ہر ملک اور قوم کا کوئی نہ کوئی کلچر ہوتا ہے پتنگ بازی ہمارا کلچر تھا اور ہے یہ الگ بات ہے کہ پتنگ بازی کو ہم نے خونی کھیل بنا دیا جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگانا پڑی اب کئی سال بعد پنجاب حکومت نے کرفیوکے سائے میں بسنت منانے کی ا جازت دیدی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کون کروائے گا خاص کر موٹر سائیکل سواروں کو تین دن بند کرنے سمیت ایریل لگوانے کا بھی حکم جاری کیا جا رہا ہے کیونکہ کوئی وزیر مشیر موٹر سائیکل پر سفر تو کرتا نہیں جو انہیں پابندی کا فرق پڑے گا اسی طرح جو ایریل سو روپے کا ملتا اب وہی پانچ سات سو کا ملے گا غربت کے مارے موٹرسائیکل سواراب مہنگے ریٹ پر تار لگوائیں گے نہ لگوانے پر پولیس کی دیہا ڑیاں لگیں گی حکومت اگر پولیوکے قطرے فری پلوا سکتی ہے تو موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ ،سائیڈ مرراور انٹینے فری کیوں نہیں دے سکتی؟ اس کے بعد اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرے تو بھلے جرمانہ کرے یا موٹر سائیکل بند کرے کسی کو اعتراض نہ ہو گارہی بات قوانین پر عمل کرانے کی تو پہلے قوانین پر عمل کون کر اور کرا رہا ہے کہا جا رہا ہے کہ لاہور میں بسنت کے سلسلے میں پولیس نے مکمل سکیورٹی پلان تیار کر لیا ہے،شہر کے 40 مقامات کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے جہاں گزشتہ برسوں میں پتنگ بازی سے جانی و مالی نقصانات پیش آئے تھے،ریڈ زون میں پولیس اور ٹریفک پولیس کی مشترکہ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، شہریوں کی موٹر سائیکلوں پر تار لگانے کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ناکہ بندیاں بھی کی جائیں گی پولیس حکام کے مطابق ڈور اور پتنگ کی ٹرانسپورٹیشن کی اجازت حکومتی نوٹیفیکیشن کے بعد دی جائے گی، جبکہ ریڈ زون میں سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کے ذریعے نگرانی بھی کی جائے گی عجیب اتفاق ہے کہ ملک میں کوئی بھی تہوار ہو موبائل پر پابندی لگ جاتی ہے جگہ جگہ پولیس ناکے لگا کر شہریوں کی تذلیل کی جاتی ہے حالات کے مارے عوام کو کچھ دیر کیلئے خوش بھی نہیں ہونے دیا جاتا، پاکستان میں تو پتنگ سازی صنعت کی شکل اختیار کر گئی ہے، دیہاتوں میں تو پتنگوں کے میچ بھی رکھے جاتے ہیں اور ان کی خوب ذوق و شوق سے تیاری کی جاتی
ہے، پتنگ کی ڈور کو تیز دھار بنایا جاتا ہے تاکہ پیچ لگتے ہی حریف کی پتنگ کٹ جائے ،رپورٹ کے مطابق تاریخ عالم میں پتنگ اڑانے کا اولین تحریری حوالہ 200 قبل مسیح میں ملتا ہے جب چین میں سپہ سالار ہان سینگ نے دشمن کے ایک شہر کے باہر پڑاؤ ڈال رکھا تھا، لیکن وہ براہ راست حملے کا خطرہ مول لینے کے بجائے ایک سرنگ کھود کر شہر میں داخل ہونا چاہتا تھا، لیکن اسے یہ اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ سرنگ کتنی لمبی کھودنا پڑے گی، اس لیے اس نے پڑاؤ کے مقام سے شہر کی فصیل تک کا فاصلہ ناپنے کی ٹھانی۔ اس نے دیکھا کہ ہوا اس سمت کی ہی چل رہی ہے جہاں وہ سرنگ کے ذریعے حملہ آور ہونا چاہتا ہے اور وہ یہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے پڑاؤ والے علاقے سے اس جانب ہوا کے ساتھ کاغذ اڑتے جاتے ہیں۔ بس یہ دیکھ کر اس نے ایک کاغذ لیا، اور اس میں ایک درخت کے چند تنکے باندھ دیئے تاکہ اسے ہوا کا دباؤ حاصل ہو سکے جو اس کے اڑنے میں مدد گار ثابت ہو اور پھر ایک لمبے دھاگے کی مدد سے اسے اڑا دیا، جب وہ کاغذ مطلوبہ مقام تک پہنچ گیا تو اسے ناپ کر واپس کھینچ لیا، اور ڈور کو ناپ کر فاصلہ معلوم کر لیا،یہی دنیا کی پہلی پتنگ تھی، جو ایک جنگی مقصد حاصل کرنے کے لیے اڑائی گئی تھی۔ پھر قدیم چین میں پتنگ سازی فوجی استعمال کے لیے کی جانے لگی، جس میں فوج کا جاسوسی کا کام بھی تھا، اپنے ہی فوجیوں کو ایک پڑاؤ سے دوسرے پڑاؤ تک پیغام رسانی اور اپنے ساتھیوں کو اپنی پوزیشن بتانے کے لیے پتنگیں اڑائی گئیں، اور حیران کن بات یہ ہے کہ چھوٹے ہتھیار تک ایک جگہ سے دوسری جگہ ان پتنگوں سے پہنچائے گئے، چین اور کوریا سے ہوتا ہوا جب پتنگ بازی کا یہ فن جاپان پہنچا تو عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ جاپان میں ایک سخت قانون نافذ کر دیا گیا جس کے تحت صرف شاہی خاندان کے افراد، اعلیٰ سول اور فوجی افسران، اور چند مراعات یافتہ معزز شہریوں کو پتنگ اڑانے کی اجازت دی گئی، ایشیائی ممالک میں پتنگ اڑانا ایک عام شغل ہے امریکی پتنگ بازی ایسوسی ایشن یا امریکن کائٹ فلائرز ایسوسی ایشن ایک عالمی پتنگ بازی کی تنظیم ہے ،بھارت میں بھی پتنگ بازی موسم بہار کی آمد پر کی جاتی ہے افغانستان میں پتنگ بازی ایک مشہور کھیل ہے،داری میں اسے گڈی پارن بازی کہتے ہیں پابندی کے باوجود پاکستان میں قاتل ڈور کا خونی کھیل جاری رہا ہے جبکہ انتظامیہ پتنگ، ڈور بنانے اور اڑانے والوں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے، پتنگ بازی کے دوران دھاتی ڈور کے فیڈر پر ٹکرانے سے ٹرانسفارمر بند ہو جاتے ہیں جس سے صارفین کے برقی آلات جلنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور مالی نقصانات اور صارفین کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی میں بھی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پولیس پتنگ کے کاروبار میں ملوث لوگوں سے بھتہ وصول کرتی ہے جس کی وجہ سے اس تہوارکوپابندی کا سامنا کرنا پڑا اگرپولیس چاہے تو اس کھیل کو کھیل بنایا جا سکتا ہے پولیس اس خونی کھیل میں برابر کی شریک ہے اگر پولیس قانون پر عملدرآمد کرانے میں عوام سے مخلص ہو تو یہ کام کبھی نہیں ہو گا مگر ہمارے ملک کی بدنام زمانہ پولیس اپنی جیب گرم کرنے کے چکر میں ان پتنگ فروشوں سے مل کر پتنگ بازی کو ہوا دے رہی ہے،پولیس بڑے ڈیلروں کو پکڑنے کی بجائے معمولی افراد کو پکڑ کر اعلیٰ افسران کو سب اچھاکی رپورٹ دیتی ہے بسنت موسم بہارکی آمد کی خوشی کا تہوار ہے جسے ہم نے خونی بنا دیاجس میں ہزاروں بچے اور نوجوان اس خونی کھیل کی نذر ہو چکے ہیں، چند لمحوں کی خوشی کی خاطر ماؤں کے بچے،بہنوں کے بھائی اور بچوں کے باپ دھاتی ڈور سے اپنے گلے کٹوا کر اس دنیا سے چلے جاتے یا ساری عمر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں، دھات سے بنائی جانے والی ڈور تلوار کی طرح لوگوں کی گردنوں کو کاٹ کے رکھ دیتی ہے اور یوں چند لوگوں کی یہ تفریح کئی گھروں میں صف ماتم بچھا دیتی ہے،ہمارا میڈیا اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے لیکن ہم لاپروائی سے اس خونی کھیل کو اب قاتل بنائے بیٹھے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرائے تاکہ عوام کی زندگیاں اس جان لیوا کھیل سے محفوظ رہ سکیں،بہترین تفریح ، صرف دھاتی تار و کیمیکل ڈور پر پابندی لگ جائے تو یہ تہوار جان لیوا نہیں بلکہ پرمسرت ہے حکومت سیاست کوسیاست اورکھیل کو کھیل ہی رہنے دے اگرکئی سال بعد لاہوریوں کو خوشی ملی ہے تو اسے خوشی ہی رہنے دیا جائے مختلف قوانین کی آڑ میں شہر کو قید خانہ نہ بنائے؟؟؟۔