بھارت نے پاکستان پر کھلے عام جنگ مسلط کر دی ہے۔ 22اپریل 2025ءکو پہلگام میں دہشت گردی کا ایک المناک واقعہ ہوا جس میں مسلح افراد نے سیاحوں کو بے دردی سے قتل کرکے ایک سانحے کو جنم دیا۔ اس واقع کے ٹھیک 5منٹ کے اندر اندر بھارتی میڈیا نے پاکستان کو اس واقع کا ذمہ دار قرار دے کر ایک مخصوص فضاءپیدا کرنا شروع کر دی۔ پاکستان نے فوراً اس واقع کی مذمت کی لیکن کیونکہ ہندوستان میں قائم فاشسٹ مودی سرکار پاکستان کے خلاف مسلسل دراندازیوں میں مصروف ہے۔ کے پی ہو یا بلوچستان بھارتی ایجنسی را یہاں بڑے منظم طریقے سے دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا اور مسلسل حالت جنگ میں رکھنا ہے تاکہ پاکستان تعمیر و ترقی کا عمل جاری نہ رکھ سکے۔ 23تاریخ یعنی پہلگام واقع کے اگلے روز سندھ طاس معاہدے کو معطل، سفارتی تعلقات محدود، تمام پاکستانیوں کے ویزے منسوخ، دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر 48گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا۔ گویا پاکستان کے ساتھ اعلان جنگ کر دیا۔ اگلے دن پاکستان میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا اور ترکی بہ ترکی اقدامات بارے فیصلے کئے گئے۔ کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مسلح افواج کے سربراہاں کے علاوہ تمام ذمہ داران شریک ہوئے۔
کمیٹی نے سیاحوں کی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 23اپریل 2025ءکو اعلان کردہ بھارتی اقدامات کا جائزہ لیا اور انہیں انتہائی غیر ذمہ دارانہ، یکطرفہ، غیر منصفانہ سیاسی محرکات پر مبنی اور قانونی میرٹ سے عاری قرار دیا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے قرار دیا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک حل طلب تنازع ہے جسے اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے ذریعے تسلیم کیا گیا ہے پاکستان کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
اعلامئے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے 23اپریل 2025ءکے بھارتی بیان میں پوشیدہ خطرے کی مذمت کی۔ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کی ریاستی سرپرستی میں بیرون ملک قتل و غارت یا غیرملکی سرزمین پر کی جانے والی کوششوں کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہئے۔ یہ گھناﺅنے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتغ ہوئے کئے گئے تھے جنہیں حال ہی میں پاکستان اور دیگر ممالک نے ناقابل تردید شواہد کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے اور پانی روکنے کے انڈین اعلان کے حوالے سے پاکستان نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دوطرفہ ہے اور اس پر عالمی بنک کی نگرانی بھی ہے اس لئے اسے فریق واحد اپنے طور پر منسوخ نہیں کر سکتا ہے۔ کسی تنازع کی صورت میں مصالحتی فورم موجود ہیں اس لئے اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے جنگ تصور کیا جائے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پاکستان نے بھارتی اقدامات کے جواب میں بھارتی دفاعی، فضائی اور بحری مشیر ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیئے ہیں اور انہیں پاکستان چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ سارک ویزہ سکیم کے تحت سوائے سکھ یاتریوں کے جاری تمام ویزے منسوخ کر دیئے ہیں۔ بھارتی ہائی کمیشن کا عملہ 30افراد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق 30اپریل سے ہوگا۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت بھی بند کر دی ہے اور سب سے اہم بھارتی فضائی کمپنیوں کے لئے پاکستانی فضائی حدود بھی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس طرح پاکستان نے بھارتی اعلانات کو اعلان جنگ تصور ہی نہیں کیا بلکہ عملاً اس کے مطابق جنگی اقدامات بھی اٹھا لئے ہیں۔ ہم نے اپنی فضائی سرحدوں کو بھی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ واہگہ بارڈر بھی حالت جنگ میں آ گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ نہری پانی کے حوالے سے جو تنازعہ چل رہا تھا اور بہت سنجیدہ صورت اختیار کر چکا تھا، حل کر لیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں کہ اس مسئلے کو کس طرح حل کرنا ہے جس پر پیپلزپارٹی نے اتفاق کیا ہے۔ اس طرح یہ مسئلہ اب مسئلہ نہیں رہا ہے۔ قوم نے اس حوالے سے یکجہتی اور اتفاق کا ثبوت دیا ہے۔ پوری قوم بھارتی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی نظر آنے لگی ہے۔ ہماری مسلح افواج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار اور پرعزم ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے یہ اچانک سب کچھ کیوں کیا ہے؟ پاکستان کے ساتھ اس کی دشمنی اپنی جگہ، پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ہمہ وقت خواہش بھی اپنی جگہ موجود ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلگام واقعہ یا ڈرامہ رچانے کا حقیقی مقصد کیا ہو سکتا ہے؟۔
ایک بات سوچنے کی ہے کہ اگست 2019ءمیں متنازعہ اور مقبوضہ کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کرنے کے بعد سے بھارت سرکار یہاں ایک طویل منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ یہاں کی ڈیموگرافی یعنی آبادی میں ہندو مسلم تناسب کو تبدیل کرنے کی کاوشیں کر رہی ہے۔ امیر ہندوﺅں کو یہاں بسایا جا رہا ہے۔ یہاں سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول ترتیب دینے کی ان تھک کاوشیں کی جا رہی ہے۔ لاکھوں فوجیوں کی یہاں تعیناتی امن و امان قائم رکھنے کے لئے ہی ہے پھر کشمیر میں عالمی ٹورسٹ مقامات بھی قائم کئے جا رہے ہیں۔ کئی ممالک کے ساتھ اس حوالے سے معاہدے بھی کئے جا چکے ہیں۔ ان معاہدوں کو عملی صورت دینے کے لئے سازگار ماحول کے قیام کا انتظار کیا جا رہا تھا ۔
ہاں اگر یہ سچ ہے کہ بھارت سرکاری نے اپنا اتنا بڑا نقصان کر ڈالا ہے لاکھوں فوجیوں کی موجودگی اور کشمیر میں مارشل لاءجیسی صورتحال کی موجودگی کے باوجود پاکستان نے اگر اتنا بڑا آپریشن کر ڈالا ہے تو پھر بھارتی سرکاری پر لعنت ہو کہ وہ پاکستانی دراندازوں کو روک نہیں سکے۔ یہ ناصرف بھارت کی سکیورٹی کا ناکامی ہے بلکہ سیاسی طور پر مودی سرکار کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔ یہ جو کچھ نظر آ رہا ہے یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہے۔ اس کے پس پردہ بھی کچھ ہے اور جو پس پردہ ہے وہ اصل ہے۔ وہی سچ ہے، ہمیں اس کی تلاش بھی جاری رکھنی چاہئے۔