Wed, September 16, 2026

اے لا الٰہ کے وارث!

اے لا الٰہ کے وارث!

 ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ، امریکہ اور دنیا بھر کے عوام کو بھاری پڑرہی ہے۔ اسرائیل، امریکہ کو اس میں جھونک کر خود غزہ اور لبنان، مسجد ِاقصیٰ کو زیر زمین کھوکھلا کرنے، قبضہ جمانے اور مغربی کنارہ ہتھیانے کے لیے بے خوف و خطر جاری وساری ہے۔ ٹرمپ کی حواس باختگی میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ ایران حلق میں پھنسی چھچھو ندر بن کر نہ اگلے بن پڑتی ہے نہ نگلے۔ داخلہ حالات دگر گوں ہیں۔ چین میں بھی ٹرمپ، شی ملاقات کھو کھلی، پھیکی، بے فیض ہی رہی۔ روایتی چینی محتاط انداز حاوی رہا۔ روایتی بیان۔ البتہ چینی حساس ترین نکتہ ، تائیوان باور کروانا نہ بھولے۔ ایران پر علاقائی استحکام کی تاکید رہی اوربس! ڈیمو کریٹ سینیٹرز، ڈیمُو (بھونڈ) بنے ٹرمپ کی ایران جنگ پر کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ غیر یقینی جنگی صورتحال، معاشی تفکرات، انتخابات در پیش۔ ان کا یہ بڑھتا ہوا احساس ہے کہ ٹرمپ کو بطور صدر جنگ کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیے رکھنا خطرناک ہے۔ چین، روس کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ہم کمزور پڑ رہے ہیں۔ جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ ٹرمپ دھمکیوں پر جی رہا ہے۔ اسے خود صیہونی دھمکیاں، دھمکا رہی، چلا رہی ہیں۔ یہ سب انہی کے ایجنڈے ہیں۔ ایک حملہ سعودی عرب پر ہو گیا، عراق سے امارات کے حساس نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون آن پڑا۔ بچت تو ہو گئی مگر تیل دو ہفتوں میں اونچا ترین چڑھ بیٹھا۔ 
ایران سکون واطمینان سے چل رہا ہے۔ہر مز سے ٹریفک کیسے گزرے گی، ٹول ٹیکس کتنا ہو گا،خلیج پر مکمل حاکمیت کا دعویدار ہے! اسی پر ٹرمپ بھڑک اٹھتاہے اور پھر ایران کو برے وقت کی دھمکیاںٹویٹ پر داغ دیتا ہے۔جنگ کی دھمکیوں اور امن مذاکرات کے درمیان دنیا کی اعصاب شکنی کا کھیل جاری ہے!ایک ٹویٹ میں امریکی جھنڈے پر مشرق وسطیٰ (بشمول پاکستان، افغانستان) کا نقشہ بنا کر، ہر طرف سے سرخ تیروں کے رخ ایران کی طرف کیے دکھا دیے۔ پھر دانتوں تلے انگلی دبا کر چپکا بیٹھ رہا۔ مارجوری ٹیلر، سابقہ ٹرمپ کی حمایتی کانگریس وو من نے کہا: ’اگر فوجیں ایران بھیجیں، تو کہانی ختم ہو جائے گی۔ امریکہ میں سیاسی انقلاب آجائے گا۔ بند کرو یہ جنگ۔‘ ادھر جرمنی کے امریکی اڈے سے درجنوں جہاز امریکی اسلحہ لیے اسرائیل پر اترے ہیں۔ فرانسیسی لیڈر شدید ناقد ہوا کہ دنیا کا امن، ٹرمپ اور نتین یاہو کے مفادات کے رحم و کرم پر ہے۔
نتین یا ہو دنیا کو اپنی ڈال کر دھڑا دھڑ ظلم کی چکی چلا کر گریٹر اسرائیل ایجنڈے پر گامزن ہے۔ اسے کھلا وقت مل گیا ہے۔ نہ صرف لبنان کی تباہی بلکہ غزہ میں خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے کو شہید کیا۔ القسام بریگیڈ کے عظیم رہنما عزالدین الحداد نسل ابراہیمی کے انبیاءکی سرزمین، قبلہ¿ اول کے تحفظ میں اسرائیل کے ہاتھوں شہادت کا اعزاز پا گئے۔ 
وطنیت نہیں، جہاد فی سبیل اللہ کا عظیم راہی، راہبر! اللہ اس امت کے پاکیزہ ترین خون قبول فرما کر دنیا کو فراعنہ سے پاک فرما دے۔ (آمین) غزہ آج بھی صبر و ثبات میں ہے۔ خلیل الحیہ کی بہادربیوی کا چوتھے بیٹے کی شہادت پر خنساءرضی اللہ عنہا کا سافخر و ثبات دیکھ، سن لیجیے۔ تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں! ہم تو چند سطور لکھ کر فارغ ہو جاتے ہیں! ٹک ٹک دیدم!
نیو یارک ٹائمزمیں نکولس کرسٹوف کے کالم ’خاموشی، جو فلسطینی (قیدیوں) پر جنسی تشدد پر جاری ہے‘ پر اسرائیل بھڑک اٹھا۔ مضبوط شواہد، انٹرویوز کی بنیاد پر لکھا گیا۔ آباد کاروں، تفتیش کاروں، اسرائیلی فوجیوں اور جیل گارڈوں کی ڈھائی جانے والی قیامت! اس پر نیو یارک میں یہودی احتجاج پر اتر آئے۔ نتین یا ہو بھڑک اٹھا۔ مگر اخبار نے مضبوط، غیر متزلزل موقف اختیار کر کے کالم کا دفاع کیا! اس پر یو این رپورٹ بھی پہلے آچکی ہے جو جنسی تشدد کو معمول قرار دیتی ہے۔ ہاں امت کے 2 ارب مسلمان ہی تجاہل عارفانہ سے اپنی سیاسی، مفاداتی مجبوریوں کی بنا پر کام لیتے ہیں۔ معتصم باللہ، محمد بن قاسم کا دور لد چکا۔ اب ہم ہائی ٹیک ہیں!
 پاکستان اللہ کرے ثالثی میں کامیاب ہو اور عوام پر توجہ دے پائے۔ اشرافیہ عیاشیہ کے اللے تللے تو جوں کے توں ہیں۔ جنگ کی زد تیل پر اور تیل کی قیمت عوام کو جھلسا رہی ہے۔ عوامی ضروریات کی سستی سواری، ریلوے نظام کو تباہ ہونے دیا گیا۔ جس سے عوام، تجارت، صنعت سبھی کچھ وابستہ تھا۔ اب تیل کا قضیہ¿ اہل مغرب ہی سدھاریں، حل کریں گے۔
 کینیڈا کے 200 سابقہ سفارت کاروں نے کھلا خط اپنی حکومت کو لکھا ہے کہ’ اسرائیل کے خلاف سخت بین الاقوامی پابندیاں عائد کی جائیں۔ جو بین الاقوامی قوانین اور حقوقِ انسانی کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔ خصوصاً انسانی اشیائے ضروریہ اور صحافیوں کی غزہ میں داخلے پر بندش سے۔ نیز حکومت، اسرائیل سے کیے تجارتی معاہدوں پر نظر ِثانی کرے اور صورتحال بہتر نہ ہو تو پارٹنر شپ ختم کرے۔ ان کینیڈین کمپنیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے جو اسرائیلی آباد کاری میں مدد دے رہی ہیں۔ رفاہی اداروں کی حیثیت بھی ختم کی جائے جو اسرائیلی فوج یا آباد کاروں کی مغربی کنارے پر حمایت کر رہی ہیں!‘ زندہ غیر مسلم ضمیر بھی چلا اٹھتا ہے۔ اللہ انہیں قلب ِسلیم کی دولت عطا فرمائے ۔(آمین)
 اسی دوران ہماری یاد دہانی، تربیت کو اور دنیا (جو رب تعالیٰ کی پہچان گنوا کر دنیا، آخرت کے عذابوں میں گھری ہوئی ہے)، کے حوالے سے ہماری ذمہ داری سے لدا پھنداذی الحج طلوع ہو گیا! انقلاب آفرین ،عظیم پیغمبر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خانوادے کی عزیمت بھری داستان اول تا آخر دہرانے کو دنیا بھر سے مسلمان کھچے چلے آتے ہیں۔ مگر کیا کیجیے امت کے حصے براہیمی نظر کم کم ہی پیدا ہوتی ہے۔ سارا حصہ غزہ لوٹ کر لے گیا جو اس سرزمین کا سچا وارث ثابت ہوا۔ باقیوں کے حصے میں براہمی معاہدے آئے نمرودی، فرعونی، غزہ کے بچوں کے خون میں رچے! اے لا الہ کے وارث، باقی نہیں ہے تجھ میں۔ گفتار ِدلبرانہ کردارِ قاہرانہ (اپنوں پر قہر انگیز، غیروں سے دلبری!) حج ہی تو رنگ، نسل، زبان سے ماورا ہو کر یہ مانگتا ہے کہ:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے 
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
 یومِ عرفہ، مقامِ و عدہ¿ الست، مقامِ محشر، مغفرت کی کریمی کا دن! وعدہ¿ الست جب سبھی نے اللہ کی غلامی کا عہد کرتے ہوئے پہلی مرتبہ کلمہ پڑھا تھا۔ چہار جانب ہر رنگ، نسل، زبان کا مسلمان ہوگا۔ کفن بر دوش۔ وی آئی پی حج( حج کی روح کمزور کر دینے والا!) بھی ہو تو خاک کا پتلا اللہ کے حضور سر جھکائے مغفرت طلب ہوگا۔ مغفرت ذاتی بھی درکار ہے، پوری امت کی بھی! ہم سبھی اللہ کے مجرم ہیں۔ دنیا گمراہ ہے۔ کفر میں ٹھوکریں کھاتی خود ہی جیسے تیسے براستہ جہادِ اقصیٰ قرآن پا کر اسلام قبول کرتی ہے۔ روح کی اس عظیم منزل پر پہنچ کر دم بخود رہ جاتی ہے۔ ہم کہاں زندگیاں گنواتے رہے اور 2 ارب مسلمانوں نے ہمیں محروم رکھا؟ 
میلکم ایکس (افریقی نسل کا امریکی مسلمان جو سیاہ فام غلاموں کا ماضی لے کر آیا تھا۔) امریکہ میں مسلمان تو ہو چکا تھا۔ مگر اصل اسلام اس نے حج کے موقع پر پہلی مرتبہ پایا۔ دوبارہ کلمہ پڑھا اور اسلام کے لیے دیوانہ ہو گیا۔ یہی حال محمد علی کلے( افریقی امریکی باکسر) کا بھی تھا۔ دونوں امریکہ میں سیاہ فام ہونے کی بنا پر گوروں کے ہاتھوں نسل در نسل تذلیل اٹھاتے آئے تھے۔ حج پر جب مسلم اخوت کے خوبصورت مظاہرے دیکھے تو دم بخودرہ گئے۔ یہ دونوں خوبصورت ترین کہانیاں آج کے نوجوان کے لیے اجنبی ہیں۔ خصوصاً میلکم ایکس تو لوٹ کر گوروں کے لیے اتنا ناقابل ِبرداشت جوشیلا، متحرک انقلابی مسلمان بن گیا کہ امریکی سر زمین کے لیے تو وہ دہشت گرد ہی ٹھہرا۔ ایمان سے لبالب بھرا، عالمگیر اسلام کے سہانے خواب دیکھنے لگے۔ لہٰذا پھر وہ شہید کر دیا گیا۔ بڑے سلیقے سے سیاہ فام ہاتھوں سے ہی اس پر حملہ کروایا گیا۔ محمد علی بھی ایمان سے مالا مال ہوا مگر اب تصوف زیادہ مناسب تھا! سو اللہ سے محبت پا کر پار کسنز کا مریض، بڑے بڑے امریکی سپر ہیر و باکسروں کو شکست دینے والا ابدی نیند جاسویا۔حج انقلاب آفرین ہے۔ روئیں روئیں پر اثر انداز ہوتا ہے بشرطیکہ موبائیل زدگی کے وائرس سے محفوظ رہ سکے الا ناگزیر! قربانی ہم یہاں کریں گے؟ آپ کا اسماعیل کون ہے، محبوب ترین؟ صرف بکرا، دنبہ، گائے؟یا نفس، مال و دولت، مناصب کی پوجا پاٹ، حب ِدنیا، کراہیة الموت؟ قرب تو اسماعیل ؑ، قیمتی ترین متاع کی قربانی مانگتا ہے!
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تُو باقی نہیں ہے

ٹیگز: