شہر شہر اپنی عمارتوں، سڑکوں، بازاروں، باغات اور تاریخی نشانات سے پہچانا جاتا ہے، مگر درحقیقت ان سب سے بڑھ کر اس شہر کے نام، محلوں کے عنوان اور گلیوں کی شناخت اس کی اصل روح ہوتے ہیں۔ اینٹ، گارا اور پتھر صرف عمارتیں تعمیر کرتے ہیں لیکن نام تاریخ بناتے ہیں۔ یہی نام نسلوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کے شہر کی تہذیبی جڑیں کہاں پیوست ہیں، اس کے معمار کون تھے اور اس کی ثقافت نے کن ادوار کا سفر طے کیا ہے۔ دنیا بھر میں یہ روایت موجود ہے کہ شہروں کی سڑکوں، تاریخی عمارتوں اور باغات کو ان شخصیات یا اصل تاریخی حوالوں کے ساتھ منسلک رکھا جاتا ہے جنہوں نے ان کی تعمیر، ترقی یا شناخت میں کردار ادا کیا ہو۔ پیرس، لندن، استنبول، دہلی، قاہرہ اور روم جیسے تاریخی شہر اپنے اصل ناموں کے ذریعے اپنی صدیوں پرانی تہذیبی شناخت کو آج بھی محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ وہاں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر تاریخ کے نام نہیں بدلے جاتے، کیونکہ باشعور معاشرے جانتے ہیں کہ نام مٹانا دراصل تاریخ مٹانے کے مترادف ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں یہ روایت پروان نہ چڑھ سکی۔ یہاں آنے والے اکثر حکمرانوں نے اپنی سیاسی سوچ، نظریاتی ترجیحات یا ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر شہروں، سڑکوں اور تاریخی مقامات کے نام تبدیل کیے۔ صرف نام ہی نہیں بدلے گئے بلکہ ان لوگوں کی یادگار تختیاں تک اکھاڑ دی گئیں جنہوں نے ان مقامات کی تعمیر یا شناخت میں کردار ادا کیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا رہا جیسے ہر نئی حکومت ماضی کو مٹا کر اپنی تاریخ لکھنا چاہتی ہو۔ تاریخ مگر ضدی ہوتی ہے۔ اسے نہ مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سرکاری حکم ناموں کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لوگ آخرکار اصل ناموں کو یاد رکھتے ہیں۔ لاہور آج بھی اپنے تاریخی محلوں، گلیوں اور بازاروں کی اصل شناخت سے جڑا ہوا ہے۔ لکشمی چوک، دھرم پورہ، کرشن نگر، سنت نگر، ٹیمپل اسٹریٹ، جین مندر روڈ اور بھگوان پورہ جیسے نام صرف چند الفاظ نہیں بلکہ اس دھرتی کی صدیوں پر محیط تہذیبی ہم آہنگی، مذہبی تنوع اور سماجی ارتقا کی داستان ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حالیہ دنوں میں لاہور کے تاریخی مقامات اور سڑکوں کے اصل نام بحال کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ تاریخ کے ساتھ انصاف کی ایک کوشش ہے۔ یہ ایسا قدم ہے جسے محض سیاسی عینک سے نہیں بلکہ تہذیبی شعور کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لاہور کے جن علاقوں اور سڑکوں کے پرانے نام بحال کیے جا رہے ہیں ان میں کوئنز روڈ، جیل روڈ، ڈیوس روڈ، لارنس روڈ، ایمپریس روڈ، کرشن نگر، سنت نگر، دھرم پورہ، برینڈرتھ روڈ، رام گلی، ٹیمپل اسٹریٹ، لکشمی چوک، جین مندر روڈ، کمہار پورہ، موہن لال بازار، سندر داس روڈ، بھگوان پورہ، شانتی نگر اور آو¿ٹ فال روڈ جیسے تاریخی نام شامل ہیں۔ یہ نام کسی ایک مذہب، طبقے یا دور کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ لاہور کی اس گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہیں جس نے صدیوں تک مختلف ثقافتوں کو اپنے اندر سموئے رکھا۔ اسی طرح لاہور کے تاریخی لارنس گارڈنز کو دوبارہ اس کا اصل نام دینا بھی ایک اہم قدم ہے۔ باغات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ شہروں کی یادداشت ہوتے ہیں۔ جب ایک شہر اپنے باغوں، سڑکوں اور تاریخی مقامات کے اصل نام کھو دیتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اپنی تہذیبی شناخت سے بھی دور ہونے لگتا ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ایسے فیصلے ہمیشہ مقبول نہیں ہوتے۔ معاشرے میں ایک طبقہ ہر تبدیلی کو سیاسی تناظر میں دیکھتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے تاریخ کی بحالی سمجھتا ہے۔ مگر قیادت کی اصل آزمائش یہی ہوتی ہے کہ وہ بعض اوقات غیر مقبول مگر درست فیصلے کرنے کا حوصلہ رکھے۔ مریم نواز کا یہ وصف نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے کہ وہ بعض ایسے فیصلوں پر بھی ڈٹ جاتی ہیں جنہیں فوری سیاسی فائدے کی بجائے طویل المدتی سماجی اور تاریخی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
اگرچہ کسی بھی حکومت کے تمام فیصلوں سے سو فیصد اتفاق ممکن نہیں ہوتا۔ ہر حکمران کی کارکردگی میں کمزوریاں بھی ہوتی ہیں اور غلطیاں بھی، مگر تاریخ ہمیشہ مجموعی کردار کو دیکھتی ہے۔ اگر کسی رہنما کے چند بڑے اقدامات معاشرے کو مثبت سمت دے دیں، تہذیب کو اس کی اصل شناخت لوٹا دیں یا عوامی شعور میں بہتری پیدا کر دیں تو مورخ انہیں نظر انداز نہیں کرتے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ لاہور صرف ایک شہر نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی تاریخ کا زندہ استعارہ ہے۔ اس کی گلیاں، بازار، باغات اور پرانے نام اس کے ماضی کی گواہی دیتے ہیں۔ یہاں کبھی مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کے لوگ آباد تھے۔ یہی تنوع اس شہر کی خوبصورتی تھا۔ جب ان ناموں کو تبدیل کیا گیا تو گویا شہر کے چہرے سے اس کی اصل پہچان مٹانے کی کوشش کی گئی۔
معاشرے اپنی عمارتوں سے نہیں بلکہ اپنی یادداشت سے زندہ رہتے ہیں۔ جو قومیں اپنی یادداشت محفوظ رکھتی ہیں، وہی تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ لاہور کے تاریخی ناموں کی بحالی اسی اجتماعی یادداشت کی بازیافت ہے۔ یہ فیصلہ اس احساس کا اظہار ہے کہ شہر صرف موجودہ نسل کے نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہوتے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں اس فیصلے پر مزید بحث ہو، تنقید بھی ہو اور سیاسی مخالفت بھی سامنے آئے، مگر ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی کہ تاریخ کو اس کے اصل ناموں کے ساتھ زندہ رکھنا ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے۔ اگر ہم واقعی ایک باشعور قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سڑکوں، محلوں، باغات اور تاریخی مقامات کی اصل شناخت محفوظ رکھنا ہوگی۔
کیونکہ نام صرف لفظ نہیں ہوتے....وہ تہذیب، تاریخ اور اجتماعی حافظے کی آخری پناہ گاہ ہوتے ہیں۔