Wed, September 16, 2026

بھارت کا ارادئہ جنگ اور اے پی سی کی ضرورت

بھارت کا ارادئہ جنگ اور اے پی سی کی ضرورت

 حقیقت تو یہ ہے کہ میں خواب دیکھتا ہوں کہ یہ دنیا حقیقی انسانی دنیا اُس وقت بنے گی جب اِس دنیا کا نظام فوجوں کے بغیر چلایا جائے گا۔ یہ وقت ایک دن لازمی آنا ہے مگر ابھی انسان شعور کے اُس مقام پر فائز نہیں ہوا جہاں اُس کے شوق حکمرانی اور خواہش تسخیر کو شکست دے کر کسی ایسی دنیا کی بنیاد رکھی جا سکے ۔ 1948ء کی کشمیر جنگ صرف کتابوں میں پڑھی ہے اور 1965ء کی جنگ میں آنکھیں کھولی تھیں ۔1971ء کی جنگ میں طیاروں اور برستے بارود کے مناظر یاد ہیں ۔ افغانستان وار کے نتائج سے آج تک ’’ مستفید ‘‘ ہو رہے ہیں جبکہ 1998ء کی متنازعہ کارگل جنگ کے حقائق پر فریقین کے بیانیے ایک دوسرے سے نہیں ملتے ۔ ایک جنگی تاریخ پڑھ کر اور ازلی دشمن کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلتے دیکھ کرجوان ہوئے ہیں ۔ سو جنگوں سے انہیں ڈرائیں جو حالت امن میں ہیں ٗ اگر محاذوں پر جنگ نہ بھی ہو تو ہم زندہ رہنے کیلئے ضروریات ِ زندگی سے لڑ رہے ہوتے ہیں ۔ بھارت سے ہماری چار جنگیں تاریخ کا حصہ ہیں اور افغانستان وار امریکہ ٗ برطانیہ ٗ فرانس اورعرب ممالک کا مشترکہ ایڈونچر تھا جو انہوں نے روس کے خلاف کیا جس میں ہماری ’’ اخلاقی اور مردم برآمدگی ‘‘ کی ذمہ داری تھی ۔ ہم افغانستان وار کے اکیلئے ملزم نہیں اس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں لیکن آج ہم افغانستان وار کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اُس کے ’’ثمرات ‘‘ ابھی تک سمیٹ رہے ہیں ۔ جناب علی ؓ کا قول ہے کہ دوسروں سے عبرت حاصل کروبجائے اس کے کہ لوگ تم سے عبرت حاصل کریں ۔ بھارت اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے پہنچ گیا ہے جس سے کبھی ہم لینے گئے تھے اور آج تک پرانی بیماری کا علاج اور نئے زخم رفو کررہے ہیں ۔ اس بار عالمی سرمایہ داری کا نشانہ چین ہے جس کیلئے امریکہ بھارت کو استعمال کرنا چاہتا ہے اورجہاں تک میرا ’’اطلاعاتی تجزیہ‘‘ ہے بھارت اس پر راضی ہو چکا ہے ۔ کشمیر کے منی سوئیزر لینڈ پہلگام پر دہشتگردآنہ کارروائی انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ معصوم انسانوں کا قتل ِ عام کسی صورت جسٹیفائی نہیں ہو سکتا لیکن حملے سے ذر ا پہلے وہاں سے پولیس اور فوج کو ہٹا دینا خود بھارت کو مشکوک بنا رہا ہے 
۔چلیں مان لیا یہ حملہ دہشتگردوں نے کیا ہے لیکن یہ کون سی کتاب میں لکھا ہے کہ ہر بار دہشتگرد پاکستان کے بھیجے ہوئے ہی ہوں گے ۔ کیا اندرا گاندھی کے قاتل پاکستان سے گئے تھے یا پھر راجیو گاندھی پر خود کش حملہ کرنے والی عورت کا تعلق لاہور یا پشاور سے تھا ؟ کیا بھارت کا آپریشن بلیو سٹار کشمیری مسلمانوں کے خلاف ہوا تھا ۔اندراگاندھی کے قتل کے بعد جو کچھ سکھوں کے ساتھ ہوا کیا اُس کا ذمہ دار بھی پاکستانیوں کو ٹھہرایا جائے گا ؟ خالصتان بنانے کا نعرہ پاکستان کے پنجابیوں نے لگا رکھا ہے یا یہ ہندوستان میں بسنے والے سکھوں کی آواز ہے ؟ ہم تو خود دہشتگردوں کے خلاف حالت ِ جنگ میں ہیں اور تمہارا آن ڈیوٹی نیوی آفیسر کلبوشن بلوچستان سے گرفتار کرتے ہیں۔ تمہارے پائلٹ کو گرفتار کرکے ہم نے چائے پلا کر واپس بھیجا ۔ بلوچستان میں بھارتی دراندازی کے ثبوت ہم نے دنیا کے سامنے رکھے لیکن آج جب بھارت عالمی سرمایہ داری اور سرمایہ داروں کے جھانسے میں آ کر امریکہ کا بغل بچہ بن کر ایک طرف چین کے خلاف برسرِ پیکار ہونا چاہتا ہے اوردوسری طرف امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان خطے میں امریکی اتحادی بن کر رہے تو اِ سکا سیدھا سا مطلب ہے کہ دوقومی نظریے کی قربانی دے کر پاکستان اور بھارت ٗامریکی چھتری کے نیچے اتحادی بن کر رہیں حالانکہ ہمارے آرمی چیف کا چند دن پہلے دو قومی نظریے کا ذکر بار بار کرنے کا مطلب ہی امریکہ کو یہ سمجھانا تھا کہ اگر بھارت آپ کے ساتھ ہے تو پھر ہم کسی مہم میں آپ کے ساتھی یا اتحادی نہیں بن سکتے کیوں آپ سے اتحاد میز کے نیچے سے بھارت سے اتحاد ہو گا جبکہ بھارت کے ساتھ کشمیر اور پانی سمیت ہمارے انگنت معاملات چل رہے ہیں ۔ بھارت اب اگر سندھ طاس معاہدے کو ختم کرکے پاکستان کے ساتھ آبی جنگ کیلئے اترنا چاہتا ہے تو اُسے یہ بات تو یاد رکھنی چاہیے کہ اُس کی ایسی حماقتوں سے جنگی جنون تو پیدا کیا جا سکتا ہے جو دونوں اطراف میں خوف کی فضا پیدا کر دے گا لیکن چین کے دو ٹوک فیصلے کے بعد امریکہ کا اتحادی بننا ایک بڑی غلطی ہو گی ۔ چین کی بہت بڑی انوسٹمنٹ پاکستان میں ہے سو چین کے مفاد کے خلاف امریکہ کے ساتھ چلنے والوں کو چین اپنااعلانیہ دشمن قراردے چکا ہے اور اِس کیلئے اُس نے کسی اتحادی یا دوست کی بھی کوئی شرم نہیں رکھی ۔ 
ممکن ہے پاکستان میں موجود بھارتی سفارت کاروں کو بلا کر پھر بتایا جائے کہ اگر بھارت نے کوئی ایسی ناپاک جسارت کی تو :’’ اُس کا ایک ایک شہر دس دس بار برباد کردیں گے ۔‘‘ یاد رکھیں ! بموں کو سیاسی جھنڈوں ٗ مسلکوں ٗصوبوں یا پھر زبانوں کی پہچان نہیں ہوتی سو ہمیں اپنے تمام ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی سالمیت کیلئے ایک جان ہونا پڑے گا ۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبد العلیم خان کا بیان میرے سامنے پڑا ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو سرحدوں پر دواطراف سے مستقل چیلنجز کا سامنا ہے، وطن عزیز کو سیاسی استحکام کی جتنی ضرورت آج ہے شایدپہلے کبھی نہ تھی۔ عبد العلیم خان کاکہنا ہے ملکی سیاست کو قومی ترقی و سلامتی سے مشروط ہونا چاہیے اور استحکام پاکستان پارٹی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں سے ہر لحاظ سے عہدہ برآہ ہوتی رہے گی۔ انہوں نے پارٹی کے پنجاب سیکرٹریٹ میں سینئر رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور استحکام پاکستان پارٹی کو پنجاب بھر میں متحرک کرنے کیلئے پہلے مرحلے میں پارٹی ورکرز کے کنونشن کا آغاز جنوبی پنجاب سے کرنے کا اعلان بھی کیا ۔ مرکزی صدر عبد العلیم خان نے اس سلسلہ میں4مئی کو لیہ اور 11مئی کو فیصل آباد میں آئی پی پی ورکرز کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے استحکام پاکستان کے ورکروں سے بہترین کارکردگی اور پاکستان کی خدمت میں اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کی امید بھی ظاہر کی۔ پارٹی رہنماؤں نے وسطی اور جنوبی پنجاب میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی اور ہر ضلع میں تحصیل کی سطح پر استحکام پاکستان پارٹی کو متحرک کرنے اور مئی میں ہونے والے ورکرز کنونشن پارٹی کی کامیابی کا بھرپور یقین دلایا ۔عبد العلیم خان کو ورکرز کنونشن ضرور کروانے چاہیں لیکن اگر وہ موجود ملکی صورت حال پر اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے اے پی سی بلاوا کر قومی یکجہتی کا اعلان کروا لیتے ہیں تو یہ بہترین قومی خدمت ہو گی جس کا پیغام دوست اوردشمن تمام ممالک تک چلا جائے گا ۔

ٹیگز: