اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے سپیکٹرم آکشن ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف نے کی، جس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اسپیکٹرم نیلامی کی حتمی سفارشات وفاقی کابینہ کو ارسال کی تھیں، جس کی منظوری کے بعد بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل سروسز میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
حکام کے مطابق چھ سو میگا ہرٹز اسپیکٹرم کے 6 بینڈز نیلامی کے لیے پیش کیے جائیں گے، اور حکومت توقع رکھتی ہے کہ تین سو میگا ہرٹز سے زائد اسپیکٹرم کی نیلامی بھی ممکن ہوگی۔ پی ٹی اے کی جانب سے منظوری کے فوری بعد انفارمیشن میمورنڈم جاری ہوگا، جس کے بعد کمپنیوں کو بولی میں حصہ لینے کے لیے 40 سے 45 دن دیے جائیں گے۔
فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی 15 فروری سے پہلے مکمل کی جائے گی اور یہ بولی میڈیا کی موجودگی میں کھلے عام کی جائے گی۔ ملک کی تین موبائل سروسز کمپنیاں اس نیلامی میں حصہ لیں گی، جبکہ غیر ملکی کمپنیاں بھی بولی میں شریک ہو سکتی ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق 2600 میگا ہرٹز بینڈ کا 194 میگا ہرٹز پرائم اسپیکٹرم نیلام کیا جائے گا۔ فائیو جی سروس کے لیے 100 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ضروری ہے اور سرمایہ کاری کی وجہ سے قیمت کم رکھی جائے گی۔ ہر بینڈ کی بیس پرائس کا حتمی تعین حکومت کرے گی۔
ہدف ہے کہ 2026 میں اسلام آباد، لاہور، کراچی سمیت بڑے شہروں میں فائیو جی سروس کا آغاز ہو، پہلے سال میں کوالٹی 4 ایم بی پی ایس سے بڑھا کر 25 ایم بی پی ایس کی جائے، اور ہر سال نئے ٹاورز نصب کرنے اور ٹاور فائبرائزیشن کے منصوبے مکمل کیے جائیں۔