Wed, September 16, 2026

دفاعی کمیٹی کی پہلگام واقعے کی مذمت، بھارت کے الزامات مسترد

دفاعی کمیٹی کی پہلگام واقعے کی مذمت، بھارت کے الزامات مسترد

اسلام آباد : اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین فتح اللہ خان کی سربراہی میں ہوا، جس میں پہلگام میں ہونے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کیا۔ اجلاس کا آغاز چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی والدہ اور بھابھی کے انتقال پر دعا اور فاتحہ خوانی سے ہوا۔

کمیٹی نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کے لیے کوشش کرتا آیا ہے اور خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، مگر اگر بھارت نے کوئی غیر ضروری قدم اٹھایا تو پاکستان اس کا مؤثر جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

کمیٹی نے بھارت کے حالیہ اقدامات جیسے سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اٹاری بارڈر کی بندش اور سفیروں کی واپسی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایسے فیصلے خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔

اجلاس میں ’’پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2024‘‘ پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ اس بل کے ذریعے نیوی کے قانون میں فلاحی کاموں، الیکٹرانک جرائم اور دیگر اصلاحات شامل کی جا رہی ہیں تاکہ تمام مسلح افواج کے قوانین میں یکسانیت آ سکے۔ کمیٹی نے بل کی منظوری کی سفارش کی۔

مزید برآں، معدنی وسائل کی میپنگ میں نجی شعبے کی شمولیت پر بات کرتے ہوئے کمیٹی نے زور دیا کہ یہ کام سرویئر جنرل آف پاکستان کے ذریعے ہی کیا جائے تاکہ حساس معلومات محفوظ رہیں۔ آخر میں، دفاعی تعلیمی اداروں اور وزارت تعلیم کے ماتحت اداروں میں فنڈز کی غیر مساوی تقسیم پر بات ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی کے حکام کو بلا کر وضاحت لی جائے گی۔

ٹیگز: