Wed, September 16, 2026

مریم مختیار کی دسویں برسی: پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ کی قربانی اور بہادری کا اعتراف

مریم مختیار کی دسویں برسی: پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ کی قربانی اور بہادری کا اعتراف

لاہور : آج پاکستان کی تاریخ کی ایک بہادر بیٹی، مریم مختیار کی دسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ مریم نے اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان قربان کر دی اور پاک فضائیہ کے دلیروں کی صف میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوا لیا۔

مریم مختیار 18 مئی 1992ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں اور اپنے تعلیمی سفر کا آغاز ملیر کینٹ کے آرمی پبلک سکول و کالج سے کیا۔ وہ صرف تعلیم میں ہی نہیں، بلکہ کھیلوں میں بھی کافی باصلاحیت تھیں، اور نیشنل ویمن فٹبال چیمپئن شپ میں بلوچستان یونائیٹڈ کی نمائندگی بھی کی۔

2014 میں مریم نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی اور 132ویں جی ڈی پائلٹ کورس کا حصہ بنیں، جس میں چھ دیگر خواتین بھی شامل تھیں۔ مریم مختیار نے اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلتے ہوئے پاک فضائیہ کے جنگجو پائلٹس کی صف میں اپنا مقام بنایا۔

24 نومبر 2015 کو ایک معمول کی تربیتی پرواز کے دوران مریم کا طیارہ فنی خرابی کا شکار ہو گیا۔ ان کے پاس اس وقت ایک مشکل انتخاب تھا: یا تو وہ طیارہ کسی آباد علاقے کی طرف موڑ کر زیادہ جانی نقصان کا سبب بنتی، یا پھر غیر آباد علاقے میں اتار کر اپنی جان کی قربانی دیتی۔ مریم نے غیر آباد علاقے میں طیارہ اتارنے کا فیصلہ کیا، مگر بدقسمتی سے وہ اس فیصلے کے باوجود شہید ہو گئیں۔

مریم مختیار پاک فضائیہ کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ تھیں جو دوران ڈیوٹی شہید ہوئیں۔ ان کی جرات، بہادری اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور انہیں تمغہ شجاعت سے نوازا گیا۔ مریم کی تدفین کراچی کے ملیر کینٹ قبرستان میں ہوئی۔

ٹیگز: