جنیوا/ تہران : جنیوا مذاکرات کے آغاز سے قبل تہران سے آنے والے مثبت اشاروں نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک خصوصی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان برسوں سے جاری جوہری تنازع کا حل اب "پہنچ میں" ہے اور فریقین ایک غیر معمولی معاہدے کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔
عباس عراقچی کے مطابق، مجوزہ معاہدہ محض پرانے نکات کا اعادہ نہیں بلکہ ایک ایسا جامع منصوبہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج کو پاٹ سکتا ہے۔ اس حوالے سے اہم تفصیلات یہ ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں فریقین کے ان تمام خدشات کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ماضی میں ناکامی کا سبب بنے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جیو پولیٹیکل حالات میں یہ ایک ایسا موقع ہے جسے ضائع کرنا دونوں ممالک اور عالمی امن کے لیے نقصان دہ ہوگا ۔جنیوا روانگی سے قبل تہران میں سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس بار امریکہ کے ساتھ پسِ پردہ ہونے والی بات چیت میں غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی کا یہ بیان جنیوا مذاکرات کے لیے "گرین سگنل" کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو ایران پر اقتصادی پابندیوں میں بڑی نرمی متوقع ہے جس سے ایرانی معیشت کو سہارا ملے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی آئے گی، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست ڈیل خطے کے دیگر تنازعات پر بھی اثر انداز ہوگی۔