Wed, September 16, 2026

ہارڈ سٹیٹ: سیاسی اختلافات نہیں صرف قومی یکجہتی 

ہارڈ سٹیٹ: سیاسی اختلافات نہیں صرف قومی یکجہتی 

ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا باضابطہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں حکومت سے الگ ہو کر آزاد بنچوں یا اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے بارے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ شہبازشریف وزیراعظم بنیں لیکن ایم کیو ایم کے ساتھ جو وعدے کئے گئے وہ پورے نہیں کئے گئے۔ جن میں سندھ اور حیدر آباد پیکیج شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر امور پر بھی ہمارے تحفظات ہیں۔ وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ن کا ایم کیو ایم کے ساتھ رویہ درست نہیں ہے۔ 
اس وقت مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم سمیت کئی پارٹیاں کسی نہ کسی حیثیت میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ محمد شہبازشریف، رانا ثناءاللہ، اسحاق ڈار، وغیرھم جیسے جغادری سیاست دان حکومت چلا رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی ویسے ہی منجھے ہوئے سیاست دانوں پر مشتمل ہے۔ آصف علی زرداری جیسی بھاری بھرکم سیاسی و کھلاڑی شخصیت ایوان صدر میں براجمان ہے۔ یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے سربراہ ہیں۔ ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر ہیں۔ خواجہ آصف وزارت دفاع سنبھالے ہوئے ہیں۔ محسن نقوی جیسی بااختیار اور فطین شخصیت کے پاس وزارت داخلہ کا قلمدان ہے جس طرف بھی دیکھیں باصلاحیت، بھاری بھرکم اور بااختیار شخصیات ذمہ دار پوزیشنز پر بیٹھی نظر آتی ہیں۔ ہاں مرکزی بینک اور وزارت خزانہ پر عالمی معیار کی تربیت یافتہ مقبول شخصیات کے اختیار میں ہیں۔ حکومت قائم ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے۔ کارکردگی دیکھیں تو مناسب محسوس ہوتی ہے۔ معیشت کی گراوٹ کی رفتار تھم چکی ہے۔ ڈیفالٹ کے منڈلاتے بادل چھٹ چکے ہیں۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے کی باتیں کرنے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ عالمی مالیاتی اور زری اداروں کے ساتھ معاملات طے ہو رہے ہیں۔ عمران خان اپنے 44ماہی دور حکمرانی میں امریکی صدر جو بائیڈن سے دست پنجہ کرنے، ان کی کال سننے کے لئے بے قرار رہے۔ اس کا اظہار بھی کرتے رہے لیکن امریکہ ہم سے روٹھا رہا۔ عمران خان کو امریکہ دورہ کرنے کی دعوت ملی اور نہ ہی امریکی صدر کی کال وصول ہوئی۔ حتیٰ کہ انہیں امریکی صدر کو کال کرنے کی اجازت بھی نہیں ملی پھر عمران خان نے امریکہ پر اپنی حکومت ختم کرنے کا الزام بھی لگا دیا۔ ٹرمپ سے اپنی یاری دوستی کا ذکر کیا۔ یوتھئے ٹرمپ کی جیت سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے اور پھر شہبازشریف حکومت کو ٹرمپ کی کال کا انتظار کرنے لگے۔ کال آئی، ٹرمپ نے ایوان اقتدار میں اپنے پہلے اور طویل تاریخی خطاب میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے قتل کے منصوبہ ساز کی گرفتاری کی اطلاع دی اور پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ قومی سلامتی کے اجلاس میں شرکت نہ کرکے پی ٹی آئی نے ایک بار پھر اپنی ملک دشمن سوچ کا اظہار کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی برے طریقے سے سیاست دانوں کو پہلے ہی اچھوت قرار دے چکی ہے۔ اب وہ فوج پر فوکس لئے ہوئے ہے۔ جعفر ایکسپریس کے حادثے کے وقت پی ٹی آئی نے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ ملک اس وقت دہشت گردوں کے نرغے میں ہے۔ دو صوبوں میں جنگ جاری ہے۔ مسلح افواج ملکی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ حالت یہ ہے کہ کے پی کا وزیراعلیٰ جو پی ٹی آئی کا جیالا اور عمران خان کا بڈی کہلاتا ہے وہ بغیر فوج کی مدد کے ڈی آئی خان اپنے حلقے میں بھی نہیں جا سکتا اگر افغانی و پاکستانی دہشت گردوں کے مقابل فوج کھڑی نہ ہو تو وہ اپنے حمایتی گنڈاپور کو بھی اغوا کر کے لے جائیں۔ یہ دہشت گرد افغان و پٹھان ہیں اور ان کے ہاتھوں زیادہ تر ان کے پشتون بھائی ہی مارے جا رہے ہیں۔ پشتونوں کا صوبہ کے پی اور پشتون اکثریتی صوبہ بلوچستان ان کے ہاتھوں لہولہان ہے۔ بی ایل اے والوں نے اپنے بلوچ بھائیوں پر ہی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔ ویسے دہشت گردوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہے کہ وہ پنجاب کے عوام کو بھی آگ و خون میں نہلا دیں لیکن انہیں سردست کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ ان دہشت گردوں کا حمایتی تو جیل میں ہے اور وہ باہر آنے کی پوری کوشش بھی کر رہا ہے لیکن اسے کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکمران اتحادی سیاست دان جو آپس میں لڑ رہے ہیں۔ کچھ لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت کو کمزور کرنے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی ہو یا ایم کیو ایم انہیں اس وقت سے ڈرنا چاہئے جب عمرانی ٹولہ ایک بار پھر تگڑا ہو جائے اور پھر وہ ان سب سیاست دانوں کی پتلونیں اتارنے پر قادر ہو جائے۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں انہوں نے آصف علی زرداری کے ساتھ جو کچھ کیا اور اس سے پہلے شہبازشریف کے ساتھ بھی ایسا کچھ کرتے رہے ہیں۔ اسے دیکھ کر ہمارے مقتدر سیاست دانوں کو عبرت پکڑنی چاہئے۔ جب ایک بار پھر عمرانی گماشتے ان کا نکلنا محال کر دیں۔ ہمارے سیاست دانوں کے ساتھ عمران خان اور اس کے حواریوں نے اخلاقی طور پر جو کچھ کر دیا ہے اسے یاد کرکے جھرجھری آ جاتی ہے پھر فروری 2024ءکے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواران نے بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ بہت دور کی بات نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اور بانی اس وقت اپنے ہی اعمال کی گرفت میں ہیں۔ زیر عتاب ہیں، عذاب میں مبتلا ہیں لیکن ان کا بیانیہ، غلیظ و ملک دشمنی بیانیہ اب بھی 
اپنا آپ دکھا رہا ہے۔ ہماری حکمران جماعتیں بشمول ن لیگ، ق لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں تمام تر وسائل ہونے کے باوجود، تمام سرکاری وسائل پر قابض ہونے کے باوجود اس غلیظ اور ملک دشمن بیانئے کا موثر دفاع کرنے اور ہمہ جہت قومی بیانیہ تشکیل دینے میں بری طرح ناکام نظر آ رہے ہیں۔ مریم نواز کی سالانہ کارکردگی رپورٹ اور اس کی تشہیر اپنی جگہ، شہبازشریف کی حکومت کی کامیابیاں بھی درست، سندھ حکومت کی کارکردگی بھی درست اور قابل ستائش ہوگی لیکن کسی جامع بیانئے اور حکمت عملی کے بغیر ان کی اہمیت دیرپا ثابت نہیں ہوگی۔ عمران خان کی ملک دشمنی کو عیاں کرنا بھی ضروری ہے اور قوم کو کسی مثبت بیانئے کی طرف لانا بھی ضروری ہے ورنہ یاد رکھیں عمرانی ٹولہ اپنے غیر ملکی آقاﺅں کے تعاون سے پاکستان کے خلاف پہلے ہی مورچہ زن ہے۔ وہ کسی بھی وقت، وقت ملنے پر سیاست دانوں کو حرف غلط کی طرح روند ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ پہلے بھی اپنی اس صلاحیت کا اظہار کر چکا ہے اس کا سر ابھی کچلا نہیں گیا ہے اس لئے سیاست دانوں کو اپنے چھوٹے چوٹے اختلافات بھلا کر بڑے قومی مقصد کیلئے متحد رہنا چاہئے۔

ٹیگز: