لاہور : پاکستان کے مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ پیپلزپارٹی صرف ایک نشست پر ہی کامیاب ہو سکی۔ مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی بیشتر نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے اپنی پوزیشن مضبوط کی۔
لیگی کارکنوں نے جیت کا جشن منایا، مٹھائیاں تقسیم کیں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے۔ "شیر آیا، شیر آیا" کے نعرے گونجتے رہے، اور آتشبازی کا بھی شاندار مظاہرہ کیا گیا۔
کامیاب امیدواروں کی تفصیلات:
قومی اسمبلی حلقہ 129 (پشاور): مسلم لیگ ن کے حافظ میاں نعمان 63,441 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ آزاد امیدوار ارسلان احمد 29,099 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
قومی اسمبلی حلقہ 104 (فیصل آباد): مسلم لیگ ن کے دانیال احمد 52,791 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، ان کے مدمقابل آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید 19,262 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
قومی اسمبلی حلقہ 18 (ہری پور): ن لیگ کے بابر نواز خان نے ایک لاکھ 63,996 ووٹ حاصل کیے، اور آزاد امیدوار شہر ناز عمر ایوب ایک لاکھ 20,220 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
قومی اسمبلی حلقہ 185 (ڈیرہ غازی خان): ن لیگ کے محمود قادر خان 82,413 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ پیپلزپارٹی کے دوست محمد کھوسہ 48,262 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
قومی اسمبلی حلقہ 143 (چیچہ وطنی): ن لیگ کے طفیل جٹ نے 1,36,313 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔
قومی اسمبلی حلقہ 96 (فیصل آباد): ن لیگ کے محمد بلال بدر 93,009 ووٹ کے ساتھ کامیاب ہوئے، اور آزاد امیدوار نواب شیر وسیر 43,025 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
پنجاب اسمبلی کے حلقوں میں ن لیگ کی کامیابیاں:
پی پی 73 (سرگودھا): ن لیگ کے میاں سلطان علی رانجھا 71,770 ووٹ کے ساتھ کامیاب ہوئے۔
پی پی 87 (میانوالی 3): ن لیگ کے علی حیدر نور خان نیازی 67,870 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
پی پی 98 (فیصل آباد): ن لیگ کے آزاد علی تبسم 44,388 ووٹ کے ساتھ کامیاب ہوئے۔
پی پی 115 (فیصل آباد): ن لیگ کے محمد طاہر پرویز 49,046 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
پی پی 116 (فیصل آباد): ن لیگ کے احمد شہریار 48,824 ووٹ کے ساتھ کامیاب ہوئے۔
پی پی 203 (چیچہ وطنی): ن لیگ کے چودھری حنیف جٹ 46,820 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
پی پی 269 (مظفر گڑھ): پیپلزپارٹی کے میاں علمدار عباس قریشی 55,868 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جب کہ آزاد امیدوار محمد اقبال خان پتافی دوسرے نمبر پر رہے۔
اس ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن نے واضح برتری حاصل کی، جب کہ پیپلزپارٹی نے صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔ اس سے ن لیگ کے حامیوں کا جوش و جذبہ بلند ہوا ہے اور پارٹی کی سیاسی پوزیشن میں مزید استحکام آیا ہے۔