Wed, September 16, 2026

پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر دہشت گردوں کا خودکش حملہ ناکام، تین اہلکار شہید

پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر دہشت گردوں کا خودکش حملہ ناکام، تین اہلکار شہید

پشاور: پشاور کے صدر علاقے میں واقع فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر دہشت گردوں نے خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی، لیکن سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔ خودکش دھماکے کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکار شہید ہو گئے، تاہم ایف سی کے جوانوں کی فوری جوابی کارروائی میں تینوں حملہ آور مارے گئے۔

ذرائع  سکیورٹی فورسز حکام کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے بتایا جارہا ہے۔شہداء  میں   حوالدار عالمزیب ۔ پلاٹون 277،. سپاہی ریاست۔پلاٹون 478،. سپاہی الطاف ۔ پلاٹون 277 شامل ہیں۔ زخمی اہلکار (LRH)لانس نائیک زیک ، پلاٹون 277 (MI روم)،سپاہی ارشد ، BDS،سپاہی عطاء اللہ ۔ پلاٹون 147،سپاہی عرفان ۔ پلاٹون 147 شامل ہیں۔

سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق، صبح تقریباً آٹھ بجے تین خودکش حملہ آوروں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز کے مرکزی گیٹ پر حملہ کیا۔ دھماکے کے نتیجے میں تین اہلکار شہید ہوئے، تاہم دو دہشت گردوں نے گیٹ کے ذریعے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جسے سکیورٹی فورسز نے فوراً ناکام بنا دیا اور دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

ایف سی کی بروقت کارروائی کے باعث دہشت گردوں کو اندر تک پہنچنے کا موقع نہ ملا، اور ہیڈکوارٹر کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا۔ دھماکے میں پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں دو ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے میڈیا کو بتایا کہ دہشت گردوں نے دو خودکش دھماکے کیے، ایک دھماکہ صدر دروازے پر اور دوسرا موٹرسائیکل سٹینڈ پر ہوا۔ ان کے مطابق، حملے کے بعد دو دہشت گردوں نے فائرنگ کے تبادلے میں اپنی جان گنوائی، جب کہ تینوں حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔

پشاور کے تمام ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے، اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ پولیس نے بھی ارد گرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور پشاور کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

اس حملے میں سکیورٹی فورسز کی ہمت اور چوکس کارروائی نے دہشت گردوں کو مزید نقصان پہنچانے سے روکا، اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا، اور تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس حملے کے پیچھے کی سازش کو بے نقاب کیا جا سکے۔

 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جس بہادری اور فوری ردِعمل کا مظاہرہ کیا، اس کی بدولت ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

وزیراعظم نے واقعہ کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ حملے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی شناخت میں کوئی تاخیر نہ کی جائے اور انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی پر حملہ کرنے والے عناصر ملک کا امن تباہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، مگر ریاست اُن کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اور ادارے متحد ہیں، اور یہ حملے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

ٹیگز: