کمزور اور طاقتور کے درمیان کبھی کوئی معاہدہ نہیں ہوتا کیونکہ معاہدہ دونوں فریقین کی رضامندی سے طے پاتا ہے اور طاقتور کیونکرکسی کمزور سے معاہدے کیلئے رضامند ہو گا ؟ جبکہ کمزور کو طاقتور ہونے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے اوروہ بھی معاہدے پر اتنی دیر تک قائم رہتا ہے جب تک وہ طاقتور نہیں ہو جاتا ۔ اس کی زندہ مثال جنگ عظیم اول ہے جس کے خاتمے پر جرمن کو ذلت آمیز صلح نامہ دستخط کرنا پڑا۔ اپنے علاقے فرانس کودینے اور اپنے نو آبادیات سے بھی دستبردار ہونا پڑا۔ جرمن پر لگنے والی فوجی پابندیاں انتہائی ذلت آمیز تھیں اور وہ ایک لا کھ سے زائد فوج نہیں رکھ سکتا تھا ¾ ٹینک ¾ ہوائی جہاز او ر آبدوزیں تک نہ رکھنے پر پابندی منظور کی۔جرمنی کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیا اور اُسے جنگ کی ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور کرکے اُس پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے تاکہ جنگ کے نقصانات کا ازلہ کیا جا سکے۔1919ءمیں ہونے والا ”معاہدہ ورسائی “ کو دیکھ کر کون پیشن گوئی کرسکتا تھا کہ یہی جرمنی صرف بیس سال بعد 1939ءمیں برطانیہ ¾ امریکہ اور روس کے مدمقابل ہو گا لیکن یہ سب کچھ گواہِ مستقل آسمان نے دیکھا اور دنیا جنگ ِ عظیم دوم کے نرغے میں آ گئی ۔ کروڑوں انسان مارے گئے اورترقی کرتا ہوا انسان بدترین صدمات سے نبرد آزما ہو کر پھر نئی دنیا کی تعمیر میں جُت گیا ۔ برابر کی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے ترقی اور بقا کیلئے ہوتے ہیں جب کہ کمزور اور طاقتور کا معاہدہ سوائے درکار وقت یا پھر مستقل غلامی کیلئے ہوتا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ کو ہم کھلی جنگ کہہ سکتے ہیں لیکن یہ جنگ دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان حماس اور حزب اللہ جیسی پراکسیز کی شکل میں دنیا بھر کو نظر آ رہی تھی اور دوسری طرف اسرائیل نے بھی ایران پر کبھی ” ہولا ہتھ “ نہیں رکھا اور ایران کے خلاف سائبر حملے کرنے کے علاوہ اُس کے سائنسدانوں کو نشانہ بنایا اور شام میں ایرانی تنصیبات پر حملے کیے لیکن موجودہ جنگ میں امریکہ کی اعلانیہ شمولیت نے عالمی امن کو مشکوک بنا دیا ہے۔ ایران سے چار ہزار کلومیٹر دور ڈیاگو گارشیا کے جزیرے پر واقع برطانیہ کے زیر انتظام امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملوں نے مجھے پرل ہاربر کی یاد دلا دی ہے جب امریکہ دوسری عالمی جنگ سے باہر تھا لیکن پرل ہاربر پر ہونے والی بمباری اُسے عالمی جنگ میں گھسیٹ لائی ۔ برطانوی وزیر اعظم کے ٹرمپ کو صاف انکار کے بعد میں سوچ رہا ہوں کہ یہ حملہ کہیں برطانیہ کو جنگ میں لانے اور مغرب کو خوفزدہ کرنے کیلئے تو نہیں کیا گیا ! کیونکہ ایسی حماقت ایران کو اُس وقت تو کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں تھی جب برطانیہ ¾ فرانس ¾ جرمنی ¾ آسٹریلیا اور کینیڈا نے مسٹر ٹرمپ کی جنگ کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا ۔ یہ جنگ ابھی ختم ہونے والی نہیں کہ روز بروز بڑھتا ہوا جنگی درجہ حرارت عالمی سرمایہ داروں کے سرمائے میں دن رات اضافہ کررہا ہے۔وہ یہ نہیں سوچ رہے کہ اس سرمائے سے لطف اندوز ہونے کیلئے اس زمین کا اپنے مدار میں رہنا بھی ضروری ہے۔
پاکستان خودافغان دہشتگردوں کے آپریشن غضب للحق میں الجھا ہوا ہے یقینا دہشتگردوں کے حمایتی پاکستان میں بھی موجود ہیں جن کا خیال ہے کہ افغانستان نہیں تو پاکستان نہیں اور دوسری طرف جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہے لیکن یہاں سے آواز اٹھتی ہے کہ ایران نہیں تو پاکستان نہیں ۔ صرف فیلڈ مارشل عاصم منیر ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں وہ دنیا قابل ِ قبول نہیں جس کے نقشے میں پاکستان نہ ہو ۔ بھارت ¾ اسرائیل اور افغانستان تو پاکستان کے جغرافیے سے باہر ہیں لیکن جو پاکستان میں رہ کر پاکستان کی بربادی کی دعائیں مانگتے ہیں اُن کا کوئی بندوبست ابھی تک نہیں کیا گیا ۔ راجہ ناصر عباس کو ایران اور اُچکزئی کو افغانستان عزیز ہیں اور یہ کہانی نہ تو آپریشن غضب للحق کے ساتھ شروع ہوئی ہے اورنہ ہی اس کا تعلق ایران اسرائیل جنگ سے ہے۔ عمران نیازی نے ایک ایک کرکے اپنے مہرے بدلے ہی اور ہمیشہ بد سے بدترین پاکستان مخالف لا کر افواج ِ پاکستان کے سامنے کھڑا کیا ہے ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے یہ بیان منسوب کرنا کہ اُنہوں نے کہا ہے کہ جن کو ایران سے محبت ہے وہ ایران چلے جائیں ¾ یقینا انتہائی واہیات حرکت ہے لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں کہ عاصم منیر نے ایسا کیوں نہیں کہا کہ جنہیں ایران یا افغانستان پاکستان سے زیادہ عزیز ہے وہ چوبیس گھنٹے میں پاکستان چھوڑ کر اپنے پسندیدہ ملک میں چلے جائیں بجائے اس کے کہ پاکستان میں بیٹھ کر پاکستان مخالف پروپیگنڈا چلائیں ۔ اسرائیل گریٹر اسرائیل کیلئے سفر کرتا ہوا ایران تک آن پہنچا ہے اور ہم ہیں کہ ابھی تک مسلکی لڑیوں اور سیاسی وابستگیوں سے باہر نہیں نکل رہے ۔یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ میزائل کا کوئی مسلک نہیں ہوتا ¾ برستے ہوئے بارود کا کوئی مذہب نہیں ہو تا ¾ چلتی ہوئی گولیاں بلا امتیاز قتل کرتی ہیں ۔ عقائد انسانوں کے ہوتے ہیں اور اگر عقائد کی بنیاد پر لڑنا ہے تو پھر اسرائیل ¾ امریکہ یا بھارت کو تو جنگ کی ضرورت ہی نہیں اُن کیلئے افغان اور ایران ہمدرد ہی کافی ہیں ۔ پاکستانیوں کی اکثریت امریکی جارحیت کے خلاف ہے ¾ اسرائیل کو اقوام متحدہ کی ناجائز اولاد سمجھتی ہے ¾ ایران کے ساتھ ہمارا توحید و رسالت کا رشتہ ہے تو پھر پاکستان کے خلاف زبان دراز ی کرنے کا ایک ہی مطلب ہے مغربی مفادات ۔ مسلکی نظریات ۔ دنیاوی تجارت ۔ خود
غرضی اور نفرت ۔مجھے ذر ا برابر بھی شک نہیں کہ غزہ جنگ کے دوران ہی پی ٹی آئی نے پاکستان میں اپنی فوج مخالف صفیں درست کرنا شروع کردی تھیں اور اپنے مہرے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پہنچا دیئے تھے جو اب اپنے اپنے تالابوں سے نکل کر برساتی مینڈکوں کی طرح رنگ رنگ کی بولیاں بول رہے ہیں ۔ پاکستان کے نوجوانوں کو بلا امتیاز رنگ ¾ نسل ¾ مسلک اور مذہب ریاست کو اعتماد میں لینا ہو گا ۔ روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں اور عام آدمی کو آگاہ کرنا ہو گا کہ کون کونسا مکروہ چہرہ اس وقت پاکستان کے خلاف فوج مخالف پروپیگنڈا کا حصہ ہے ۔جس حکومت کو اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں وہ ریاست کودرپیش مسائل کی طرف توجہ کیونکر دے گی ۔ مہنگائی کے طوفان میں آپ یقینا پیٹرول کی قیمت کم نہیں کر سکتے لیکن موٹر سائیکل سوار کا چالان تو کم کرسکتے ہیں ۔ عوام کو بہت سے ریلیف ایسے ہیں جو ان بُرے حالات میں دیئے جا سکتے ہیں ۔ معاشی مشکلات میں پھنسے شخص کو ریاست مخالف باتیں درست معلوم ہوتی ہیں ۔ شاعر مشرق اقبال جناب خامنہ ای صاحب کے پسندید ہ شاعر تھے اور اقبال فرماتے ہیں کہ
تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
نشہءمئے کو تعلق نہیں پیمانے سے