Wed, September 16, 2026

برسات اب انجوائمنٹ نہیں بلکہ خوف ہے!

برسات اب انجوائمنٹ نہیں بلکہ خوف ہے!

ایک عام انسان جو پکے گھر میں رہتا ہو، وسائل اور ضروریات زندگی دستیاب اسے یقینا برسات کا موسم انتہائی سہانا ہی لگنا چاہیے۔ٹیرس پر یا کھڑکی کے پاس بیٹھ کر گرما گرم چائے اور تازہ پکوڑے، یاپھر موسم کے حوالہ سے فلمیں اور گانے ، یا پھر برستی بارش میں لانگ ڈرائیو پر جانا بہت ہی پر کشش اور دلربا محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن مجھ جیسی بور شخصیت کو ہمیشہ سے ان تمام معاملات میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی، بلکہ یہ موسم تو مجھے اداس اور پریشان کر دیتا ہے، کیونکہ بارش شروع ہوتے ہی مجھے ان لوگوں کا خیال آتا ہے جو جھگیوں یا کچے مکانوں میں رہتے ہیں اور بارش کے ساتھ ہی انہیں اپنے بچوں کی حفاظت، چھت ٹپکنے، سامان کے بھیگ جانے یا دیوار کے گر جانے کا خوف آن لیتا ہے۔
شاید یہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کہ گزشتہ کچھ برسوں مجھ جیسی سوچ رکھنے والے لوگوں کی تعداد میں بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ یہ خوف اس لیے بھی بڑھ رہا ہے کہ ہمیں نظر آتا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار کو تو معاملہ کی سنگینی کا اندازہ ہی نہیں ۔ شائد اسی وجہ سے انہوں نے  ہماری زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے نہ تو کوئی اقدامات کئے ہیںاور نہ ہی کوئی تیاری۔اگر انہیں حالات کی سنگینی کا ذرہ برابر بھی احساس ہو تو وہ کم از کم ٹمبر مافیا اور تجاوزات مافیاکو تو لگام ڈالیں،ڈرینج کے نظام کو بہتر بنائیں، چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کی طرف توجہ دیں اور شجر کاری کے معاملات کو ترجیح بنائیں۔ 
یقینا دریا اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ یہی دریا ہماری زمینوں کو زرخیز بناتے ہیں، یہی ہماری پیاس بجھاتے ہیں، یہی بجلی بنانے کے کام آ سکتے ہیں۔ لیکن جب بارش زیادہ ہو جائے اور پانی کو گزرنے کا مناسب راستہ نہ ملے یا پانی کو ذخیرہ کرنے کا مناسب انتظام نہ ہو تو یہی دریا موت کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ گھروں کو بہا لے جاتے ہیں، بچوں کو والدین سے جدا کر دیتے ہیںاور کسانوں کی فصلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ہم نے ٹی وی پر وہ مناظر دیکھے ہیں جب کوئی ماں اپنے بچے کی لاش گود میں اٹھائے بیٹھی ہوتی ہے۔ کوئی بوڑھا اپنے ڈوبے ہوئے مکان کے پاس کھڑا رو رہا ہوتا ہے۔ کوئی کسان ہاتھ باندھ کر اپنی ڈوبی ہوئی فصل کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ان مناظر کو دیکھ کر دل پھٹ جاتا ہے، مگر افسوس کہ یہ مناظر تقریباً ہر سال دوہرائے جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی بے بس ہیں اور بالکل بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے؟ جواب ہے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ان نقصانات کو اگر ختم نہیں تو کم ضرور کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہوتا تو آج یہ پانی ضائع نہ ہوتا۔ نہ بجلی کی کمی رہتی اور نہ ہی سیلاب اتنی تباہی مچاتا۔ لیکن ہم نے ڈیم بنانے کے بجائے سیاست کی۔ کبھی ایک صوبہ مخالفت کرتا ہے، کبھی دوسرا۔ نتیجہ یہ کہ پانی ہر سال بہہ جاتا ہے اور ہمارے کام نہیں آتا۔
دیہاتوں، قصبوں یا چھوٹے شہروں کی تو بات ہی رہنے دیں۔ اگر لاہور، کراچی، حیدر آباد،پشاور یا فیصل آباد کو ہی دیکھ لیں تھوڑی سی بارش ہو تو سڑکیں ندی نالے بن جاتی ہیں۔ پانی گھروں میں گھس جاتا ہے۔دریاوں کے کناروں پر بستیاں آباد ہو چکی ہیں اور برساتی نالوں پر گھر بنا دیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب پانی کے گزرنے کی جگہ نہ ہو گی تو وہ تباہی ہی مچائے گا۔
پہلے شہروں کے درمیان، ہائی ویز کے کنارے اور پہاڑوں پر جنگل یا کم از کم کچھ درخت ہوتے تھے، بارش کا پانی آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہو جاتا تھا اور سیلابی صورتحال نہیں بنتی تھی۔ اس کے علاوہ درخت موسمی تبدیلیوں کو کنٹرول کرنے کا بڑا ذریعہ تھے۔ لیکن اب یہ حال ہے کہ پہاڑوں پر درخت کاٹ لیے گئے ہیں، پانی تیزی سے نیچے آتا ہے اور سیلاب بن جاتا ہے۔ اگر ہم نے زیادہ درخت لگائے ہوتے تو یقینا نقصان اتنا زیادہ نہ ہوتا۔
اسی طرح سیلابی صورتحال کی بروقت اطلاع دینے کا نظام بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں طوفان یا بارش سے پہلے لوگوں کو موبائل پر پیغام آتا ہے یا گاؤں کے اسپیکر پر اعلان ہوتا ہے۔ لوگ پہلے ہی محفوظ جگہوں پر چلے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ اس وقت بھاگتے ہیں جب پانی ان کے گھروں کے اندر داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ اگر حکومت بروقت اطلاع دینے کا نظام بنائے اور لوگوں کی جانب سے بھی وارننگ کی فوری تعمیل کی جائے تو بہت سی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
ویسے تو پوری دنیا ہی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ہے لیکن پاکستان پر اس کا اثر سب سے زیادہ ہے۔ اب موسم ویسے نہیں رہے جیسے پہلے تھے۔ اب تو کبھی بارشیں بالکل نہیں ہوتیں، کبھی اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ ہر چیز بہا لے جاتی ہیں۔ کبھی سخت گرمی، کبھی سخت سردی۔ یہ سب’کلائمٹ چینج‘ یعنی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہیں۔ موجودہ صورتحال کا سبب موسمیاتی تبدیلی بیان کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی وجوہات میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آلودگی سب سے زیادہ امیر ملک پھیلا رہے ہیں۔ امریکہ، یورپ، بھارت اور چین اپنی انڈسٹری سے کاربن خارج کرتے ہیں، لیکن نقصان ہم جیسے ملکوں کو سہنا پڑتا ہے۔ یہ بہت بڑی ناانصافی ہے۔
سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود دنیا بھی ہماری صحیح طریقے سے مدد نہیں کرتی۔ جب پاکستان میں سیلاب آتا ہے تو چند ٹرک امدادی سامان یا چند لاکھ ڈالر دے دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ وہ ہمیں ڈیم بنانے میں مدد دی جائے، نکاسی آب کا نظام بہتر بنانے کے لیے پیسہ مہیا ہو، اور ماحول دوست ٹیکنالوجی ملے تاکہ ہم بھی اپنی زمین کو بچا سکیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ہمارے حکمران بھی ان مسائل کے حل کے لیے کچھ زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ صرف مراعات یافتہ طبقہ بلکہ بڑی حد تک مڈل کلاس بھی فی الحال اس صورتحال سے متاثر نہیں ہو رہے اور اگر ہو رہے ہیں تو بہت کم۔ اس کا نقصان صرف غریب آدمی کو ہو رہا ہے۔
اگر حکومت اس مسئلہ کو حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ فوری طور اور ترجیحی بنیادوں پر چھوٹے بڑے کئی ڈیم بنا نے کا بندوبست کرے، ادارے دریاوں کے کنارے اور برساتی نالوں اور ان کے ارد گرد تجاوزات کے خاتمہ کویقینی بنائیں اور عوام شجر کاری پر زور دیں۔بلا شبہ یہ سب کام کرنے کے باوجودسیلابوں کو مکمل طور پر ختم کرنا تو ممکن نہ ہو گا ، لیکن اس کے نقصانات کو کم ضرور کیا جا سکے گا ۔

ٹیگز: