ہماری معاشرت ہو، طرزِ حکمرانی ہو یا ریاستی پالیسیاں، ایک جملہ برسوں سے ہمارے کانوں میں گونج رہا ہے: بس اب حالات بدلنے والے ہیں، معیشت اگلے موڑ پر سنبھل جائے گی۔ منو بھائی نے برسوں پہلے اسی اجتماعی خودفریبی پر طنز کرتے ہوئے لکھا تھا ”ملک کی معیشت اگلی گلی کا موڑ مڑنے والی ہے“۔ وقت گزرتا رہا، حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر وہ موڑ نہ آیا۔ ہم آج بھی اسی موڑ کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ اب ایک مرتبہ پھر بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ یہ کوئی نئی دریافت نہیں۔ حسن نثار ربع صدی سے زیادہ عرصہ پہلے مسلسل خبردار کرتے رہے کہ اگر آبادی پر قابو نہ پایا گیا تو یہ ترقی کے تمام ثمرات نگل جائے گی۔ مگر ہمارے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ اہلِ فکر موجود نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اہلِ اقتدار سنتے کم اور وقتی نعروں پر یقین زیادہ رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قومی مباحث کا محور تعلیم، صحت، انصاف، معیشت اور آبادی کے بجائے مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی جھوٹی ویڈیوز، سوشل میڈیا کی افواہیں اور سیاسی تماشے بن گئے۔
میں نے برسوں پہلے ایک کالم لکھا تھا، ”حاکم نہیں، حملہ آور ہو تم“۔ اس میں عرض کیا تھا کہ جب عوام پر بغیر کسی تیاری کے ایسے معاشی فیصلے مسلط کر دئیے جائیں جو ان کی روزمرہ زندگی کو تہہ و بالا کر دیں، جب بجلی، گیس، پٹرول اور ضروری اشیائے صرف کی قیمتیں اچانک بڑھا دی جائیں، تو عوام کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ گویا ریاست ان کی محافظ نہیں بلکہ ان پر حملہ آور ہے۔ حکمرانی کی بنیاد اعتماد ہوتی ہے، خوف نہیں؛ اور جہاں اعتماد کمزور پڑ جائے وہاں ہر فیصلہ عوام پر بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح ایک اور کالم ”پٹرول سے آگ بجھائے چلو“ تھا۔ اس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ ہمارے ہاں اکثر علاج، مرض سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ مسئلہ حل کرنے کے نام پر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جو خود نئے مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم آگ بجھانے کے لیے پانی نہیں بلکہ پٹرول استعمال کر رہے ہیں۔ یہی کیفیت مجھے ایک قدیم حکایت کی یاد دلاتی ہے، جس پر میں نے برسوں پہلے ”دروازے بند کیے دیتے ہو کے“ عنوان سے کالم لکھا تھا۔ قدیم زمانے میں شہر فصیلوں کے اندر آباد ہوتے تھے۔ شام ڈھلتے ہی ان کے دروازے بند کر دئیے جاتے تھے۔ انہی دروازوں کے قریب ایک صاحبِ حال بزرگ قیام کرتے تھے۔ ایک روز سورج ابھی غروب بھی نہ ہوا تھا کہ بادشاہ کے ہرکارے گھوڑے دوڑاتے ہوئے آئے اور حکم دیا: فوراً شہر کے دروازے بند کر دو! بزرگ نے پوچھا، کیا دشمن حملہ آور ہو گیا ہے؟ کیا بادشاہ کا انتقال ہو گیا؟ جواب ملا، نہیں، بادشاہ کا شکاری عقاب اُڑ گیا ہے۔ بزرگ نے آسمان کی طرف دیکھا اور عرض کیا: اے میرے پروردگار! تو نے ایسے لوگوں کو حکمرانی دے رکھی ہے جو کھلے آسمان میں اُڑتے ہوئے عقاب کو پکڑنے کے لیے پورے شہر کے دروازے بند کر رہے ہیں۔ یہ حکایت محض ایک بادشاہ کی نہیں، ہر اس نظام کی تصویر ہے جو اصل مسئلے کو چھوڑ کر نمائشی اقدامات میں مصروف ہو جائے۔
اب ایف بی آر میں فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ کو ایک انقلابی اصلاح قرار دیا گیا۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ انسانی مداخلت کم ہو گی، شفافیت بڑھے گی، کرپشن ختم ہو گی اور محصولات میں اضافہ ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ قومی خزانے کی آمدنی میں وہ اضافہ ہوا جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟ کیا مقررہ محصولات سے بڑھ کر وصولیاں ہوئیں؟ کیا کاروباری برادری کے اخراجات، وقت اور مشکلات میں کمی آئی؟ اگر ایسا ہوا ہے تو اس کے شواہد عوام کے سامنے آنے چاہئیں، اور اگر نہیں تو اصلاحات پر نظرِ ثانی بھی اصلاح ہی کا حصہ ہوتی ہے، ناکامی کا اعتراف نہیں۔ اسی تناظر میں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قائم ہونے والی ڈرائی پورٹس کا مقصد صرف کنٹینرز کی منتقلی نہیں تھا بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بندرگاہوں سے نکال کر ملک کے مختلف صنعتی مراکز تک پہنچانا، صنعت کاروں کو سہولت دینا، روزگار پیدا کرنا اور علاقائی ترقی کو فروغ دینا تھا۔ اگر آج نئی پالیسیاں ان مقاصد کو محدود کر رہی ہیں تو ان کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اس سے بھی بڑا سوال انصاف کے نظام سے متعلق ہے۔ مختلف ٹیکس اور کسٹمز ٹربیونلز میں کھربوں روپے مالیت کے مقدمات برسوں سے زیرِ سماعت ہیں۔ یہ صرف قانونی تنازعات نہیں بلکہ قومی سرمایہ ہیں، جو فیصلوں کے انتظار میں منجمد پڑا ہے۔ اسی طرح ریاستی مقدمات کی پیروی کے لیے وکلا کی نامزدگی کا معیار بھی مکمل شفاف ہونا چاہیے۔ عوام کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ایسے مقدمات صرف اہلیت، دیانت، تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بنیاد پر سپرد کیے جاتے ہیں۔ جہاں یہ اعتماد کمزور پڑتا ہے، وہاں شکوک جنم لیتے ہیں، اور شکوک کسی بھی ادارے کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے۔ جب ایک ہی دن میں کسی ٹربیونل کے سامنے سو، ڈیڑھ سو یا اس سے بھی زیادہ مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر دئیے جائیں تو ایک عام شہری یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ کیا ہر مقدمے کو وہ وقت، توجہ اور قانونی غور مل سکتا ہے جس کا انصاف تقاضا کرتا ہے؟
دنیا کی کسی کامیاب انتظامیہ میں احتساب کا متبادل فاصلہ نہیں ہوتا۔ نہ ڈپٹی کمشنر فیس لیس ہے، نہ جج، نہ پولیس افسر، نہ کمشنر۔ اداروں کی دیانت داری افراد کو نظروں سے اوجھل کر دینے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ مضبوط نگرانی، شفاف نظام، مو¿ثر احتساب اور باکردار قیادت سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر کسی نظام میں خامی موجود ہے تو اس کا علاج پورے ڈھانچے کو پیچیدہ بنانا نہیں بلکہ خامی کی جڑ تک پہنچنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ زمانے بدلتے رہتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب نئی ٹیکنالوجی کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، پھر وہی ذرائع ابلاغ اور دعوت کا وسیلہ بن گئے۔ آج سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ایک نشریاتی ادارہ بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس طاقت کو سچ کے فروغ کے لیے استعمال کیا یا جھوٹ کے بازار کو گرم کرنے کے لیے؟ افسوس یہ ہے کہ جھوٹ چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ سچ اکثر خاموشی کے ہجوم میں گم ہو جاتا ہے۔ ریاستیں نعروں سے نہیں، وژن سے چلتی ہیں۔ ادارے فاصلے بڑھانے سے نہیں بلکہ جواب دہی بڑھانے سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اصلاحات نام بدلنے سے نہیں بلکہ نتائج سے اپنی افادیت ثابت کرتی ہیں۔ جب تک ہم اصل مسائل کی نشاندہی کرنے کے بجائے نمائشی اقدامات سے خود کو مطمئن کرتے رہیں گے، اس وقت تک نہ معیشت سنبھلے گی، نہ ادارے مضبوط ہوں گے اور نہ ہی عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔ ورنہ تاریخ ہمیشہ یہی لکھے گی کہ ہم عمر بھر عقاب پکڑنے کے لیے شہر کے دروازے بند کرتے رہے، جبکہ عقاب ہمارے سروں کے اوپر سے آسمان پر اُڑتا رہا۔