Wed, September 16, 2026

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

میری لائبریری میں ڈکٹیٹر محمد ایوب خان کی کتابfriends not masters’’ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی ‘‘کا اضافہ ہوا۔کتب فروش’’ مسٹر بک‘‘ اسلام آباد کے ہاں میری کتب فروخت کے لیے رکھی ہوئی ہیں۔ وہاں حساب کتاب اورسٹاک معلوم کرنے گیا تو کتاب ’’ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ خریدی جس کی مجھے ایک عرصے سے طلب تھی۔ حسب معمول آج اسی کتاب پر تبصرہ قارئین کے خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
 خو بصورت سرورق کے ساتھ اور اعلیٰ کوالٹی کاغذ کے ساتھ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے ۲۰۱۵ء میں اُردو ایڈیشن شائع کیا ہے۔شروع میں ہی کتاب میں تحریر ہے’’ ترقی پذیر ممالک کے باشندے دوستوں کی اعانت کے ضرور متمنی ہیں لیکن ایسی اعانت ۔۔۔ جو باہمی عزت ووقارکی بنیاد پر استوار ہو۔ وہ دوستی چاہتے ہیں۔۔۔ کسی کی بالادستی تسلیم کرنا نہیں چاہتے‘‘صفحہ ۱۸۱ پر لکھتے ہیں’’ ترقی پذیر ملکوں کے لوگ امداد کے خواہاں ہیں لیکن باہمی احترام کی بنیاد پر۔ وہ دوست چاہتے ہیں آقا نہیں۔ 
راقم، کاش حقیقت میں بھی ایسا ہو۔ ورنہ طاقتور ملک جب مدد کرتے ہیں تو اپنی مفادات سامنے رکھتے ہیں۔ جیسے پاکستان نے امریکا سے دوستی میں بڈھ بیر پشاور سے امریکاکو روس کی جاسوسی کے لیے ’’یو ٹو‘‘ اُڑانے کی اجازت دے کر روس کو اپنا مخالف بنا لیا۔ اس پر سوویت یونین نے پاکستان توڑ کر بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کی فوجی مدد کی تھی۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے پاکستان نے  سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے دوران اپنی تدبیر سے سوویت یونین کو شکست دینے اور توڑنے میں افغانستان کی مددکر کے سوویت یونین سے اس دشمنی کا بدلہ بھی لے لیا۔
 پہلے باب میںلکھا ہے ۔فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ۱۹۰۷ء میں ہری پور کے قریب ’’ریحانہ‘‘ نامی گائوں صوبہ سرحد، موجودہ خیبر پختونخوا میں پیدا ہوئے۔ان کا علاقہ پشین کی ترین قوم سے تعلق ہے۔ ان والد  رسالدارمیجر داد خان بھی فوجی تھے۔ دوسرے باب لکھتے ہیں۔ والد نے اِنہیں علی گڑھ سے تعلیم دلائی۔ سینڈ ہرسٹ سے امتحان پاس کر کے کارپول بنا۔اس کے بعد انبالہ میں برطانوی رجمنٹ رائل فیوز یلیئر میں پوسٹنگ ہوئی۔تقسیم کے بعد وزیرستان میں ایک بریگیڈ کی کمان کی۔مشرقی پاکستان میں جنرل آفیسر کمانڈگ، ایڈجو ٹنٹ جنرل اور آخر میں ۱۹۵۱ء پاکستانی فوج کے کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے کام کیا۔تیسرے باب میں اپنی فوج زندگی ۱۹۴۸ء تا ۱۹۵۰ تک کا ذکر کیا ہے۔چوتھے باب میں ان کی کمانڈران چیف بننے کی روداد ہے۔ لکھتے ہیں کہ جنرل گریسی نے فوج میں ’’نوجوان ترک پارٹی ‘‘کی موجودگی کا کہا۔ جس میں اکبر خان جیسے کچھ لوگ شامل ہیں۔ بعد میں اکبر خان نے سازش کی، جسے ’’سازش راولپنڈی‘‘ کہا جاتا ہے۔ سازش میں بریگیڈیئر صدیق خان اور کرنل ارباب شامل تھے ۔ اس میں بعض شہری بھی شامل تھے۔جس کا وزیر اعظم لیاقت علی خان کو علم تھا۔ سب کو گرفتارکرلیا گیا۔مقدمے کی کارروائی حیدر آباد جیل میں ہوئی جرم ثابت ہوا۔ سزائیں ہوئیں۔بعد میں سازش کرنے والوں کو معاف کر دیا گیا۔فوج سے چھانٹی کی گئی۔ اکبر خان کا مقدمہ خصوصی عدالت میں چلا اور سزا ہوئی۔معافی ملی باقی زندگی عام شہری کی حیثیت سے گزاری۔راولپنڈی سازش کی جڑیں دوردور پھیلی ہوئی تھیں۔ راقم ،لگتا ہے یہ کیمونسٹ سازش تھی۔ اس مشہور شاعر لینن ایواڈ یافتہ فیض احمد فیض بھی شامل تھا۔
کتاب کے پانچویںبات میں ایوب خان ۱۹۴۸ء تا ۱۹۵۸ء میں پاکستان کی سول حکومت کی نا اہلی کی طویل روداد لکھتے ہیں ۔ چھٹے باب فوجی انقلاب بارے لکھتے ہیں۔ صدر سکندر مرزا نے بتایا کی صورتحال ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہے وہ کچھ اقدام کرنے جارہے ہیں۔۷اکتوبر کوسکندر مرزا نے پاکستان کا متفقہ ۱۹۵۶ء کاآئین منسوخ کرکے مارشل لگا دیا۔ راقم، ایوب خان اور سکندر مرزا نے مل کر مارشل لا لگایا تھا۔ساتویں باب میں مارشل لالگانے کے کا مقاصد بیان کیے گئے۔یہاں تک کہا گیا کہ پاکستان کا خاتمہ ہونے والا تھا۔مارشل لا کے فوری مقاصد اور طویل المیاد مقاصد بیان کیے گئے۔ آٹھویں باب میںبنیادی اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں اصلاحات کی ایک فہرست بنائی گئی۔زرعی اصلاحات کی گئیں۔مہاجرین کے لیے کلیمز کا نظام درست کیاگیا۔ کراچی کے بجائے پاکستان کا درالخلافہ اسلام آباد بنایا گیا۔ تعلیمی پالیسی ترتیب دی گئی۔قانون کے نظام میں تبدیلیاں لائی گئی۔ عائلی آرڈنینس جاری کیا گیا کہ پہلی بیوی سے اجازت کے بغیر مرد دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ بھارت سے سندھ طاس کا معاہدہ کیا گیا۔ اس کے تحت منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم بننے لگے۔نوویں اور دسویں باب میں خارجہ پالیسی برابری کے فارمولے پر طے کی گئی۔ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کا طے ہوا۔ نہرو سے دو ملاقاتوں بھارت کے ساتھ معاہدے کا سوچا جو بھارت نہیں مانا۔ راقم ، بھارت تو پاکستان کے وجود ہی نہیں مانتا تو معاہدے کیا کرتا؟ امریکا کے ساتھ سیٹو اور سینٹو معاہدوں کے تحت تعلقات تو پہلے سے تھے۔ مگر ایوب خان نے لکھا کہ’’ امریکا نے بھارت اور پاکستان دونوں میں سے بھارت کو چن لیا‘‘یہ بھی لکھا کہ اگر بھارت ہم پر حملہ کرے اس کا امکان بہت کم ہے کہ امریکا اپنا وعدہ پورا کرے اور ہماری مدد کو پہنچے۔ اپنے وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر نہیں کیا۔ نہ ہی ۱۹۶۵ ء کی پاک بھارت جنگ کا ذکر کیا۔ گیارویں باب میں آئین اور نظریہ حیات پر تفصیل ہے۔ملک کو دویونٹوں میں تقسیم کی بابت لکھا۔راقم، پاکستان جس نظریہ پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ بنا اس کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ بلکہ ایوب خان دیگر مسلم لیگیوںکی طرح سیکولرذہن والا تھا۔ ملک کو سیکولرزم کے طرف لگا دیا۔پوری کتاب سیاستدانوں کی غلطیوں اور تبصروں سے بھری پڑی ہے۔ مولانا ابو الاعلی ٰ مودودیؒ جو ملک کا اسلامی آئین بنانے کی تحریک چلا رہے تھے پر تنقید کی۔ کتاب میں ہر ڈکٹیٹر کی طرح صرف میںمیں ہی کی صدا نظر آتی ہے۔ ۱۹۵۶ء کامتفقہ آئین منسوخ کر کے ۱۹۶۲ء کا اپنا آئین لاگو کیا۔بنیادی جمہوریت میں اسی۸۰ ہزار سے ووٹ حاصل کرے صدر بن کر ۱۹۶۰ء میں حلف اُٹھایا۔سیاستدانوں پر ایبڈو پابندیاں لگائے رکھیں۔ انہیں اس کتاب میں کئی بارغدار کہا۔خود مسلم لیگ کے صدر بن کر اس نام کنونشن مسلم لیگ نا م رکھا گیا۔ ۱۹۶۵ء کے الیکشن میں ایوب خان کے مقابلے میں اپوزیشن پارٹیوں نے قائد اعظمؒ کی بہن مادر ملت فاطمہ جناح کو کھڑا کیا۔ الیکشن میں دھندلی کے ذریعے انتخاب جیت لیااور ملک کے صدر بن گئے۔ دس سال گزارے۔گو کہ ان کے دور میں ملک کی ترقی ہوئی۔مگر مشرقی پاکستان بارے ان کی پالیسیوں پر اپوزیشن نے سخت تنقیدکی۔سکندر مرزا اور ایوب خان نے جو پاکستان میں مارشل لا کی ابتدا کی۔ بعد میںجنرل یحییٰ خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویزمشرف  مارشل لا لگاتے رہے۔ کاش !ہمارے بہادرجرنلز سیاست سے دور رہتے ۔ ملک کو سیاستدانوں کو چلانے دیتے تو ملک کی عزت ووقار میں اضافہ ہو۔جدید جمہوری دور میںاختیارات کی تقسیم سے سارے حلقے مطمئن رہتے ہیں۔ہماری بہادرفوج نے ہمیشہ پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں اور دے رہی ہے ۔ ہمیں اپنی فوج کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔
اگر کسی چیز پر اختلاف ہے تو مہذب طریقے تنقید کرنے چاہیے۔ سیاستدانوں کواپنی فوج کے خلاف محاذ نہیں کھولنے چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پاکستان میں اتحاد و احرام کی فضا قائم ہو۔ پاکستان ترقی کرے آمین۔’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ کتاب سے قاری کو بہت سبق مل سکتا ہے۔ 

ٹیگز: