Wed, September 16, 2026

کیا سب چور ہیں؟

کیا سب چور ہیں؟

میرے بڑے بھائیوں جیسے ایک دوست ہیں۔ کامیاب، اصول پسند اور باقاعدہ ٹیکس دینے والے کاروباری شخص۔ ان کا کاروبار مکمل طور پر ٹیکس کمپلائینٹ ہے۔ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ودہولڈنگ، سالانہ آڈٹ وغیرہ سب کچھ قانون کے مطابق۔ ایک دن ان کے دفتر میں ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر ٹیکس آیا۔ لہجہ نرم تھا مگر سوال سخت ''ہمیں آپ کا ٹیکس آڈٹ کرنا ہے، کہیں آپ چوری تو نہیں کر رہے؟''۔
میرے دوست نے مسکرا کر جواب دیا۔آپ پورا ریکارڈ دیکھ لیجیے۔ کمپیوٹر، سرور، اکاؤنٹس، سب حاضر ہیں۔ریکارڈ کھول دیئے گئے۔ کمپیوٹر بھی ساتھ لے جایا گیا۔ کئی دن تجزیہ ہوتا رہا۔ جب افسر واپس آیا تو اس کے چہرے پر عجیب سی پریشانی تھی۔ اس نے کہا: ''کوئی گڑبڑ نہیں نکلی۔ میرے دوست نے فوراً کہا، تو پھر مجھے مکمل کمپلائنس کا سرٹیفیکیٹ دے دیجئے۔ نوجوان افسر نے دھیمی آواز میں جواب دیا،میں یہ سرٹیفیکیٹ نہیں دے سکتا۔ میرے افسرانِ بالا یقین نہیں کریں گے۔ وہ سمجھیں گے میں نے رعایت دی ہے۔ مجھ پر کرپشن کا شک ہوگا۔ بہتر ہے آپ کسی  بھی مد میں تھوڑی سی گڑبڑ ڈال دیں تاکہ لگے ہم آئے اور اسے درست کیا۔یہ صرف ایک واقعہ نہیں۔ یہ ایک ذہنیت ہے۔ اور یہی ذہنیت پاکستان کی غیر رسمی معیشت اور کالے دھن کے مسئلے کی اصل جڑ ہے۔
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق اس کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے 30 سے 40 فیصد کے درمیان بتایا جاتا ہے۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح برسوں سے 9 سے 11 فیصد کے درمیان رہی ہے، جو خطے کے کئی ممالک سے کم ہے۔ٹیکس وصولی کا ادارہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہے۔ مگر مسئلہ صرف وصولی کا نہیں، اعتماد کا ہے۔ جب ریاستی مشینری کی بنیادی سوچ یہ ہو کہ ''سب چور ہیں'' تو پھر ایماندار بھی دفاعی پوزیشن پر آ جاتا ہے۔
کالا دھن قانونی طور پر وہ آمدن یا اثاثہ ہے جو ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہ کیا گیا ہو۔ لیکن معاشی حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ کاروباری لوگ ہمیشہ لالچ کی وجہ سے آمدن نہیں چھپاتے۔ اکثر وہ خوف، عدم اعتماد اور نظام کی پیچیدگی کی وجہ سے غیر رسمی راستہ اختیار کرتے ہیں۔
پاکستان کے تمام بڑے ادارے بخوبی جانتے ہیں کہ لاہور، فیصل آباد، کراچی، ملتان، راولپنڈی اور پشاور کی بڑی تجارتی منڈیوں میں آج بھی‘‘کچی پرچی’’پر لین دین ہوتا ہے۔ یہ کوئی خفیہ راز نہیں۔ کپڑے کی ہول سیل مارکیٹ ہو، آٹو پارٹس کی منڈی، الیکٹرانکس، گروسری یا تعمیراتی سامان، ایک بڑا حصہ رسمی انوائسنگ کے بغیر گردش کرتا ہے۔ ریاستی اداروں کے پاس معلومات بھی ہیں، اندازے بھی اور اعداد و شمار بھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب سب کو معلوم ہے تو نظام رسمی کیوں نہیں بن پاتا؟۔
اس کی وجہ صرف بددیانتی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ رسمی نظام میں داخل ہونا چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے مہنگا، پیچیدہ اور اعصابی دباؤ کا باعث ہے۔ سیلز ٹیکس رجسٹریشن، ریٹرنز کی فریکوئنسی، ودہولڈنگ ایڈجسٹمنٹس، بار بار کے نوٹسز، ریفنڈ میں تاخیر۔ یہ سب ایک ایسے ماحول کو جنم دیتے ہیں جہاں غیر رسمی رہنا بقا کی حکمت عملی بن جاتا ہے، جرم کی نیت نہیں۔
ماضی میں حکومتوں نے کئی ایمنسٹی سکیمیں متعارف کرائیں۔ سب سے نمایاں ''ایسٹ ڈکلیئریشن ایکٹ2019'' تھی، جس کے تحت غیر ظاہر شدہ اثاثوں کو مخصوص شرح پر قانونی بنانے کی اجازت دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر نظام مضبوط ہوتا تو بار بار ایمنسٹی کی ضرورت کیوں پڑتی؟ اور اگر ایمنسٹی ناگزیر تھی تو کیا اس نے مستقل حل دیا؟
تحقیقی تجزیے بتاتے ہیں کہ ایمنسٹی سکیمیں وقتی ریونیو تو دیتی ہیں مگر طویل مدت میں ٹیکس کلچر کو کمزور کر دیتی ہیں۔ کیونکہ پیغام یہ جاتا ہے کہ آج نہ سہی، کل کوئی راستہ نکل آئے گا۔
میرے دوست کے واقعے پر واپس آئیے۔ مسئلہ آڈٹ کا نہیں تھا۔ آڈٹ ریاست کا حق ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ایمانداری ناقابلِ یقین کیوں ہو گئی؟ اگر کوئی مکمل کمپلائینٹ ہے تو افسر کو خوش ہونا چاہیے تھا۔ مگر جب ادارہ جاتی کلچر یہ ہو کہ ''خالی ہاتھ واپس نہیں جانا'' تو پھر کمپلائنس بھی مشکوک بن جاتی ہے۔
یہ ذہنیت غیر رسمی معیشت کو بڑھاتی ہے۔ کیونکہ کاروباری شخص سوچتا ہے۔جب مکمل شفافیت کے باوجود مجھ پر شک ہونا ہے، تو پھر مکمل شفافیت کا فائدہ کیا ہے؟۔
غیر رسمی معیشت کے اثرات سنگین ہیں۔ ٹیکس بیس محدود رہتی ہے۔ حکومت کا بالواسطہ ٹیکسز پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ مہنگائی کا دباؤ پہلے سے پسے ہوئے عام آدمی پر آتا ہے۔ دستاویزی کاروبار مسابقتی نقصان کا شکار ہوتا ہے کیونکہ وہ ہر مرحلے پر ٹیکس ادا کر رہا ہوتا ہے جبکہ غیر رسمی کاروبار کم لاگت پر چل رہا ہوتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا ہے۔ اصول سادہ ہیں۔ ٹیکس شرح کم مگر دائرہ وسیع، قوانین سادہ، ڈیجیٹل انوائسنگ لازم اور رضاکارانہ تعمیل کی حوصلہ افزائی۔ صرف جرمانوں اور چھاپوں سے معیشت دستاویزی نہیں بنتی،اعتماد سے بنتی ہے۔
ریاست کو یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا وہ واقعی سب کو چور سمجھتی ہے؟ اگر ایماندار کو کلین سرٹیفیکیٹ دینے سے افسر کو اپنے کیریئر کا خوف ہو تو پھر مسئلہ ٹیکس دہندہ میں نہیں، نظام میں ہے۔
کالا دھن صرف اخلاقی مسئلہ نہیں۔ یہ ادارہ جاتی بے یقینی کا ردِعمل بھی ہے۔ جب ریاستی سوچ شک پر قائم ہو تو معیشت بھی دفاعی ہو جاتی ہے۔ اور دفاعی معیشت ترقی نہیں کرتی، صرف خود کو بچاتی ہے۔حل واضح ہے۔قانون کی یکساں عملداری۔ٹیکس نظام کی سادگی۔
پالیسی کا تسلسل اور ایمانداری کو مشکوک بنانے کے بجائے قابلِ تحسین بنانا۔ اصل جنگ کالے دھن کے خلاف نہیں، اس ذہنیت کے خلاف ہے جو یہ فرض کر چکی ہے کہ ''سب چور ہیں''۔ جس دن ریاست یہ مان لے گی کہ سب چور نہیں اور ایماندار کو عزت ملے گی، اس دن غیر رسمی معیشت خود سکڑنا شروع ہو جائے گی اور معیشت کا رنگ واقعی سفید ہونے لگے گا۔

ٹیگز: