر ہارویسٹنگ" کا تصور ہے۔ گھروں، سکولوں، مساجد، اور دفاتر کی چھتوں پر نصب سادہ ٹینکوں کے ذریعے بارش کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے، جسے بعد میں فلٹر کر کے غسل، صفائی یا باغبانی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کچھ ممالک جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے ان مسائل کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ ہمیں ہر طرح کے تعصب سے بالاتر ہو کر ملکی سطح پر ایسی پالیسی سازی کرنا ہو گی جو سیلاب سے بچائو کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ اس پانی کے مفید استعمال کو بھی ممکن بنا سکے۔ یہ پانی ملک کی معاشی ترقی میں مدد گار ثابت ہو گا اور ساتھ ہی جو انفراسٹرکچر کی بڑی سطح پر تباہی ہوتی ہے اس سے بھی نجات مل سکے گی۔

ٹیگز: