Wed, September 16, 2026

اصلاح سے محروم قوم

 اصلاح سے محروم قوم

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف بیرونی حملوں، جنگوں یا معاشی بحرانوں سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کا اصل زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب ان کے اخلاقی اصول کمزور پڑ جاتے ہیں، اجتماعی شعور ماند پڑ جاتا ہے اور ذاتی مفاد قومی مفاد پر غالب آ جاتا ہے۔ جب معاشرے میں سچائی کی جگہ منافقت، دیانت داری کی جگہ کرپشن، قانون کی جگہ سفارش اور خدمت کی جگہ لوٹ مار لے لے تو قومیں اپنی بنیادوں سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ آج اگر ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ ہمارا معاشرہ بے شمار سماجی، اخلاقی، تعلیمی اور فکری بیماریوں میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر عمارتیں بلند ہو رہی ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں، ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، مگر انسان کے اندر کا انسان مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔ مادہ پرستی نے روحانیت کو نگل لیا ہے، لالچ نے قناعت کا گلا گھونٹ دیا ہے اور خود غرضی نے اجتماعی شعور کو یرغمال بنا لیا ہے۔معاشرے کی اصلاح کا عمل شعور سے شروع ہوتا ہے۔ شعور انسان کو اچھے اور بُرے میں فرق کرنا سکھاتا ہے۔ مگر جب تعلیم صرف ڈگری کے حصول تک محدود ہو جائے اور اس کا مقصد کردار سازی کے بجائے ملازمت کا حصول رہ جائے تو پھر علم روشنی نہیں بلکہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تعلیمی ادارے بڑی تعداد میں موجود ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسے شہری پیدا کر رہے ہیں جو سچ بولنے، قانون کا احترام کرنے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کے قابل ہوں؟بدقسمتی سے ہمارا اجتماعی رویہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ ہم ٹریفک قوانین توڑنے کو اپنی چالاکی سمجھتے ہیں، سفارش کو حق اور رشوت کو ضرورت قرار دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کی بدعنوانی پر تنقید کرتے ہیں مگر موقع ملنے پر خود بھی اسی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جو کسی بھی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر دیتا ہے۔اخلاقی زوال کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیا جائے۔ جب جھوٹ معمول بن جائے، وعدہ خلافی فطرت بن جائے اور امانت میں خیانت قابلِ معافی سمجھی جانے لگے تو پھر معاشرے کا اخلاقی ڈھانچہ زمین بوس ہونے لگتا ہے۔ آج المیہ یہ ہے کہ ہم کردار سے زیادہ دولت کو اہمیت دیتے ہیں۔ ایک شخص اگر دولت مند ہو تو اس کی بدعنوانیاں بھی قابلِ تعریف بن جاتی ہیں، جبکہ دیانت دار مگر غریب آدمی معاشرتی عزت سے محروم رہتا ہے۔ مادہ پرستی نے انسانی رشتوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب تعلقات اخلاص کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفاد کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ دوستی، محبت، احترام اور خلوص جیسی قدریں آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ انسان کو انسان کے بجائے ایک مفاداتی ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے۔ اس ذہنیت نے معاشرے کو بے حس بنا دیا ہے۔ کرپشن ایک اور ناسور ہے جو ریاست اور معاشرے دونوں کو کھا رہا ہے۔ کرپشن صرف اربوں روپے کی چوری کا نام نہیں بلکہ ہر وہ عمل کرپشن ہے جس میں حق دار کا حق مارا جائے۔ جب سفارش کی بنیاد پر ملازمت دی جائے، جب نااہل کو اہل پر ترجیح دی جائے، جب انصاف دولت کے ترازو میں تولا جائے تو یہ سب کرپشن کی مختلف شکلیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں محنت، قابلیت اور دیانت داری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور نوجوانوں میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ لاقانونیت بھی قومی زوال کی ایک اہم وجہ ہے۔ ترقی یافتہ قوموں کی کامیابی کا راز ان کی دولت یا وسائل نہیں بلکہ قانون کی بالادستی ہے۔ وہاں قانون طاقتور اور کمزور دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ مگر جب قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہو جائے تو معاشرے میں انصاف کا تصور ختم ہونے لگتا ہے۔ پھر لوگ قانون پر نہیں بلکہ طاقت، دولت اور تعلقات پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ لالچ اور حرص نے بھی ہمارے اجتماعی کردار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انسان جتنا زیادہ حاصل کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ چاہنے لگتا ہے۔ دولت کی دوڑ میں اخلاقیات، اصول اور انسانیت سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہی حرص معاشی استحصال، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور بے شمار سماجی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچے، وہاں اجتماعی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ تکبر ایک اور مہلک بیماری ہے۔ فرد ہو یا قوم، جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چھوڑ دے تو اس کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔ تکبر انسان کو خود احتسابی سے دور کر دیتا ہے۔ پھر وہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا ہے مگر اپنے کردار اور اعمال کا جائزہ نہیں لیتا۔ یہی رویہ افراد اور قوموں دونوں کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس قوم کی اصلاح ممکن نہیں؟ تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ کوئی قوم پیدائشی طور پر ناقابلِ اصلاح نہیں ہوتی۔ قومیں بدلتی ہیں، معاشرے بدلتے ہیں اور حالات بھی بدلتے ہیں۔ لیکن تبدیلی صرف نعروں، تقریروں اور خواہشات سے نہیں آتی۔ اس کے لیے اجتماعی خود احتسابی، دیانت دار قیادت، معیاری تعلیم، قانون کی بالادستی اور اخلاقی تربیت درکار ہوتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف عوام کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔ قیادت اور حکمران طبقہ بھی معاشرے کے رویوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر اقتدار کے ایوانوں میں شفافیت نہ ہو، اگر احتساب صرف مخالفین کے لیے ہو، اگر قانون کا اطلاق سب پر یکساں نہ ہو تو عوام میں بھی مایوسی اور بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ حکمران معاشرے کے لیے نمونہ ہوتے ہیں۔ اگر نمونہ خراب ہو تو نتائج بھی اچھے نہیں نکلتے۔ تاہم تمام ذمہ داری حکمرانوں پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ اپنے افراد کے کردار سے بنتی ہیں۔ اگر ایک استاد دیانت داری سے اپنا فرض ادا کرے، ایک تاجر ایمانداری اختیار کرے، ایک سرکاری ملازم رشوت سے انکار کرے اور ایک شہری قانون کا احترام کرے تو تبدیلی کا سفر شروع ہو سکتا ہے۔ معاشرے کی اصلاح اوپر سے بھی آتی ہے اور نیچے سے بھی۔مایوسی بذاتِ خود ایک خطرناک بیماری ہے۔ جب قومیں یہ مان لیں کہ ان کی اصلاح ممکن نہیں تو پھر زوال واقعی ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ امید، خود احتسابی اور مسلسل جدوجہد ہی وہ عناصر ہیں جو مردہ قوموں میں بھی نئی روح پھونک سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوریوں کا بھی جائزہ لیں۔ کرپشن، لالچ، تکبر اور لاقانونیت کے خلاف جنگ صرف حکومتوں نے نہیں بلکہ ہر فرد نے لڑنی ہے۔ اگر ہم اپنے حصے کا چراغ روشن کر دیں تو اندھیرا کم ہونا شروع ہو جائے گا۔قوموں کی تباہی اچانک نہیں آتی، بلکہ برائیوں کو معمول سمجھنے سے آتی ہے۔ اسی طرح قوموں کی تعمیر بھی ایک دن میں نہیں ہوتی بلکہ چھوٹے چھوٹے مثبت اقدامات سے شروع ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، اخلاقیات کو نظرانداز کیا اور مادہ پرستی کو اپنا معبود بنائے رکھا تو یقینا نتائج خطرناک ہوں گے۔ لیکن اگر ہم نے شعور، کردار، انصاف اور دیانت داری کو اپنا شعار بنا لیا تو وہی قوم جو آج مایوسی کی تصویر دکھائی دیتی ہے، کل امید اور ترقی کی مثال بھی بن سکتی ہے۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ قوموں کے نعروں پر نہیں بلکہ ان کے کردار پر ہوتا ہے۔

ٹیگز: