جزا سزا سے کہیں ماورا ہے میرا عمل
یہ کار عشق مسلسل گناہ تھوڑی ہے
اس زندہ شعر کے خالق کو یوں آسانی سے ملتان میں مل لینا آسان نہ ہوتا اگر جناب محسن شکیل اپنی بیٹی کو ملنے کوئٹہ سے ملتان نہ آئے ہوتے۔ محترمہ کائنات اظہر ملتان میں ایس پی ہیں اور وہ بیٹی کی طرف سال میں ایک دو بار تشریف لاتے ہیں تو برادرم قمر رضا شہزاد اس شام کے میزبان ہوتے ہیں تو ہمیں بھی شرف ملاقات رہتا ہے۔ جناب محسن شکیل کی شاعری میں یوں بھی شام بہت عام ہے۔ یہ شام بھی اسی سلسلے کی تیسری شام تھی جو ہمارے آنگن میں اتری۔ میں نے جناب محسن شکیل کی یہ نظم بہت پہلے پڑھی تھی اور شام کی آنچ سے الجھنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ میرا تعلق بھی آنسوو¿ں سے بنے ہوئے قبیلے سے ہے۔
ٹھیس لگ جائے تو ندی کی طرح
پہروں بہتے ہیں اپنی آنکھوں میں
کوئی چھیڑے تو کچھ نہیں کہتے
صورت گل ہوا سے کیا شکوہ
شام کی آنچ سے الجھنا کیا
ہاں مگر سانس میں کوئی لرزش
مدتوں ساتھ ساتھ رہتی ہے
کس کو بتلائیں کس قدر نوحے
رنج میں کس قدر بسے نغمے
گیت ملنے کے اور بچھڑنے کے
کتنے کردار اِک کہانی کے
اپنے احساس میں سسکتے ہیں
جن کو یہ لوگ سوچتے بھی نہیں
ایسے رشتوں کو ہم پروتے ہیں
اَبر کی طرح سائے کی چادر
سب کی روحوں پہ ڈال دیتے ہیں
اور ساری تھکن عذابوں کی
ایک بارش میں ڈھال لیتے ہیں
خود سلگتے ہیں کچھ نہیں کہتے
خود سسکتے ہیں کچھ نہیں کہتے
صورت گل ہوا سے کیا شکوہ
شام کی آنچ سے الجھنا کیا
آنسوو¿ں سے بنے ہوئے ہم لوگ
جناب محسن شکیل، قمر رضا شہزاد اور شاکر حسین شاکر سے بھی عید ملاقاتیں ہوئیں اور اسلام آباد سے اپنے آبائی شہر ملتان میں تشریف لائے معروف اینکر سہیل اقبال بھٹی بھی عید پر عید کرنے کا سبب بنے۔ اسرار احمد چودھری کی محبت بھی شامل حال رہی۔ ایک اور مصروفیت میرا گاو¿ں تھا جہاں والدین اور اقارب کی قبروں کے اطراف میں پھیلی مٹی کی خوشبو سے آشنائی مجھے ہر بار اپنی طرف کھینچتی ہے۔ عید الفطر کے روز، یکم شوال کو میری اولیں درس گاہ، میری ماں کی پہلی برسی تھی مگر میں نے یوم گزشتہ عیدالفطر کی مصنوعی و جعلی خوشی کی فضا کو اُداس نہیں کیا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ گزشتہ برس کی چاند رات سے میری ذاتی زندگی میں آنے والی آخری عید تک، اب عید نہیں رہی بلکہ ایک غم میں ڈوبی یاد ہو چکی ہے۔ گزشتہ برس عین عید کے روز میری ماں کا جنازہ تھا اور میں دور دراز سے چلے آئے دوستوں کی محبت کا ہمیشہ مقروض رہوں گا، رشتہ داروں نے تو آنا ہی ہوتا ہے۔
عید کی ایک اور مصروفیت یہ بھی تھی کہ مجھے ماں کی موت کا غم بھی چھپانا تھا کیونکہ میں رنجیدہ رہ کر اپنے سے وابستہ لوگوں کو ملول نہیں رکھ سکتا تھا، چاہے وہ میرے بچے ہی کیوں نا ہوں۔
اس عید پر یہ بھی دیکھا گیا کہ اب کی بار عید الفطر کی نماز کے بعد رقعت آمیز دعاو¿ں میں کہاں کہاں یہ التجائیں شامل نہیں تھیں اور شائد کہیں بھی نہیں تھیں۔
”یا اللہ غزہ کے مسلمانوں کی مدد فرما“
”یا اللہ فلسطین کو آزاد فرما“
”یا اللہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہود پر فتح نصیب فرما“
اور اب آخری مصروفیت کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ وہ یہ کہ ہر ڈیرے پر یہی سوال تھا کہ فیلڈ مارشل صاحب نے جو شیعہ علما بلائے تھے وہ پوری شیعہ برادری کے نمائندہ تو نہیں تھے وہ سب ایک مخصوص سیاسی جماعت کے مذہبی ونگ والے ہی کیوں تھے؟ ظاہر ہے ان سوالات کا جواب میرے پاس نہیں تھا کیونکہ بلانے والے سٹاف کی مرضی ہے جسے بلائے، جسے نہ بلائے۔ مگر ایک بات میں جانتا ہوں کہ ایران صرف پاکستان پر خوش تھا کہ شائد واحد اسلامی ریاست تھی جس نے ایران کے خلاف سفارتی، اخلاقی و عملی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ پاکستان کے اندر جو مذہبی جماعتیں ایران کے خلاف برسر پیکار ہیں اب یہ ان کے اور امریکا کے باہمی معاملات ہیں کہ امریکا جتنا گڑ ڈالے گا اتنا ہی میٹھا ہو گا۔ عید کی چھٹیاں ایسے ہی گلدستہ بنی رہیں، مختلف موضوعات کا اور مختلف جذبات کا۔