پاکستان آج کل ایک بار پھر سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ ملک میں اس وقت فوجی عدالتوں کے خلاف بعض لوگ نامناسب پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اس وقت ملک جس طرح کے حالات کا شکار ہے اس کے لئے ہمیں اپنی پوری توانائیاں دہشت گردی کی جنگ کے خاتمے پر مرکوز کرنی چاہئیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جتنے بھی دہشت گرد گرفتار کئے جائیں گے ان کو عام عدالتوں سے سزائیں دلانا بڑا مشکل ٹاسک ہو گا کیونکہ ان کے بہت سے ساتھی سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں وہ گواہوں اور ثبوتوں کو عدالت میں پیش کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کریں گے،اس طرح مزکورہ مقدمات میں ملوث لوگ سول قانون میں گنجائش اور مختلف سسٹم سے فائدہ اٹھا کر بچ نکلیں گے۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ جاسوسی نیٹ ورک اور ملک دشمن قوتوں سے نمٹنے کے لئے قیام پاکستان سے ہی ایک مٔوثر ہتھیار اور کردار کا حامل رہا ہے۔ اس لئے ملکی سلامتی کے لئے اس پر عمل درآمد کیا جانا بہت ضروری ہے تا کہ ان ملک دشمن عناصر کو ان فوجی عدالتوں سے سزائیں دلوائی جا سکیں۔ یہ بھی بات بڑی اہم ہے کہ اس وقت ملک جس طرح کے حالات کا شکار ہے عام شہریوں کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں نہیں لے کر جایا جانا چاہئے کیونکہ اس جنگ کا مٔوثر طور پر مقابلہ کرنے کے لئے پوری قوم کا ایک پیج پر ہونا بہت ضروری ہے ۔ اس سے اداروں اور عوام کے درمیان یکجہتی کی فضا پیدا ہو گی جو کہ اس دہشت گردی کی جنگ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
دہشت گردوں کی کارروائیوں میں مسلح افواج کے بہت سے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور ہنوز جاری ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں آئے روز شہریوں کا بھی جانی نقصان ہو رہا ہے ظاہر ہے ان کے لواحقین بھی چاہتے ہیں کہ ملک دشمن دہشت گردوں کو قانون کے مطابق
سزائیں دے کر ان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ اس کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کے پیاروں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلا کر قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ ساری دنیا میں غیر معمولی حالات میں سنگین جرائم سے نمٹنے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ قانون نافظ کرنے والے اداروں کو شکایت تھی کہ ہم بڑی جدو جہد کے بعد دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لاتے ہیں مگر عدالتوں پر دہشت گردوں کا خوف طاری ہے۔ جج صاحبان ملزموں کو سزا دینے کی بجائے ان سے جان چھڑانے کے لئے کسی سقم یا کسی چھوٹے موٹے عذر کا بہانہ بنا کر انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ان وارداتوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے اور پاکستان اورا س کے عوام کو دہشت گردی کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے حکومت کو اپنے جملہ ریاستی وسائل انسدادِ دہشت گردی کی اس نئی شروع ہونے والی جنگ میں استعمال کرنے کی موجودہ حکمتِ عملی مزید مٔوثر بنانے کے لئے ہمہ جہتی اقدامات کرنے ضروری ہیں اور ایک آل آؤٹ وار اسٹریٹیجی بھی مرتب کی جا نی چاہئے تا کہ دہشت گردوں کو یہ کھلا پیغام جائے کہ پاکستانی قوم یتیم اور لاوارث نہیں کہ انسان دشمن اور قوم بیزار عناصر کی بلاجواز اور غیر انسانی ہلاکت خیزیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انتہا پسند عناصر ریاستی رٹ اور حکومتی عملداری کو چیلنج کرنے کے جنون میں اس خیال سے بھی ہیں کہ حکومت تھک ہار جائے گی اور عوام بے چینی، انتشار، خوف و ہراس اور عدم تحفظ سے گھبرا جائیں گے اور ان کے لئے اہداف تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔ ریاستی اتھارٹی اور ایک متحرک جمہوری حکومت کے عوامی مینڈیٹ سے متصادم ان خود سر قوتوں کو یہ بات باورکرانا بھی بہت ضروری ہے کہ وہ زمینی حقائق اور ریاستی اتھارٹی کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کریں کیونکہ حکومت اپنے عوام کی جان و مال کے تحفظ سے اغماض نہیں برت سکتی، ریاست کا بنیادی فریضہ اپنے عوام کی آسودگی ، ان کے جان و مال، عزت و آبرو اور مستقبل کے تحفظ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے سے مشروط ہے۔
ملکی سلامتی پر مامورہماری مسلح افواج، سیکورٹی ادارے اور خود اہلِ پاکستان اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ترقی و معاشی استحکام کے قطعی سفر کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ انتہا پسندوں کی طرف سے کھڑی کی جائے یا ان حلقوں کی طرف سے جو جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں ملوث ہوں۔ ہماری مسلح افواج نے ان ملک دشمن قوتوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ ملک کسی محاذ آرائی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، دہشت گردی میں گھرے ہوئے قومی منظر نامے کو جلد سے جلد اس گمبھیرصورت حال سے نکال کر دم لیں گے۔دہشت گردی کے عفریت کو قابو کرنے کے لئے قانون نافظ کرنے والے اداروں کی ہمہ جہت کوششوں کا سلسلہ جاری ہے اور انتہا پسند قوتوں کا نیٹ ورک پوری شدت کے ساتھ کچل دیا جائے گا اور ریاستی بالادستی اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے پر کمر بستہ عناصر کے عزائم ناکام بنا دئے جائیں گے۔ ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کر کے فوجی عدالتوں میں پیش کر کے سزائیں دلوائی جائیں گی۔
یہ امر قابلِ تحسین اور قابلِ تشکر ہے کہ ہماری بہادر اور غیورا فواج اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کے خلاف مکمل طور پر سرگرمِ عمل ہیں۔ عوام اس میں اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں انہیں اپنی مسلح افواج کی اہلیت پر مکمل یقین ہے کہ وہ ان چند شرپسند عناصر کو آسانی جہنم واصل کر دیں گے اور وطنِ عزیز میں ایک بار پھر امن و سکون کا بول بالا ہو گا۔ عوام اپنے معمولاتِ زندگی سکون سے جاری رکھ سکیں گے۔