Wed, September 16, 2026

”کاکروچ“ 

”کاکروچ“ 



کہاوت ہے کہ” جب براوقت چل رہا ہوتو اونٹ پر بیٹھے شخص کو بھی کتاکاٹ لیتا ہے“اونٹ کی سواری زمین سے کافی اونچی ہوتی ہے اور کتا زمین پر ہوتا ہے اس لیے کتے کا کاٹنا بنتا نہیں ہے لیکن اس کہاوت کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ جب وقت خراب چل رہا ہوتو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔کچھ ایسا ہی خراب وقت اس وقت ہندوستان کی ہندوتوا سرکار کا چل رہا ہے۔آپریشن سندور کی مستند ”چول “ اور ا س کے نتیجے میں پاکستان کی طرف سے باقاعدہ سند یافتہ شکست کے بعد سے ہی ہندوستان کا برا وقت چل رہا ہے ۔پاکستان کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے تو شرارت کرنے والوں کے ”لیزر آئی “وزیرخارجہ کی سفارتکاری پستی کے گڑھے میں اور چھپن انچ کی چھاتی والے گجراتی قصائی کی یورپ کے چارممالک کے دورے کے دوران ایک نارویجین لڑکی نے سوال کر کے ساری ہیکڑی نکال باہر کی ہے۔
معاشی حالت یوں پتلی چل رہی ہے کہ آپریشن سندور کے بعد ایک سال میں ہندوستان کی کرنسی پاکستان کے مقابلے میں بارہ فیصد اور ڈالر کے مقابلے میں گیارہ فیصد گراوٹ کا شکار ہوئی ہے ۔گزشتہ تین ما ہ کے دوران سترہ ارب ڈالر انڈین اسٹاک مارکیٹ میں سے نکل کرباہر جاچکے ہیں تو نیٹ ایف ڈی آئی بھی منفی میں چل رہی ہے یعنی باہر سے براہ راست سرمایہ کاری کم آرہی ہے لیکن سرمایہ کار ہندوستان کی مارکیٹ سے سرمایہ نکال کر زیادہ باہر جارہے ہیں ۔برطانوی اخبار ٹیلی گرافک نے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح آپریشن سندور کے بعد پاکستان نے اپنے پتے درست استعمال کیے اور دنیا کے ساتھ ہندوستان سے بہتر روابط بنائے اور دنیا اب پاکستان کو ہندوستان کی نظر کی بجائے ایک ذمہ دار ملک کے طورپر دیکھ رہی ہے جو دنیا میں امن کا خواہاں ہی نہیں بلکہ امن دینے والا ملک بھی ہے ۔
نریندر مودی ابھی اٹلی میں ہی تھے ۔کہ ان کے پیچھے سے ہندوستان میں” کاکروچوں “کا ان کی سرکار پر حملہ ہوگیا اور یہ حملہ اتنا گھمبیرہے کہ بنگلہ دیش اورنیپال کے جین زی کے انقلاب کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔ہندوستان میں ہر سال اسی لاکھ گریجویٹ پیدا ہوتے ہیں جن میں سے چالیس فیصد کو نوکری نہیں مل پاتی اس لیے نوجوانوں میں اب فرسٹریشن بہت زیادہ ہے اوپر سے گزشتہ دوسال سے بھارتی میڈیکل کالجوں میں داخلے کے امتحان ” نیٹ “ یعنی نیشنل الیجی بلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ میں سنٹر خریدے جانے نقل اور سیٹیوں کی فروخت کے اسکینڈل نے ہندوستانی یوتھ کو بہت مایوس کردیا ہے۔اس کے ساتھ جعلی ڈگریوں کے اسکینڈلز نے دنیا بھر میں ہندوستانی طلبا کے لیے داخلے اور نوکریاں کم کردی ہیں ۔
گزشتہ دنوں بھارتی چیف جسٹس سوریا کنٹ جعلی ڈگریوں کے مقدمے کی سماعت کررہے تھے کہ انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے نوجوانوں کو” کاکروچ“ کہہ دیا ۔کہا کہ یہ نوجوان کاکروچوں کی طرح یہاں بے کار پڑے رہتے ہیں ۔ان ریمارکس نے بھوسے میں آگ کا کام کردیا۔ بے روزگار نوجوانوں کا بھوسہ پہلے ہی خشک تھا کہ چیف جسٹس کے کاکروچ والے الفاظ چنگاری بن کر اس میں گرگئے پھر کیا تھا ۔امریکا میں پڑھنے والے ایک ہندوستانی نوجوان ابھی جیت دیپکے نے ”کاکروچ جنتاپارٹی“ کے نام سے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی ایک پارٹی لانچ کردی ۔یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلنا شروع ہوگئی ۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا یہ انسٹاگرام اکاو¿نٹ ہندوستانی نوجوانوں میں اس قدر مقبول ہونا شروع ہوگیا کہ ہندوستانی سرکار کے ہاتھ پاو¿ں پھولنا شروع ہوگئے ۔
انسٹاگرام پر سب سے زیادہ اگر کسی پارٹی کے فالورز ہیں تو وہ کانگریس کے ہیں جن کی تعداد گیارہ ملین ہے جبکہ دوسرے نمبر پر حکمران جماعت بی جے پی ہے جس کے فالورز کی تعدا نوملین یعنی نوے لاکھ سے زیادہ ہے ۔ کاکروچ پارٹی جو ایک نوجوان نے شروع کی دیکھتے ہی دیکھتے تین دن کے اندراس کے فالوورز نے بی جے پی کو پیچھے چھوڑدیا اس کے بعد کانگریس سے بھی آگے نکل گئی اور اس وقت اس کے فالوورز کی تعداد بائیس ملین یعنی دوکروڑ بیس لاکھ ہوگئی ہے اور یہ تعداد ہر لمحہ بڑھے ہی جارہی ہے ۔تجزیہ کار اس کو جین زی کی تحریک کانام دے رہے ہیں اور اس کا ذمہ دار مودی سرکار کو قراردے رہے ہیں جس نے گزشتہ بارہ سال سے ملک میں صرف ہندوتوا کے نام پر سیاست کی اور نوجوانوں کے لیے عملی کام کرنے کی بجائے ان کو انتہاپسندی کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی ۔حکومت اس قدر خائف ہوگئی ہے کہ امریکا میں بیٹھے ا س پارٹی کے سربراہ کا پہلے ایکس اکاو¿نٹ انڈیا میں بند کر دیا اور اس کے بعد اس کو قتل کی دھمکیاں تک دی گئی ہیں لیکن نوجوان اس تحریک کے ساتھ جڑتے ہی جارہے ہیں اور خدشہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ جس لمحے یہ تحریک سوشل میڈیا سے نیچے زمین پر اترآئی تو بی جے پی کا ایسا احتساب ہوگا کہ نریندر مودی اور اس کی منڈلی کو بھاگنے کے لیے بھی کوئی راستہ نہیں ملے گا۔
اس تحریک کے بعد چیف جسٹس انڈیا سوریا کنٹ الگ وضاحتیں دے رہے ہیں تو وزیرتعلیم الگ زیر عتاب ہیں ۔اس تحریک کو” بوسٹر“ اس وقت ملا جب نوجوانوں میں مقبول یوٹیوبر دروو راٹھی نے اس کاکروچ پارٹی کی حمایت کرتے ہوئے ویڈیو پوسٹ کی اور کہا کہ صرف اس طرح سوشل میڈیا پر فالوور کی گیم نہیں بلکہ پہلے ٹاسک کے طور پر ہندوستان کے وزیرتعلیم دھرمندر پردھان کا استعفٰی طلب کیا جائے ۔راٹھی کی اس تجویز کے بعد کاکروچوں نے ہندوستان کے وزیرتعلیم کے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے اور اس پٹیشن پر دستخط کرنے کو کہا جارہا ہے اس پٹیشن پر اب تک لاکھو ں نوجوان دستخط بھی کرچکے ہیں ۔گوکہ یہ مطالبہ سوشل میڈیا پر کیا جارہا ہے لیکن اس کا اثر حقیقی طورپر بی جے پی سرکار پربہت گہرا ہورہا ہے۔ہندوستان پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں اور میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق اگر یہ کاکروچ پہلے مطالبے کے طورپر ہندوستان کے وزیرتعلیم دھرمندر پردھان جنہوں نے سن دوہزار اکیس میں یہ عہدہ سنبھالاتھا اور مودی نے تیسری بارمنتخب ہوکر بھی ان کو عہدے پر برقرار رکھا تھا اگر ان کو عہدے سے ہٹانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر اس تحریک کو آگے بڑھنے سے روکنا مشکل ہوجائے گا ۔
یہ بات تو طے ہے کہ یہ مودی اور بی جے پی کی آخری باری ہے اس کے بعد اگلے الیکشن میں ان کا منتخب ہونا ناممکن ہوگا لیکن اگلی باری کے طورپر راہول گاندھی امیدسے ہیں ۔اب گاندھی بھی ان نوجوان کاکروچز کو اپنی طرف کرنے کی کوشش میں لگ گئے ہیں تاکہ اس امید کو برقرار رکھا جاسکے۔خیر ہندوستان کا سیاسی نقشہ کیا بنے گا اس میں کچھ وقت ہوسکتا ہے لیکن وہ ہندوستان جس نے پی ٹی آئی کے ذریعے پاکستان میں ڈسٹربنس پیدا کرنے کی کوشش کی۔بنگلہ دیش میں طلبا تحریک کو کچلنے میں حسینہ واجد کی مدد کی اور نیپال میں جین زی انقلاب لانے میں مدد کی اب اپنی دوائی کا ذائقہ چکھنے کے قریب ہوتا جارہا ہے۔ہندوستان میں مودی کے مصنوعی نظام کا دم گھٹنے لگا ہے۔کاکروچ اپنی آبادی بڑھارہے ہیں کیا جین زی کا اگلا ٹارگٹ ہندوستا ن بننے والا ہے؟۔

ٹیگز: