Wed, September 16, 2026

پی ٹی آئی کےسابق رہنماؤں کاوزیراعظم کےمذاکرات کےبیان کاخیرمقدم ، شاہ محمودقریشی سمیت دیگرکی عبوری رہائی کیلئے وزیراعظم کوخط

 پی ٹی آئی کےسابق رہنماؤں کاوزیراعظم کےمذاکرات کےبیان کاخیرمقدم ، شاہ محمودقریشی سمیت دیگرکی عبوری رہائی کیلئے وزیراعظم کوخط

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنماؤں کے ایک گروپ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو پیرول پر رہا کریں۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی رہائی مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی (این ڈی سی) کے ممبران نے 23 دسمبر کو وزیرِ اعظم کو ایک خط بھیجا، جس میں پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ موجودہ سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی بحران کے پیش نظر یہ مذاکرات ایک ’’سنہری موقع‘‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خط میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے توجہ اس بات پر رکھی گئی ہے کہ اڈیالہ جیل سے باہر موجود پی ٹی آئی کی سینئر قیادت ہی مذاکرات کے آغاز اور کامیاب تکمیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کی جائے، جن میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری شامل ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ ان رہنماؤں کو پیرول پر رہا کرنے سے وہ مذاکراتی عمل میں مؤثر طریقے سے شریک ہو سکیں گے۔

کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں، اور قید رہنماؤں کی رہائی سے ایک مثبت ماحول بنے گا، جو سیاسی فریقین کے درمیان باہمی اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مفادات سے بالاتر ہو کر ’’میثاق جمہوریت‘‘ اور ’’میثاق معیشت‘‘ پر اتفاق رائے پیدا کریں، جو ملک میں طویل المدتی سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے ضروری ہیں۔

اس خط پر پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں محمود مولوی، عمران اسمٰعیل اور فواد چوہدری نے دستخط کیے ہیں، جنہوں نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی تشکیل دی تھی۔

ٹیگز: