Wed, September 16, 2026

متبادل کیا ہے؟

متبادل کیا ہے؟

انسان کے اندر اللہ کریم نے یہ خاصیت ودیعت کررکھی ہے کہ وہ حالات کے حساب سے اپنی سمجھ کو بروئے کار لاتا ہے اور بحران سے نکلنے یا اس سے بچنے کے لیے اپنی دانست میں بہترفیصلہ کرتا ہے ۔اللہ کریم نے مجتہد کے لیے دواجررکھے ہیں کہ بھلے اس کا کیا گیا کام یا فیصلہ درست نہ بھی نکلے پھر بھی اس کے لیے ایک اجر ہے کہ اس نے کوشش کی اور خلوص نیت کے ساتھ کسی مسئلے کا حل پیش کیا۔اس لیے میں پاکستان کی غزہ کے امن کے لیے بننے والے بورڈ میں شمولیت کو درست اور اور موجودہ حالات کے حساب سے جائز سمجھتا ہوں۔ کچھ لوگ اس پر تنقید کررہے ہیں ان کی رائے کا احترام لیکن جو لوگ اندھی تقلید میں پاکستان کو اس بورڈ شامل ہونے پرفلسطینیوں سے غداری جیسی پتنگ بازی میں مصروف ہیں ان کو دونوں ہاتھوں سے سلام کہ اللہ کریم نے اپنی مقدس کتاب میں فرمادیا۔۔کہ جب جاہلوں سے واسطہ پڑے تو انہیں کہاجائے کہ بھائی معاف کر۔۔!
کچھ سنجیدہ باتیں اور حقائق درج کیے دیتے ہیں کہ مرکزی نقطہ ا ن دانشوروں کے لیے جو اس منصوبے کی مخالفت میں حد سے آگے بڑھ رہے ہیں وہ بتادیں کہ اس کے علاوہ کیا کریں؟ پاکستان شامل نہ ہو تو کیا یہ منصوبہ رک جائے گا؟اس میں شمولیت کا مقصد کا مقصد فلسطین میں پائیدار اور منصفانہ امن کی حمایت ہے۔میرا یقین کہ پاکستان خلوص نیت کے ساتھ اس مشن پر ساتھ چلا ہے ۔ اس اقدام کا مرکز ی مقصدغزہ میں مستقل جنگ بندی کا حصول اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطین کی جامع تعمیرِ نو ہے۔ تعمیرِ نو کے منصوبے میں گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی اور بجلی کے نظام کی بحالی، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور فلسطینی عوام کو باعزت زندگی کی طرف واپس لانا شامل ہے۔ پاکستان نے اس اقدام میں سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکہ کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ متعدد مسلم اکثریتی ممالک کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ فلسطینی حقوق، ریاستی شناخت اور حقِ خود ارادیت کو نظرانداز نہیں کرنے دیا جائے گا۔
کیا پاکستان کا مو¿قف فلسطین پر بدل گیا؟ ہرگز نہیں پاکستان کا م¶قف آج بھی وہی ہے جو ہمیشہ رہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست، القدس الشریف اس کا دارالحکومت، اور قبضے و اجتماعی سزا کی کھلی مخالفت۔ فلسطینی وزیرِاعظم محمد مصطفیٰ نے ڈیووس میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات میں غزہ میں امن کے لیے پاکستان کی مستقل اور غیر متزلزل حمایت، جاری نسل کشی کے خلاف م¶قف اور فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
 بورڈ آف پیس کی دستخطی تقریب کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان خوشگوار تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی صدر نے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں سراہا۔ یہ لمحہ پاکستان کی قیادت، قومی اداروں اور عالمی سطح پر اعتماد و احترام کی خاموش مگر واضح علامت تھا۔ ایک بات اور کہ پاکستان نے اس عمل میں شرکت تماشائی بننے کے لیے نہیں بلکہ عالمی امن اور فلسطینی عوام کے محفوظ و خوشحال مستقبل سے متعلق فیصلوں میں شامل ہونے کے لیے کی ہے۔ پاکستان سٹرٹیجک خودمختاری پر یقین رکھتا ہے، بلاک سیاست سے اجتناب کرتا ہے اور اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر تمام بڑی طاقتوں سے روابط رکھتا ہے۔مزید وضاحت کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کسی فوجی کارروائی یا اسٹیبلائزیشن فورس میں خودکار شرکت نہیں ہے۔ مستقبل میں کسی بھی سیکیورٹی کردار پر فیصلہ صرف اقوام متحدہ کے مینڈیٹ، قومی مفاد اور فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق ہوگا۔ پاکستان عالمی سیاست میں بلاک بندی سے اجتناب کرتے ہوئے توازن، اصول پسندی اور م¶ثر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، اور فلسطین کے معاملے پر خاموشی کے بجائے فعال کردار کو ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ غزہ کے مستقبل کے فیصلے مسلم دنیا کی شمولیت اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ساتھ ہوں
بورڈ آف پیس کا بنیادی ہدف غزہ میں مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت جامع امن فریم ورک پر عمل درآمد ہے۔ دو سالہ جنگ کے نتیجے میں غزہ میں نوے ہزار ٹن اسلحہ استعمال ہوا، ساٹھ ملین ٹن ملبہ جمع ہوا اور دسیوں ہزار جانیں ضائع ہوئیں، بورڈ آف پیس اسی تباہی کے بعد بحالی کا واضح راستہ پیش کرتا ہے۔ ابتدائی سو دنوں میں مکمل انسانی امداد، بنیادی ڈھانچے کی بحالی، اسپتالوں اور بیکریوں کی فعالیت، ملبہ ہٹانے کا عمل اور سڑکوں کی بحالی شامل ہے۔ انسانی امداد کے تحت پہلی بار 2023 کے بعد غزہ میں سو فیصد بنیادی غذائی ضروریات پوری کی جائیں گی، پچپن ہزار امدادی ٹرک اور چودہ لاکھ امدادی پیکٹس فراہم کیے جائیں گے۔ تعمیرِ نو کے مرحلے میں عارضی رہائش کے بعد مستقل بحالی شامل ہے، جس کے تحت نئے رفح میں ایک لاکھ سے زائد رہائشی یونٹس، دو سو تعلیمی ادارے، ایک سو اسی ثقافتی و فنی مراکز اور پچہتر طبی سہولیات قائم کی جائیں گی۔ نئے غزہ کے تصور کے تحت ساحلی سیاحت، جدید ٹرانسپورٹ حب، توانائی و ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور آزاد منڈی پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھی جائے گی۔ معاشی بحالی کے نتیجے میں آئندہ دس برس میں غزہ کی معیشت دس ارب ڈالر سے تجاوز کرے گی، پانچ لاکھ سے زائد روزگار پیدا ہوں گے اور اوسط گھریلو آمدن تیرہ ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ منصوبے کے تحت بجلی، پانی اور عوامی سہولیات میں پچیس ارب ڈالر، فنی تعلیم میں ڈیڑھ ارب ڈالر اور تجارتی زونز میں تین ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری متوقع ہے۔
یہ کچھ بنیادی کا خاکہ ہے اس بورڈ کا ۔غزہ میں تین سال سے اسرائیل آگ کی بارش برسا رہا ہے۔غزہ ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا۔اسرائیل کا ہاتھ کسی نے نہیں روکا۔اسرائیل نے ایران کے اندر اسماعیل ہنیہ کو شہید کیا ۔حماس کی قیادت کو شہید کیا۔حزب اللہ کی پوری قیادت ملیہ میٹ کردی۔ جو دانشور تتے توے پر بیٹھے ہیں وہ کوئی متبادل تو سامنے لائیں؟ فلسطینوں کی مدد ہر پاکستانی کا دیرینہ خواب ہے اب جب یہ موقع پاکستان کو مل رہا ہے تواس کو چھوڑ دیا جائے؟ کیا تنقید کرنے والے اس حق میں ہیں کہ فلسطین میں یوں ہی خون بہتا رہے؟ خواتین بیوہ ہوتی رہیں بچے یتیم ہوتے رہیں؟ اس خون خرابے کی کوئی انتہا ہی نہ ہو؟پاکستان کے شامل ہونے کی تکلیف ہندوستان کو ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو فلسطین کی صورت میں ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے کل کو بات کشمیر تک آسکتی ہے۔کیا میرے دانشور نہیں چاہتے کہ کشمیر کا مسئلہ کسی طور حل ہو؟اگر یہ سب کی خواہش ہے تو پھر بورڈ کی مخالفت کس لیے؟ کیا مسئلہ یہ تو نہیں کہ یہ سب کچھ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہاتھوں ہورہا ہے؟ اگر یہی کچھ عمران خان کے ہاتھ سے ہورہا ہوتا تو پھر بھی یہ غداری ہی ہوتی؟۔

ٹیگز: