Wed, September 16, 2026

جین زی کی بغاوت مودی کاگھیراﺅ

جین زی کی بغاوت مودی کاگھیراﺅ


 بھارتی معاشرے میںگُھٹن بڑھ گئی ہے کیونکہ سوال کرناغداری بنادیاگیا ہے صدیوں سے ذات پات اور مذہبی تقسیم اب نفرت، تشدد اور عدم برداشت کی شکل میں ہے اِس تناظر میں جین زی کی بغاوت اور مودی کے گھیراﺅ کو سمجھنا مشکل نہیں مودی جو تین بار انتخابات میں یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ تم عظیم قوم ہو ہماراساتھ دینے سے بھارت خالص ہندو ملک بنے گا اور اکھنڈ بھارت کی راہ ہموار ہو گی جنونی ہندو ایسے دلفریب اورجھوٹے نعروں پرکچھ اِس طرح یقین کر بیٹھے کہ مودی کی حمایت میں شواہد جھٹلا دیتے دلیل سے بات کرنے کے راستے بندکرنے کی وجہ سے آج بھارتی معاشرہ ایسے بلند مینار پر کھڑا ہے جہاں اندھیروں اور خرابیوں کے سواکچھ نظر نہیں آتا عالمی تنہائی کے شکار اِس ملک کاسب سے زیادہ عرصہ وزیرِ اعظم رہنے والا شخص بیرونی دوروں میں کھی کھی کرتا عالمی رہنماﺅں کے زبردستی گلے ملتا اور اپنی ذات کےلئے کوئی اعزاز لے کر واپس آتاہے بھارت کا بھلا نہ ہونے سے ہی عام شہریوں کی طرح بی جے پی کے جنونی ہندو بھی اپنی یکطرفہ اُلفت ترک کرنے پر مجبور ہیں جو اضطراب وبے چینی کی صورت میں ظاہر ہے مقبول قیادت کی ناقص کارکردگی پر بھارت کے طول و عرض میں موجود غم و غصہ مظاہروں کی صورت میںعیاں ہے۔
کئی عشروںسے ایسی کہانیاں سنائی جاتی رہیں کہ پاکستان اصل میںبھارت کو توڑناچاہتا ہے لہٰذاحل یہ ہے کہ پاکستان کو توڑ دیا جائے ایسی کہانیاں مقبولیت بڑھانے اور اقتدار دلانے کا عرصہ دراز تک آسان نسخہ رہیں مگر 1971 میں جب پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تو یہ نسخہ اہمیت کھو بیٹھا جو کانگرسی مقبولیت میں کمی کا باعث بنا تو بی جے پی جیسے جنونی اور انتہا پسندوں نے بھارت کو خالص ہندو ریاست بنانے کا نعرہ دیکر تقویت پائی ہندو اکثریت کے اِس نعرے پر یقین سے ملک کے طول وعرض میں ہندومسلم فسادات ہوتے رہے یہ ایسا نتیجہ تھاجو ملکی وحدت وسلامتی کے لیے خطرناک تھا لیکن مقبولیت کے لیے جنونی ہندوﺅں نے پرواہ نہ کی آج مسلمان،سکھ اور دلت سب مذہبی تفریق کا شکار اور خود کو بچانے کی تگ ودو میں ہیں۔ بات ہو رہی تھی پاکستان کے خطرناک ہونے کی مگرجب تیسری بار اقتدار میں آنے کے بعد مودی نے کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان کی معاشی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے جبکہ بھارتی زرِ مبادلہ کے ذخائر سات سو ارب ڈالر سے زائد ہیں جو معاشی طورپر مضبوط ہونے کا ثبوت ہے تو پاکستان کے خطرناک ہونے کا دعویٰ قدر کھو بیٹھا آج جب طالب علم تحریک پورے بھارت میں پھیل رہی ہے تو وہی بھارتی قیادت جو کہتی تھی کہ پاکستان کا خزانہ خالی ہے وہ کارکردگی، نفرت کے فلسفے اور عوامی تقسیم کی سازشوں سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے کہنے پر مجبور ہے کہ طالب علم تحریک کی پُشت پناہی اور فنڈنگ میں پاکستان کا ہاتھ ہے مگر کوئی یقین نہیں کر رہا بھارتی سمجھ گئے ہیں کہ دلیل سے جواب دینے کی بجائے دوبارہ پاکستان کا چورن بیچا جا رہا ہے وہ سوال کرتے ہیں ارے بھائی جس کا خزانہ خالی ہے وہ زرِمبادلہ کے سات سو ارب ڈالر ذخائر رکھنے والے ملک میں کیسے رقوم بانٹ کر افراتفری پھیلا سکتا ہے؟۔
مودی اور اُس کی جماعت نے تو ملک میں ایسا کلچر روشناس کرایا تھا کہ وہ جو کہیں گے عوام فوراً یقین کر لے گی کبھی کوئی سوال نہیں ہو گا اور جب بھی انتخاب ہو گا ووٹ ملتے رہیں گے۔ اندازوں کے مطابق کچھ عرصہ تو ایسا ہوا بھی یہاں تک کہ ممتا بینرجی جیسی لبرل خاتون بھی اقتدار سے محروم ہو گئیں۔ بی جے پی کے اقتدار میں کچھ کردار اِداروں کا ہے نہ صرف مخالف ووٹ فہرستوں سے ختم کر دئیے بلکہ عدالتیں تک حکومت کے خلاف مقدمات سننے سے انکاری رہیں بھارتی سپریم کورٹ کا دہلی مظاہروں کے دوران پولیس تشدد کی درخواست پر فوری سماعت اور پولیس تشددکی ویڈیوز دیکھنے سے انکار کرنا اِداروں کی کھلم کھلا جانبداری ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے درخواست پر ریمارکس دئیے کہ ہمارے پاس ویڈیوز دیکھنے کا وقت نہیں، نہ ہی اِس میں کوئی دلچسپی ہے لہٰذا وقت ضائع نہ کریں۔ یاد رہے کہ رواں برس مئی میں اسی چیف جسٹس کے اُس متنازع بیان پر آن لائن کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آئی جس میں انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور معاشرے پر بوجھ قرار دیا جس پر نوجوانوں کا شدید ردِ عمل آیا مگر عدلیہ اور حکومت نے کوئی توجہ نہ دی آج جب دہلی سے لے کر کلکتہ اور گوا تک احتجاج پھیل چکا ہے تو پاکستان کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی جانے لگی ہے جس میں کوئی صداقت نہیں مودی کے اقتدار کے خلاف ماضی میں ایسی کوئی طاقتور تحریک کبھی نہیں دیکھی گئی اسی لیے واقفانِ حال اِسے جین زی کی بیداری اورمودی کے گھیراﺅکی تحریک کہتے ہیں۔
طالب علموں کا مطالبہ ہے کہ داخلے اور ملازمتوں کے حوالے سے ہونے والے امتحانات کو شفاف بنایا جائے تاکہ منظورِ نظر طبقات کی بجائے پورے ملک کو یکساں مواقع حاصل ہوں جواب میں مودی حکومت کے رویے میں رعونت و تکبر ہے امتحانی سکینڈل سے جنم لینے والی تحریک نے مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تو حکومت نے حقارت سے یہ مطالبہ رَد کر دیا جس پر طلبا مشتعل ہوئے اور احتجاج میں شدت آئی اور حکومتی احتساب کا مطالبہ بھی ہونے لگا سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور جبری منتقلی نے احتجاجی تحریک کو مزید تقویت دی۔ اب جو تحریک وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی وہ مودی کا استعفیٰ چاہتی ہے جس پر مودی کا گودی میڈیا حیران ہے اور اِسے مودی کے خلاف گھیرا تنگ ہونا سمجھتا ہے حالانکہ اِس نوبت میں زیادہ ہاتھ حکومت کا ہے۔ دراصل حکمران مقبولیت اور اقتدارمیں من مرضی کرتے ہیں اور انجام کار ذلت و رسوائی کے ساتھ رُخصت ہوتے ہیں ایسا ہی کچھ بھارت میں ہو رہا ہے۔
بھارتی اِداروں پر حکومتی غلبہ و رسوخ عیاں حقیقت ہے۔ فوج اورپولیس میں حکومت نواز انتہا پسندوں کا غلبہ ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانبداری بھی حقیقت ہے جو بھارتی معاشرے کی شکست و ریخت کا باعث ہے۔ لوگ جان گئے ہیں کہ خرابیوں کی جڑ حکومت ہے لہٰذا بہتری لانی ہے توحکومت کوہٹانا ہو گا امتحانی طریقہ کارکو شفاف بنانے کی بات کا استعفےٰ تک جانا اور مودی کے خلاف گھیرا تنگ ہونا کافی غیر معمولی ہے۔ بھارت میں جین زی کی یہ بغاوت کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے یا نہیں اِس بارے وثوق سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا مگر اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کی گرفتاری کو اہمیت نہ دینے والی حکومت بہت دباﺅ میں ہے شاید ہی طلبا تحریک کو کُچل سکے۔ مودی کا جانا یقینی ہے یہ جتنی دیر حکومت میں رہیں گے ملک کا نقصان کرنے کے ساتھ اپنی سرپرست جنونی جماعت بی جے پی کا بھی کباڑہ کریں گے۔

ٹیگز: