Wed, September 16, 2026

پاک سعودی تزویراتی تعلقات

پاک سعودی تزویراتی تعلقات

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ جذباتی وابستگی، مذہبی احترام اور تزویراتی مفادات کے امتزاج پر قائم رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو نہ صرف برادر اسلامی ملک بلکہ مقدس سرزمین اور ایٹمی طاقت کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ تاہم ان تعلقات میں محض جذبات ہی نہیں بلکہ عملی تعاون، فوجی شراکت داری، سیاسی اتار چڑھاؤ اور معاشی پہلو بھی نمایاں ہیں۔ موجودہ دفاعی معاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو نئی جہتیں متعین کر رہا ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کی بنیاد 1950 کی دہائی میں پڑی جب پاکستان نے سعودی افواج کی تربیت اور دفاعی ڈھانچے کے لیے اپنے ماہرین بھیجے۔ 1960 اور 1970 کی دہائی میں سیکڑوں پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات رہے اور سعودی عسکری اداروں کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ نومبر 1979 میں جب جُہیمان العتیبی اور اس کے ساتھیوں نے مسجد الحرام پر قبضہ کیا تو سعودی حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا ہوا۔ اس وقت سعودی عرب نے پاکستان اور دیگر اتحادی ممالک سے مدد لی۔ غیر رسمی ذرائع کی رپورٹس کے مطابق پاکستانی فوج کی ٹیکنیکل سپورٹ ٹیم اور نوجوان ایس ایس جی کمانڈوز نے سعودی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کارروائی کی اور حرم شریف کو باغیوں سے آزاد کرایا۔ لیکن آفیشلی اس واقعے کی زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ یہ واقعہ سعودی حکمرانوں کی مستقبل کی سخت داخلی حکمت عملی اور پاکستان کیساتھ تزویراتی تعلقات کے لیے ایک اہم ٹرننگ پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔یمن جنگ کے آغاز پر 2015 میں سعودی عرب نے پاکستان سے براہِ راست فوجی تعاون کی درخواست کی۔ تاہم پاکستانی پارلیمان نے متفقہ قرارداد کے ذریعے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا حصہ نہ بنے۔ یہ فیصلہ سعودی قیادت کے لیے حیران کن تھا، لیکن پاکستان نے وضاحت کی کہ وہ سعودی عرب کے دفاع میں ہر قیمت پر کھڑا ہو گا مگر خطے کی خانہ جنگی میں فریق نہیں بنے گا۔ یہ ایک اہم موڑ تھا جس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں وقتی تناؤ پیدا کیا۔ اسی پس منظر میں بعد ازاں سعودی عرب نے ’’اسلامی فوجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی‘‘ کا اعلان کیا جس کا ہیڈکوارٹر ریاض میں قائم ہوا۔ 41 ممالک پر مشتمل اس اتحاد کی سربراہی پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو دی گئی۔ اس اقدام نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا بلکہ سعودی عرب کی عالمی مسلم دنیا میں قیادت کے عزائم کو بھی ظاہر کیا۔ البتہ اس فوجی اتحادکی زیادہ تر کاوشیں ٹیکنیکل ٹریننگ اور بیانیہ بنانے تک محدود رہی ہیں۔حالیہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان اور سعودی عرب نے فوجی تعاون، تربیت، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی ٹیکنالوجی میں اشتراک کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کا بنیادی نکتہ ’’کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہو گا‘‘۔ یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب خطہ نئی جغرافیائی تبدیلیوں اور غیر یقینی حالات کا شکار ہے۔ سعودی عرب ایران سے تعلقات کو نئے سرے سے متوازن کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ پاکستان داخلی معاشی بحران سے نبردآزما ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کے لیے چند اہم سٹریٹیجک اور سیاسی تحفظات ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ فرقہ وارانہ توازن کا ہے۔ پاکستان کسی ایسے فوجی اقدام میں شامل نہیں ہونا چاہتا جو اسے خطے میں کسی ایک گروہ کے خلاف لا کھڑا کرے۔ اسی طرح معاشی انحصار بھی ایک بڑا پہلو ہے۔ سعودی امداد اور ترسیلات زر پاکستان کے لیے اہم ہیں، لیکن اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار خارجہ پالیسی کو محدود کر سکتا ہے۔ تیسرا نکتہ سٹریٹیجک خودمختاری ہے کیونکہ پاکستان اپنی عسکری طاقت کو سعودی عرب کے مفادات کے تابع کرنے کی بجائے اسے متوازن انداز میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کا پابند ہے۔ حال ہی میں انٹرنیشنل نیوکلیئر ایجنسی نے پاکستان کے سول نیو کلیئر پروگرام کی تعریف کی ہے۔ ہمیں اس معاملے میں نہایت احتیاط برتنا ہو گی کیونکہ پابندیاں لگانے کے لیے یہ مغرب کا مؤثر ہتھیار ہے۔ چوتھا پہلو داخلی سیاسی اثرات کا ہے، سعودی عرب کی قربت بعض اوقات پاکستان کے اندرونی سیاسی اور فرقہ وارانہ مباحث کو تیز کر دیتی ہے جس سے داخلی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں امریکا اور روس کی جنگ، افغان سرزمین پر لڑی گئی۔ پاکستان نے امریکہ اور سعودی عرب کے اتحادی کے طور پر اس پراکسی وار میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سعودی عرب نے افغان جنگ اور ایرانی انقلاب کے تناظر میں پاکستان میں مدارس کو بہت زیادہ فنڈنگ دی جس سے پاکستان میں فرقہ ورانہ سوچ کو بے حد تقویت ملی۔ اس جنگ نے پورے خطے، بالخصوص پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔ اس کے بعد پیدا ہونے والی دہشت گردی کے آفٹر شاکس ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔معاشی تعاون کی سطح پر سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کی مشکلات میں مدد کے لیے آگے بڑھا ہے۔ تیل کی ادھار فراہمی، امدادی پیکیجز اور پاکستانی مزدوروں کے لیے روزگار کے مواقع نے ملکی معیشت کو سہارا دیا۔ تاہم بعض اوقات سعودی رویہ سخت شرائط سے مشروط رہا، جیسے قرضوں کی واپسی یا تیل کی فراہمی میں تاخیر، ویزہ شرائط میں سختی، پاکستانیوں کو سعودی عرب میں سزائیں وغیرہ۔ یہ پہلو تعلقات میں بارہا اتار چڑھاؤ کا سبب بنتے رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے 
ضروری ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید ادارہ جاتی شکل دے اور ہر تعاون کو شفاف معاہدوں کے تحت لے کر چلے اور انہیں پارلیمانی سند بھی حاصل ہو۔ اسی کے ساتھ ساتھ سعودی امداد پر انحصار کم کرنے کے لیے پاکستان کو دیگر خطوں، بالخصوص چین، ترکی اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی متوازن کرنا ہو گا۔سفارتی سطح پر پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی سفارتی ساکھ مضبوط کرے۔ دفاعی اور سفارتی تعاون کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی سطح پر بھی نئے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر سعودی سرمایہ کاری کو معیشت کے پروڈکٹیو سیکٹرز میں لانے پر زور دینا چاہیے تاکہ طویل المدتی فوائد حاصل ہوں۔ اسی طرح تعلیم، ثقافت اور مذہبی سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر تعلقات صرف دفاع تک محدود نہ رکھے جائیں۔پاک سعودی تعلقات نہ صرف ماضی کا سرمایہ بلکہ مستقبل کے امکانات بھی رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ محض دفاعی تعلقات پر انحصار کرنے کے بجائے معاشی، سماجی اور سائنسی شعبوں میں بھی شراکت کو فروغ دیں۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سفارت کاری کو متوازن رکھتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزیدمضبوط کرے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ لیکن حالیہ ایران اسرائیل جنگ، غزہ پر اسرائیل کی مسلسل بربریت اور قطر پر حملہ، خطے میں امریکی بیسز اور نگرانی کا عمل، کے تناظر میں فیصلے نہایت سوچ سمجھ کر کر نے چاہئیں۔

ٹیگز: