Wed, September 16, 2026

امریکہ سے ممکنہ حملے کا خطرہ، سپریم لیڈر خامنہ ای کو محفوظ زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا

امریکہ سے ممکنہ حملے کا خطرہ، سپریم لیڈر خامنہ ای کو محفوظ زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا

تہران :  ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکہ کی جانب سے ممکنہ حملے کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایرانی فوجی و سکیورٹی حکام نے اس فیصلے کی وجہ امریکی حملے کے امکانات میں اضافے کو قرار دیا ہے، جس کے بعد خامنہ ای کو ایک محفوظ اور مستحکم زیرِ زمین مرکز میں منتقل کیا گیا تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایران انٹرنیشنل نامی ایک اپوزیشن ویب سائٹ کے مطابق، ایرانی حکام نے امریکی حملے کے خطرے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے خامنہ ای کو ایک مضبوط اور محفوظ زیرِ زمین تنصیب میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ پناہ گاہ ایک قلعہ نما مقام ہے، جس میں آپس میں جڑی ہوئی سرنگیں موجود ہیں، جو نہ صرف سپریم لیڈر کی حفاظت کے لیے بلکہ ملک کی اعلیٰ قیادت کی سکیورٹی کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق، یہ زیرِ زمین پناہ گاہ جدید ترین سکیورٹی سسٹمز سے لیس ہے اور یہ انتہائی مستحکم ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ اس کا مقصد سپریم لیڈر کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ایران کی قیادت کو بیرونی حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

اس کے علاوہ، ویب سائٹ نے یہ بھی اطلاع دی کہ آیت اللہ خامنہ ای کے تیسرے بیٹے، مسعود خامنہ ای نے اپنے والد کے دفتر کے روزانہ کے امور کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ مسعود خامنہ ای اس وقت اپنے والد کی غیر موجودگی میں سپریم رہنما کے دفتر کی تمام انتظامی اور سکیورٹی کارروائیوں کا نگران بن چکے ہیں۔

ایران کے ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ ایران کی سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت اہم شخصیات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ہر قسم کے بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور ملک کی قیادت کی حفاظت کو ترجیح دے رہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جوہری پروگرام پر جاری تناؤ کے درمیان، یہ اقدام ایران کی حکومت کی جانب سے اپنے رہنماؤں کی حفاظت کے لیے ایک سنگین قدم ثابت ہو رہا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایران پر لگائی جانے والی اقتصادی پابندیاں اور دیگر دباؤ کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی آئی ہے۔

 
 

ٹیگز: