ہر ذہن میں یہ سوال ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بھڑکتی آگ اب کیا رخ اختیار کرے گی ۔کیا یہ جنگ تھمے گی یا یہ تنازع کوئی نئی شدت اختیار کرے گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر منظر نامہ کیا ہوگا جنگ کے شعلے کس کو جھلسائیں گے اور کون بچ پائے گا؟ ہمارے دوست بریگیڈئیر (ر) شفیع غازی اور میجر(ر) سردار ذوالفقار کو یقین ہے کہ کھیل قدرے پیچیدہ ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں کہ جتنا سمجھا جا رہا ہے اسے محض ایران اور امریکہ و اسرائیل کی جنگ نہ سمجھا جائے بلکہ کھیلا گیا کھیل اپنے مقاصد اور طریقہ کار کے باعث کہیں عمیق اور کثیر الجہتی مقاصد رکھتا ہے۔نشانہ محض ایران ہی نہیں بلکہ پورا خطہ ِعرب بالخصوص اسلامی دُنیا کی واحد ایٹمی قوت پاکستان بھی ہے ۔ پاکستان کے خلاف تیزی سے گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ۔ انکے مطابق پاکستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے اس کے مشرق اور مغرب میں محاذ گرم کیا جارہا ہے اسی طرح جیسے کبھی عراق پر مہلک ہتھیاروں کا الزام لگا کراس پر حملہ کیا گیا اور تباہی و بربادی کی ایک نئی تاریخ رقم کی گئی۔ ایران کے ساتھ بھی اس وقت ایسا ہی کچھ کیا جارہا اور اب امریکہ کی جانب سے پاکستان کے میزائل پروگرام کو اپنے خلاف ممکنہ خطرہ قرار دیا جانا وہ سازش ہے جس میں واشنگٹن ، تل ابیب اور نئی دہلی کے منحوس تکون ملوث ہے ۔یعنی جنگ کا میدان ایران سے پاکستان لانا ہے۔
ایسے میں اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے ایران، امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کو ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کے ڈیفنس فورسز کے چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم سرکاری حکام سے بات کی ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدرمسعود پزشکیان کو اس ضمن میں اعتماد میں لیا ہے۔ یہ مذاکرات آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں ہونے کی نوید دی جا رہی ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مذاکرات کے انعقاد کی تجویز یا درخواست کس نے کی ہے سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی میزبانی میں یہ مذاکرات کامیاب ہوسکیں اور اگر نہیں ہوتے تو پاکستان جو اس وقت تک اس جنگ سے خود کو حتی الامکان دور رکھنے کی کوشش کر رہا ہے کہیںجنگ کا خطرہ اسے بھی تو دامن گیر نہ ہوجائے گا۔ جہاں تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سوال ہے تو انکی پیشگی شرائط اس قدر سخت معلوم ہوتی ہیں جن سے یہ مذاکرات کامیاب ہوتے تونظر نہیں آتے اور اگر ایسے میں واشنگٹن نے اسلام آباد پر یہ دباﺅ ڈالاکہ وہ تہران کو اسکی شرائط منوانے میں اپنا دباﺅ استعمال کرے تو یقینا پاکستان کے ایران کے ساتھ اس وقت موجود خوشگوار لیکن قدرے نازک تعلقات پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی یہ حتی الامکان کوشش نظر آتی ہے کہ عرب دُنیا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوجائے اور پاکستان مذاکرات کے نتائج سے مایوس ہو کر ایران کے خلاف عرب ممالک کا ساتھ دینے کی فاش غلطی کر بیٹھے تاکہ گریٹر اسرائیل کی راہیں ہموار ہو سکیں۔ یعنی ایک تیر سے کئی شکار۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے حوالے سے ایک دوہری حکمت عملی اپنائی ہے۔ ایک طرف وہ مذاکرات کی بات کرتے نظر آتے ہیں، تو دوسری جانب سخت دھمکیوں کے ذریعے دباو¿ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری اور میزائل پروگرام پر سمجھوتہ کرے اور خطے میں اپنی سرگرمیاں محدود کرے تو امریکہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چند روز کے لیے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو روکنے کا عندیہ بھی دیا، جسے ایک سفارتی موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔لیکن اس نرم مو¿قف کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کی دھمکیاں بھی غیر معمولی حد تک سخت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی تو اس کے توانائی کے نظام کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور مزید وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی بھی خارج از امکان نہیں۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام کو کھلا رکھنے کا مطالبہ بھی اسی دباو¿ کا حصہ ہے، کیونکہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔دوسری جانب ایران نے نہ صرف ان الزامات کو مسترد کیا ہے بلکہ بھرپور جوابی حکمت عملی بھی اختیار کی ہے۔ ایرانی قیادت نے ٹرمپ کے مذاکراتی دعوو¿ں کو “فیک نیوز” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ دباو¿ میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ ایران نے اپنے اتحادیوں اور پراکسی نیٹ ورکس کو متحرک کرتے ہوئے خطے میں اپنی موجودگی کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ اسرائیل پر میزائل حملے اور خلیج میں کشیدگی میں اضافہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
ایران کی سب سے اہم سٹرٹیجک چال آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کا مو¿قف ہے۔ اگر یہ گزرگاہ متاثر ہوتی ہے تو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کی رکاوٹیں، اور عالمی منڈیوں میں بے چینی اس کے فوری اثرات ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس معاملے پر انتہائی حساس ہیں۔اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے مسلسل عسکری دباو¿ نے جنگ کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ لبنان، عراق اور خلیجی ممالک بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں، جس سے ایک وسیع علاقائی جنگ کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔اس تمام صورتحال کے عالمی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔ توانائی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے، تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاو¿ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور کئی ممالک کو اقتصادی دباو¿ کا سامنا ہے۔ عالمی طاقتیں اگرچہ سفارتی کوششیں کر رہی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