کسی نا معلوم نمبر سے موبائل فون پر کال آئی دوسری جانب سے کسی مرد کی آواز تھی۔انہوں نے ایک معروف کوریئر کمپنی کا نام لے کر کہا ’’میں زاہد عمران بات کر رہا ہوں۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سے آپ کی کچھ دستاویزات کا پیکٹ آیا ہے ۔آپ ہمارے ماڈل ٹاؤن کے آفس سے آ کر لے جائیں‘‘۔ ان کی یہ بات میرے لیے بہت حیران کن تھی کہ میری تو کوئی دستاویزات ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے نہیں آنی تھیں۔ انہیں کیسے پتا کہ اس پیکٹ میں میری دستاویزات ہیں۔ شک یہیں سے شروع ہو گیا تھا۔ ان صاحب نے میرا ایڈرس ملتان کا بتایا جبکہ میری رہائش لاہور میں ہے۔انہیں بتایا کہ میں ملتان نہیں لاہور میں رہتی ہوں۔آپ مجھے لفافے پر لکھا ہوا ملتان کا ایڈرس بتائیں۔بارہا پوچھنے کے باوجود بھی ملتان کا ایڈرس نہیں بتایا گیا۔انہوں نے کہا کہ آپ باکس نمبر224519اور پارسل نمبر 127950 نوٹ کر لیں۔یہ نمبر بتا کر ہمارے آفس سے اپنا پارسل لے سکتی ہیں۔ کورئیر کمپنی والے کبھی بھی باکس نمبر‘پارسل نمبر یاکوڈ نمبر نہیں مانگتے۔راقم کو کئی بار ان کے ہیڈ آفس سے پارسل لینے کا اتفاق ہوا ہے۔انہیں صرف اپنا ایڈرس یا ان کے کہنے پر قومی شناختی کارڈ نمبر بتانا ہوتا ہے ۔ان کے بتائے ہوئے باکس اور پارسل نمبر فرضی اور غلط تھے ۔ نمبر نوٹ کرنے کے بعد ان سے ایک بار پھر لفافے پر درج ملتان کا ایڈرس پوچھا۔ایڈرس بتانے کی بجائے ان کا لہجہ بھی کچھ تیز ہو گیاتھا۔ اس معروف کوریئر کمپنی کے ذریعے اکثر دستاویزات اور پارسل بھجوانے سے اندازہ ہے کہ ان کے ملازم نہ کبھی اس لہجے میں بات اور نہ ہی غلط بیانی کرتے ہیں۔اپنے لکھوائے ہوئے دونوں نمبر پوچھ کر وہ اپنے اصل مقصد پر آئے۔’’آپ کو فون کے ان باکس میں پارسل کا ایک کوڈ بھیجا گیا ہے آپ وہ بتا دیں‘‘۔ میرے موبائل کے وٹس ایپ کا یہ کوڈ ہی میرا فون ہیک کرنے کے لیے ان کی اصل ضرورت تھا۔اسی کوڈ سے ہیکر موبائل فون ہیک کرتے ہیں۔ تیز لہجے او ر انداز گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ وہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔ان کی مزید کوئی بات سننے سے پہلے فون منقطع کر دیا ۔ان کی کال دوبارہ اور سہ بارہ آئی لیکن منقطع کر دی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ میرا موبائل فون ہیک ہونے سے بچ گیا۔کچھ دیر کے بعد اسی نمبر پر کال کی لیکن انہوں نے نمبر بند کر دیا تھا۔کوڈ نمبر بتانے سے میرے موبائل فون کا سارا ڈیٹا اور نمبر ان کے پاس چلے جاتے۔ہیکرز میرے رابطے کے نمبروں پر اپنی کوئی مجبوری بتا کر میرے نام سے بھاری رقم کی ضرورت اور جلد ہی یہ رقم لوٹانے کا پیغام دیتے۔کچھ لوگوں سے میرے نام پر رقم لے بھی لیتے ۔مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے وٹس ایپ رابطوں کو وضاحت کرنی پڑتی اورذہنی کوفت الگ ہوتی۔
