پاکستان نے قریب پچاس برس تک لاکھوں افغان خاندانوں کو پناہ دی، مگر انہی پناہ گزینوں کی دوسری نسل کے یہاں جوان ہو جانے کے بعد اب حالات اس فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئے ہیں جہاں قوم جذبات نہیں بلکہ حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت سے حتمی فیصلہ مانگ رہی ہے۔ در حقیقت یہ کوئی نفرت کا بیانیہ نہیں، بلکہ ایک تھکی ہوئی ریاست کی مجبوری اور اس کا نوحہ ہے جو اب دوسروں کی ذمہ داری سے آزاد ہو کر صرف اپنے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے۔ صرف اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہتی ہے۔
اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ جب بھی مہربانی کا عرصہ بلاوجہ لمبا ہو جائے اور دوسرا فریق اسے اپنا حق سمجھنا شروع کر دے تو تعلق کا توازن ٹوٹ جاتا ہے۔ پاکستان اور افغان پناہ گزینوں کی کہانی کچھ ایسی ہی ہے۔ قریب پچاس برس گزر گئے، افغان مہاجرین کی دو نسلیں یہاں جوان ہو گئیں۔ 1979ء کی سوویت جنگ کے دوران جب لاکھوں افغان اپنے وطن سے نکل کر پاکستان آئے تو ہم نے ان کے لیے دروازے کھول دیئے۔ کسی نے ان سے مذہب نہیں پوچھا، کسی نے ان کی زبان نہیں دیکھی۔ کسی نے ان کا ہماری نسبت تلخ ماضی نہیں ٹٹولا۔ بس اگر کچھ مد نظر رہا تو صرف اور انسانیت اور ہمدردی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق پاکستان نے دنیا کی سب سے بڑی مہاجر آبادی کی میزبانی کی۔ پشاور، کوئٹہ، کراچی، ہر شہر میں خیمے لگے، سکول کھلے، روزگار ملا۔ ہم نے سوچا، جنگ ختم ہوگی تو یہ لوگ واپس چلے جائیں گے۔ وقت گزرتا گیا مگر مہمانوں کی واپسی ہونا تھی اور نہ ہوئی۔
اب حالت یہ ہے کہ تیس لاکھ سے زائد غیر قانونی افغان شہری پاکستان میں آباد ہیں۔ پاکستان کی معیشت اس بوجھ تلے دَبنے لگی ہے۔ عالمی امداد تقریباً ختم ہو چکی، اور اب ہر سال سیکڑوں ارب روپے کے اخراجات پاکستان خود اٹھا رہا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک ملک جو اپنے شہریوں کے لیے بجلی، روزگار اور اشیائے خورونوش تو سستی کر نہیں پا رہا، وہ کب تک لاکھوں غیر قانونی افغان باشندوں کا ناحق بوجھ اٹھائے ؟۔
اس پہ بھی مزید ستم یہ کہ گزشتہ برسوں میں ملک میں امن و سلامتی کی صورت حال اور اس میں افغان حکومت کے بلاواسطہ یا بالواسطہ منفی کردار نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ وزارتِ داخلہ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ کئی دہشت گرد حملوں میں ایسے عناصر ملوث پائے گئے جن کا تعلق براہ راست افغان علاقوں سے پایا گیا ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان کے کمانڈر اور دہشتگرد افغانستان سے آ کر پاکستان میں مسلح کارروائیاں کرتے رہے۔ اب پاکستانی عوام کا یہ سوال بالکل فطری ہے کہ اے شیطانوں ہم نے تو تمہیں پناہ دی، لاکھوں کی جان بچائی۔ کم از کم ہمیں تو اپنے شر سے محفوظ رکھو۔
یہ معاملہ اب صرف سکیورٹی اور معیشت تک محدود نہیں بلکہ احساسات کا بھی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستانی عوام کے دل میں ایک تھکن اور بے زاری گھر کرتی جا رہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں، ’’ہم نے ان کے لیے دروازے کھولے، مگر بدلے میں اپنے ہی شہروں میں اجنبی بن گئے۔ اپنے ہی ملک میں اپنے پیاروں کی میتیں اٹھاتے آئے ہیں‘‘ یہ باتیں جذباتی لگتی ہیں مگر تلخ حقیقت بھی ہیں۔
دکھ کی بات یہ نہیں کہ افغان پناہ گزین یہاں رہے، دکھ یہ ہے کہ ان کی دو نسلوں نے یہاں پیدا ہو کر بھی پاکستان کے احسانات کا کبھی اعتراف نہیں کیا۔ بلکہ اس کے الٹ سوشل میڈیا پر ایسے افغان نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو پاکستان کے خلاف طنز و تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، حالانکہ وہ خود اور ان کے والدین اسی ملک میں پلے بڑھے۔ یقینا احسان کا جواب اگر احسان مندی سے نہ ملے، تو رشتے مزید کمزور ہو جاتے ہیں۔
بداعتمادی کی اس سلگتی ہوئی چنگاری کو طالبان حکومت کا رویہ اور ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان نے بارہا کابل سے کہا کہ اپنے شہریوں کی واپسی کا بندوبست کرے، سرحد پار دہشتگردی کو روکے، مگر جواباً ہر بار خاموشی ملی اور مزید دہشتگردوں کے حملے۔ افغان حکومت سے کل بھی یہی سوال تھا اور آج بھی یہی سوال ہے کہ آخر کب تک مجرمانہ خاموشی برتو گے؟ اگر افغان حکومت اپنے لوگوں کو واپس نہیں بلا سکتی، تو پھر دنیا کو اس کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔
بین الاقوامی برادری کا رویہ بھی حیران کن ہے۔ جب پاکستان نے مہاجرین کو پناہ دی تو کسی نے امداد نہیں دی، اور اب جب کہ پاکستان واپسی کا فیصلہ کر رہا ہے، تو سب کو ’’انسانی حقوق‘‘ یاد آ گئے ہیں۔ مغرب نے لاکھوں افغانوں کو ویزا دینے سے انکار کیا، مگر پاکستان کو اخلاقیات کا سبق دیا جا رہا ہے۔ یہ وہ تضاد ہے جس نے پاکستان کے صبر کے پیمانے کو لبریز کر دیا ہے۔
لہٰذا حکومتِ پاکستان نے غیر قانونی افغان باشندوں کی مرحلہ وار واپسی کا جو تلخ فیصلہ کیا ہے وہ سخت ضرور ہے، مگر ناگزیر بھی۔ کیونکہ پاکستان کے پاس اب نہ تو وسائل بچے ہیں اور نہ ہی عوام کے پاس مزید برداشت۔
یہ واپسی دشمنی نہیں، ذمہ داری ہے۔ قریب پانچ دہائیوں تک پاکستان نے اسلامی اور انسانی اصولوں کے تحت اپنے دروازے کھلے رکھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان عوام اپنی زمین پر واپس پہنچ کر نیا آغاز کریں۔ پاکستان نے جو کرنا تھا، کر چکا۔ اب باری افغانستان کی ہے کہ اپنے شہریوں کو خود سنبھالے۔
یہ کالم لکھتے ہوئے دل میں سختی نہیں، دکھ ہے۔ کیونکہ مہمان داری کا باب بند کرنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ مگر جب خود میزبان زحمت بنے مہمانوں کی وجہ سے بھوک، قرض اور خطرے میں گھرا ہو، تو اسے اپنے گھر کی فکر کرنا ہی پڑتی ہے۔ پاکستان نے جو کردار ادا کیا، دنیا شاید اسے بھلا دے، مگر تاریخ نہیں بھولے گی کہ کیسے ایک غریب ملک نے تمام تر مشکلات کے باوجود پچاس برس تک لاکھوں ہمسایوں کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کئے۔ لیکن آب شاید وقت آ گیا ہے ’’مہمان داری سے ہماری توبہ، کیونکہ اب میزبانوں یعنی ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم بھی مہمانوں کو بھیج کر دروازے بند کر کے سکھ اور چین کے کچھ سانس خود بھی لے سکیں ‘‘۔