ریاست کے اندر ریاست کا قانون یقینی طور پر انتشار اور خرابی کی طرف لے جاتا ہے۔ جہاد کا حق صرف ریاست کے پاس ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ عناصرایسے ہیں جو ملک میں انتشار بڑھانے کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے عناصرنہ صرف ملک دشمن ہیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنیں گے۔ پاکستان کی سالمیت کا تحفظ سب سے پہلے ہے اور اسی مقصد کے لئے سپہ سالار میدان میں ہیں اور دشمن کی ہر میلی آنکھ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جرأت اور یقین کسی بھی ریاست کی قیادت کے وہ اوصاف ہیں جو بحرانوں سے باہر نکلنے میں مدد دیتے ہیں ، اور ہم نے دیکھا ہے کہ فیلڈ مارشل نے جس طرح بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور جارحانہ پالیسی کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ اسی طرح ملک کے اندر جتنے بھی انتشاری ٹولے ہیں ، ان کی بھی نیندیں اڑا دی گئی ہیں۔ پاکستان اس وقت جن سلامتی اور سماجی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ پراپیگنڈا ، فیک نیوز اور بیانیہ کا ہے۔ ایسے ماحول میں جب ریاستی اختیار، مذہبی تعبیر اور قومی مفاد کو دانستہ یا نادانستہ طور پرخراب کرنے کی سازش ہو رہی ہے ،وہاں کسی ذمہ دار قائد کا دوٹوک اور واضح مؤقف محض ایک تقریر نہیں بلکہ ایک وژن ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا قومی علما و مشائخ کانفرنس سے خطاب انہی معاملات کی کڑی ہے۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ ایک اسلامی ریاست میں جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے، نہ کسی فرد کو، نہ گروہ کو اور نہ کسی ہجوم کو۔۔ دراصل یہ ایک جملہ نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری انتہاپسند بیانیے کی جڑ پرکاری ضرب ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی اورشدت پسندی کا سب سے خطرناک پہلو ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اسے مذہب کی آڑ میں اخلاقی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ جب کوئی ریاستی سطح پر کھڑا ہو کر یہ کہتا ہے کہ تشدد، بغاوت اور قتل و غارت اسلام نہیں بلکہ فتنہ ہے، تو یہ بات محض سلامتی پالیسی نہیں رہتی بلکہ دینی، آئینی اور اخلاقی اعلان بن جاتی ہے۔یہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ پیغام کسی سیاسی جلسے یا عوامی نعروں کے ہجوم میں نہیں دیا گیا بلکہ ملک بھر کے علما و مشائخ کے سامنے دیا گیا۔ اس فورم کا انتخاب خود اس بات کی علامت ہے کہ ریاست مذہب سے تصادم نہیں بلکہ ہم آہنگی چاہتی ہے، مگر ایسی ہم آہنگی جوآئین، قانون کے دائرے میں ہو۔ علما کا انتہاپسندی، فرقہ واریت اور تشدد کے خلاف یک زبان ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ریاست کا بیانیہ واضح ہو تو مذہبی طبقہ بھی انتشار نہیں بلکہ استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز ، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خطاب میں قومی یکجہتی، امن، رواداری کا پرچار کیا گیا ہے۔ سپہ سالار کے بیان سے ہی بھی ثابت ہواہے کہ پاکستان محض ایک خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے۔ میثاقِ مدینہ کا حوالہ اور پاکستان کے قیام کی فکری بنیادوں سے اس کا ربط یہ بتاتا ہے کہ ریاستی نظریہ نہ تو کسی وقتی سیاسی فائدے کے لیے گھڑا گیا ہے اور نہ ہی محض نعروں کا مجموعہ ہے۔ اسی طرح حرمین شریفین کے تحفظ میں پاکستان کے کردار کا ذکر کسی جذباتی ابھار کے لیے نہیں بلکہ قومی ذمہ داری اور اعتمادِ ایمان کے اظہار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ایک اور نہایت اہم نکتہ ان کی جانب سے دہشت گردی اور پاکستان کے نظریے کے درمیان واضح لکیر کھینچنا ہے۔ یہ کہنا کہ دہشت گردی پاکستان کا نظریہ نہیں بلکہ دشمنوں کا ہتھیار ہے، دراصل اس الزام کا جواب بھی ہے جو برسوں سے پاکستان پر لگایا جاتا رہا۔ پاکستان کبھی دہشت گردوں کا حامی نہیں رہا بلکہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکارہے۔ فیلڈ مارشل نے دشمن کو للکارتے ہوئے دو ٹوک موقف اپنایا ہے کہ ریاست اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ دشمنوں کا سامنا کھلے عام کرنے اور خفیہ راستوں سے انکار کا اعلان ایک پیشہ ور چیف اور مدبرقیادت کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ کسی ایسے شخص کی جس کے پاس صرف کھوکھلے الفاظ ہوں۔ یہ ساری باتیں اس تناظر میں اور بھی معنی خیز ہو جاتی ہیں جب ہم انہیں موجودہ سیاسی ماحول سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ایک طرف نظم و ضبط، فکری وضاحت اور ادارہ جاتی ذمہ داری ہے، اور دوسری طرف اشتعال، ذاتی انا اور نعروں میں لپٹا ہوا انتشار۔ سیاست اگر قومی مفاد، قانون اور اخلاق سے کٹ جائے تو وہ محض ہجوم کی نفسیات کا کھیل بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے میں کسی غیر ذمہ دار شعبدہ باز کی حمایت ایک حماقت سے کم نہیں۔ افواہ ساز فیکٹری کا بیانیہ ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنا چاہتا تھا مگر اس بیانیہ کو تار تار کر دیا گیاہے۔ دوسری جانب فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کا بیانیہ اسی لیے مضبوط دکھائی دیتا ہے کہ وہ اشتعال کا جواب اشتعال سے نہیں بلکہ وضاحت اور دلائل سے دینے کے قائل ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان خوش نصیب ہے کہ اس نازک دور میں اس کے پاس ایسا قائد موجود ہے جو بلند آواز کے بجائے مضبوط مؤقف، نعروں کے بجائے نظریہ اور وقتی مقبولیت کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ سنجیدہ قیادت کی پہچان یہی ہے کہ وہ قوم کو خواب نہیں بلکہ سمت دیتی ہے، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ مؤقف اسی سمت کا واضح اشارہ ہے۔