ہیکرز اپنے موبائل فون کو اضافی ڈیوائس کے طور پر کسی کے وٹس ایپ نمبر کے ساتھ منسلک کرنے کے لیئے جو تکنیک استعمال کرتے ہیں اس کے لیے سب سے پہلے وہ ہمارے وٹس ایپ نمبرتک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔ پھر اپنے موبائل فون کو اضافی ڈیوائس کے طور پررجسٹر کرنے کے لیئے وٹس ایپ کی ایڈمن کو پیغام بھیجتے ہیں جس کے جواب میںوٹس ایپ کی جانب سے آپ کے نمبر/سم پرایس ایم ایس کے ذریعے ایک کوڈ بھیجا جاتا ہے جو ہیکرزکی ڈیوائیس کو رجسٹر کرنے کے لیئے ضروری ہوتا ہے۔اس تکنیک سے ہیکرز آپ کو پھنساتے ہیں اوران کی شاطرانہ گفتگو کوسچ سمجھ کرآپ انہیں وہ کوڈ بتا دیتے ہیں۔اس طرح وہ آپ سے وٹس ایپ کوڈ حاصل کر لیتے ہیں۔پھر وہ آپ کے موبائل فون کو کچھ گھنٹوں کے لیئے وٹس ایپ سے بلاک کر دیتے ہیں۔اس دوران وہ مختلف بہانوں سے رقم حاصل کرنے کیلئے مسلسل آپ کے رابطوں پر کال کرتے اور پیغامات بھیجتے ہیں۔کسی کواپنا کوڈ بتاتے وقت آپ کو خبردار اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کا فون ہیک ہو جائے تواپنے رابطہ نمبروں پر فون ہیک ہونے کا بتائیں اور خبردار کریں کہ آپ کی طرف سے آنے والے کسی پیغام پر کلک نہ کریں اور اسے موبائل فون سے ختم کر دیں۔
معروف خاتون ٹی وی اینکر کا راقم کے وٹس ایپ پر پیغام آیا ’’مجھے ایک لاکھ روپے کی فوری ضرورت ہے۔ میرے اکاؤنٹ میں بھیج دیں یہ رقم تمہیں جلد ادا کر دوں گی‘‘۔ یقین نہیں آیا کہ اتنی معروف‘ باعزت اور مالی طور پر مستحکم خاتون رقم مانگ سکتی ہیں ۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ان کا فون ہیک ہو چکا ہے اور ہیکر ان کے فون نمبر کے متعدد وٹس ایپ نمبروں پر ایسے ہی پیغام دے چکے ہیں۔کئی دو ستوں نے میری ضرورت سمجھ کر انہیں رقم بھیج دی۔ ذاتی رابطوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے انہوں نے فون ہیک ہونے کی اطلاع دی۔ سینئر صحافی آمنہ نے صحافی خواتین کے وٹس ایپ گروپ میں پیغام بھیجا ’’آج مجھے صبح ایک فون آیا۔ فون کرنے والی کہہ رہی تھیں کہ میری پیاری دوست‘ میںتمہاری دوست فاطمہ بات کر رہی ہوں۔ میں اس وقت سخت مشکل میں ہوں‘ میرے بیٹے کے کالج کی امتحانی فیس جمع ہونی ہے۔ میرے پاس رقم نہیں ہے تم مہربانی کر کے مجھے ستر ہزار روپے بطور قرض دے دو جلد ہی رقم واپس کر دوں گی۔‘‘ آمنہ نے اپنے پیغام میں بتایا کہ فاطمہ میری ایک قریبی دوست ہے لیکن مجھے شک ہوا کہ یہ آواز فاطمہ کی آواز سے ملتی جلتی تو ہے لیکن فاطمہ کی نہیں۔نہ ہی وہ مجھ سے اس طرح رقم کا مطالبہ کر سکتی ہے۔فون کرنے والی خاتون سے کہا کہ آپ جعلی فاطمہ ہیں۔یہ کہہ کر فون بند کر دیا اور دوبارہ اس کی کال نہیں سنی‘‘۔آمنہ نے صحافی خواتین کے گروپ اور سوشل میڈیا پر وضاحت کی کہ میرے نام سے رقم کے مطالبے کے لیے آنے والے فون ہیکرز کے ہیں انہیں کوئی جواب نہ دیا جائے۔
قریبی حلقۂ احباب میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اپنے شوہر کے ساتھ گھر آئیں۔وہ کہنے لگیں ’’ہم لٹ گئے برباد ہو گئے۔ دو دن پہلے میرے شوہر کو خالہ زاد راشد کا فون آیا۔وہ بہت پریشان تھے ۔پیچھے سے پولیس والوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ایسالگ رہا تھا کہ وہ کسی تھانے میں ہیں۔راشد نے کہا کہ پولیس نے انہیں کسی لڑکی سے بدکاری کے جھوٹے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔بھائی جان میں نے ایسا نہیں کیا۔لڑکی والے تھانے کے باہر جمع ہیں۔پولیس والے کہہ رہے ہیں کہ ایک لاکھ روپے دو تو با عزت رہا ہو جاؤ گے۔گھر میں اہلیہ میرا فون نہیں اٹھا رہیں۔آپ سے مدد چاہئے ورنہ میری بہت بدنامی ہو جائے گی بلکہ پورا خاندان بدنام ہو گا۔اکاؤنٹ نمبر نوٹ کروا کر انہوں نے کہا آپ میرے اس اکاؤنٹ نمبر پر فوراً ایک لاکھ روپے بھیج دیں ‘ تھانے سے باہر آتے ہی رقم لوٹا دوں گا‘‘۔خالہ زاد کو مشکل میں دیکھ کر میرے شوہر نے گھر میں موجود کمیٹی کے ایک لاکھ روپے انہیں ان کے بتائے ہوئے بینک اکاؤنٹ میں بھیج دیئے۔آواز خالہ زاد کی تھی اس لیے شک کی گنجائش نہیں تھی۔دوگھنٹے کے بعد خالہ زاد کو فون کر کے پوچھا کہ کیا تم تھانے میں رقم دے کر گھر پہنچ گئے ہو؟وہ بہت حیران ہوا کہ میرے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا نہ میں نے آپ کو فون کیا ۔ان کی یہ بات سن کر ہمارے ہوش اڑ گئے ۔پولیس اسٹیشن اور کئی متعلقہ اداروں کو اطلاع دی لیکن کوئی مدد نہیں ملی۔یہ ہیکرز کا ایک اور طریقۂ واردات ہے ۔وہ کسی طرح آپ کی آوازتک رسائی حاصل کر کے کسی ایپ کے ذریعے ایسی آوازبنا کرکئی لوگوں کو لوٹ چکے ہیں۔ہمارے ایک عزیز کو ہیکرز نے ان کے دوست کے نام سے موبائل فون پر کچھ رقم کا مطالبہ کیا۔وہ سمجھ گئے کہ ان کے دوست کا فون ہیک ہو گیا ہے ۔انہوں نے ہیکر سے کہا کہ آپ میرے گھر آ جائیں میں آپ کی ہر ممکن مالی مدد کروں گا۔ہیکر نے انہیں دوبارہ ایسا کوئی پیغام نہیں دیا نہ ہی فون کیا۔
ٹیکنالوجی کے عروج نے زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ بہت سے خطرات بھی پیدا کر دیے ہیں۔ ہیکرز بین الاقوامی سطح پر بھی سرگرم ہیں وہ لوگوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں ۔ہیکرز نجی سے لے کر مالی معلومات تک حاصل کر کے لوگوں کیلئے مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔اپنے فون کو ہیکرز سے محفوظ رکھنا نہایت ضروری اورآپ کی اپنی ذمہ داری ہے ۔