Wed, September 16, 2026

سرمایہ کاری میں شدید گراوٹ: بھارت کی سخت گیر پالیسیوں کا معاشی اثر سامنے آ گیا

سرمایہ کاری میں شدید گراوٹ: بھارت کی سخت گیر پالیسیوں کا معاشی اثر سامنے آ گیا

نئی دہلی :بھارت میں جاری سیاسی کشیدگی اور خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی تناؤ نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 2024-25 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، بھارت کو رواں مالی سال کے دوران صرف 353 ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہوئی، جو پچھلے مالی سال کی 10 ارب ڈالر کی سطح کے مقابلے میں 96.5 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ کمی محض ایک وقتی رجحان نہیں بلکہ بھارت کی جارحانہ خارجہ پالیسی، خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی سیاسی ماحول کا نتیجہ ہے۔
سرمایہ کار عمومی طور پر استحکام، شفاف قوانین، اور پُرامن سفارتی رویے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ بھارت کی حالیہ پالیسیاں ان تمام اصولوں کے برخلاف سمجھی جا رہی ہیں۔

مودی حکومت کی پالیسیوں پر اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ "ملک کو عسکری بیانیے کے بجائے اقتصادی استحکام کی ضرورت ہے، جبکہ موجودہ حکومت نے سفارتی محاذ پر غیرضروری محاذ آرائی کو ترجیح دی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارت سے پیچھے ہٹنا نہ صرف داخلی معاشی دباؤ کی علامت ہے، بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک اشارہ بھی ہے کہ خطے میں سیاسی اور دفاعی توازن برقرار رکھنا کتنا اہم ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو نہ صرف معیشت مزید دباؤ میں آ سکتی ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں معاشی عدم استحکام بھی گہرا ہو سکتا ہے۔

ٹیگز: