Wed, September 16, 2026

بلاول کو آئینہ!

بلاول کو آئینہ!

آئی جی سے سپاہی جی تک پولیس ، صوبائی سے شہری تک انتظامیہ ، ذاتی مفاد کی بنیاد پر وڈیروں کا خود غرضانہ تعاون اور اندرون سندھ لوگوں کی ’’مجبورانہ‘‘حمایت حاصل ہونے دعویٰ کے باوجود اگر پیپلز پارٹی سندھ میں قوم پرستوں کے اتحاد جی ڈی اے کی وکٹ پر کھیلتی نظر آئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شدید دبائو میں ہے ۔
یاد رہے ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب کے طفیل اقتدار حاصل کرنے کے باوجود پنجاب مخالف سندھی عصبیت کو سیاسی حکمت عملی کی بنیاد بنایا تھا جس نے ’’سندھ کارڈ‘‘ کے نام سے شہرت پائی جو سیاسی بلیک میلنگ کا کارگر حربہ رہا ہے۔ لیکن اب سندھ کارڈ مکمل طور پر پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں نہیں رہا بلکہ کافی حد تک جی ڈی اے اس میں حصہ دار بن چکی ہے۔ جس کا ثبوت نہروں کے معاملے میں پیپلز پارٹی کا جی ڈی اے کی وکٹ پر کھیلنے پر مجبور ہو جانا ہے۔ حتی کہ عمر کوٹ کے الیکشن میں کامیابی بھی پیپلز پارٹی کو اس قابل نہیں بنا سکی کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں تو درکنار یونین کونسلوں کی سطح پر بھی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے والی قوم پرست جماعتوں کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑی نہیں ہو سکی بلکہ جی ڈی اے نے نہروں کے معاملے میں سندھ میں جو فضاء پیدا کر دی ہے اسی فضاء میں پرواز پیپلز پارٹی کی مجبوری بن گئی ہے۔ نہروں کے حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا قوم پرست لیڈر ایاز لطیف پلیجو اور قادر مگسی سے براہ راست رابطہ بھی پیپلز پارٹی کی سیاسی اہمیت پر بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ 
پیپلز پارٹی کس قدر انڈر پریشر ہے کہ جی ڈی اے کی وکٹ کے بعد اب (ن) لیگ کی وکٹ پر کھیلنا شروع کر دیا ہے ۔ سندھ میں طالبات کو پنک سکوٹی دینے کا اعلان یہی پس منظر رکھتا ہے تا ہم اس کا کریڈٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ہی جائے گا کیونکہ یہ کام وہ پنجاب میں پہلے ہی کر چکی ہیں۔ اس لئے سندھ حکومت جتنے منصوبوں کا اعلان کرے گی عوامی سطح پر اسے مریم نواز کی نقل ہی سمجھا جائے گا۔ گزشتہ کالم میں نجی یونیورسٹی کے طالب علم امیتاز جوکھیو نے (ن) لیگ کی ’’شکریہ مریم نواز مہم‘‘کو پیپلز پارٹی کے لئے بڑا سیاسی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس کے مثبت پہلو کی ان الفاظ میں جو نشاندہی کی تھی اس سے بھی مریم نواز کے کریڈٹ کی توثیق ہوتی ہے۔ امتیاز جوکھیو نے کہا تھا ’’ اب وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو بلاول بھٹو کی ضروریات کے ساتھ سندھ کے عوام کی ضروریات پر توجہ مبذول کرنی پڑے گی‘‘۔
پنجاب حکومت کو انڈر پریشر لانے کے لئے بلاول وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ، شرجیل میمن ، شازیہ مری، ندیم افضل چن ، چوہدری منظور اور سندھ حکومت کے ترجمانوں نے پنجاب میں کسانوں کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بیان بازی شروع کر دی ہے جس پر پنجاب حکومت کی ترجمان اور وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے جواب دیتے ہوئے آئینہ دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا ’’بلاول کو پنجاب کے کسانوں کا تو خیال آ گیا ۔ سندھ کے ہاریوں کا خیال نہیں آیا اگر پنجاب حکومت نے گندم کی خریداری نہیں کی تو کسان کو لاوارث بھی نہیں چھوڑا ۔ جلسوں میں باتیں کرنا بہت آسان ہے کسانوں کے حقوق کی آڑ میں سیاست کرنے والے پنجاب کے کسان  کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں جبکہ سندھ کے کسانوں کی حالت زار پر مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بلاول کی جانب سے بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کسانوں کے مسائل پر سیاست چمکانہ آسان ہے لیکن حل دینا اصل قیادت کا کام ہوتا ہے افسوس کا مقام ہے ۔ سندھ کے کسانوں کی حالت زار پر کسی نے بات نہیں کی۔ کسان سے ہمدردی جتانے والوں نے گندم کا ریٹ مقرر کیا نہ کسان کارڈ دیئے پنجاب میں کسانوں پر دکھی ہونے والے بتائیں کیا سندھ میں گندم کی خریداری شروع کر دی ہے کیا سندھ میں گندم کی امدادی قیمت مقرر کر دی گئی ہے جبکہ پنجاب حکومت نے کسانوں کو بڑا پیکیج دیا ہے۔ پنجاب میں مربوط شفاف پالیسی کے تحت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ نجی شعبے کو گندم کی خریداری کی اجازت دی گئی ہے تا کہ کسانوں کو فوری ریلیف حاصل ہو۔ فلور مل مالکان کو پچیس فیصد گندم کی خریداری کا پابند کیا گیا ہے۔
عظمیٰ بخاری کے جواب میں سندھ حکومت کی ترجمانی سمیتا افضال نے طعنہ دیا ’’ عظمیٰ بخاری کا سیاسی قدر اتنا نہیں کہ چیئرمین بلاول پر تنقید کر سکیں۔ بلاول نے جو باتیں کیں وہ پنجاب کے کسانوں کی نمائندگی تھی پنجاب کا کسان رو رہا ہے۔ پنجاب حکومت کی وزیر اطلاعات پر افسوس اس لئے کہ وہ پالیسیوں سے مکمل طور پر لاعلم ہیں‘‘۔ سمیتا افضال کے اس بیان پر غور کیا جائے اس میں کسی ایک ایسے قدم کا ذکر نہیں جو سندھ کے کسان یا ہاری کو فائدہ پہنچانے کے لئے اٹھایا گیا ہو ۔ مثال کے طور پر پنجاب میں ویٹ فارمر سپورٹ  پروگرام کے تحت دس ارب روپے کا پیکیج دیا گیا ہے ۔ گندم کے کاشتکار کو پانچ ہزار روپے فی ایکڑ ، کسان کارڈ سے کسانوں نے 55 ارب روپے کی زرعی ضروریات خریدیں ، گندم کے کاشتکاروں کو ایک ارب روپے سبسڈی کے ساتھ 9500 ٹریکٹرز جبکہ 2 ارب پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ہزار ٹریکٹر مفت دیئے گئے۔ ٹیوب ویل سولرآئزیشن کے لئے 8 ارب روپے کی سبسڈی ، 8 ارب روپے سبسڈی سے پانچ ہزار سپر سیڈرز کی فراہمی ، پنجاب میں سب سے زیادہ گندم اگانے والے کسانوں کو 45 لاکھ روپے مالیت کا 85 ہارس پاور کا ٹریکٹر ، دوسرے نمبر آنے والے کو 40 لاکھ روپے کا 75 ہارس پاور کا ٹریکٹر ، تیسرے نمبر پر آنے والے کو 30 لاکھ روپے مالیت کا 60 ہارس پاور کا ٹریکٹر دینے کا اعلان جبکہ پنجاب کے ہر ضلع مں سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والے کسان کو 10 لاکھ  روپے ، دوسرے نمبر پر آنے والے کو 8 لاکھ روپے اور تیسرے نمبر پر آنے والے کو 5 لاکھ روپے ملیں گے۔ کاشتکاروں کی رہنمائی کے لئے سوا ارب روپے کا ایگریکلچر انٹری پروگرام اور پنجاب بنک سے 100 ارب روپے کی کریڈٹ لائنیں اس کے علاوہ ہے جبکہ اگیتی کپاس کاشت کرنے والوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا ایسے کسانوں کو 25 ہزار روپے فی بلاک اور مجموعی طور پر ساڑھے 37 کروڑ روپے ملیں گے کسان کارڈ حاصل کرنے والے کسانوں کی تعداد 6 لاکھ ہے۔ کیا پنجاب کے کسانوں کا درد رکھنے والے بلاول ، وزیر اعلیٰ مراد عللی شاہ ، ندیم افضل چن ، چوہدری منظور اور سندھ حکومت کی ترجمان سمیتا افضال اور دیگر عظمیٰ بخاری کے اس سوال کا جواب دیں گے ۔ 16 سال کی حکومت نے سندھ کے ہاریوں کے لئے کوئی ایک کام بھی ایسا کیا ہے جو مریم نواز کی حکومت نے صرف ایک سال میں کر دکھایا ہے ۔ 

ٹیگز: