سیلاب کا پانی بھی عطاتھا،مگر افسوس
پیاسے وطن کی پیاس کو دریا میں بہا دیا
بارش اور سیلاب کا پانی جسے قدرت نے ہمارے لئے خزانے کے طور پر بھیجا،ہم ہمیشہ کی طرح اسے ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ایک طرف کھیت سوکھ رہے ہیں، شہر پیاس سے بلک رہے ہیں اور زیر زمیں پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے، دوسری طرف اربوں مکعب فٹ قیمتی پانی سمندر میں بہہ کر برباد ہو جاتا ہے۔یہ المیہ ہماری پالیسیوں کی کمزوری اور عملی اقدام کی کمی کا آئینہ دار ہے۔اگر یہ پانی محفوظ کر لیا جاتا تو آج نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوتا بلکہ وطن کی پیاسی زمین کو بھی سیراب کیا جا سکتا تھا۔
ہر بار مون سون کی بارشوں میں نہ جانے کتنے لوگ اپنے پیاروں سے جدا ہو چُکے ہیں مگر ابھی تک اس کا پکا کوئی حل نہیں کیا جا سکا۔گلگت بلتستان کے علاقے غذر میں گلیشئر پھٹنے سے 80%رہائشی مکانات سیلاب کی نذر ہوگئے،اور فصلیں تباہ ہو گئیں۔پتھر اور مٹی کے سیلاب نے دریائے غذر کو بھی روک دیا۔
غذر ضلع میں گلیشئیر پھٹنے سے کئی دیہات ڈوب گئے جس کے نتیجے میں ایک مصنوعی جھیل بھی وجود میں آئی ۔اگر اس سیلاب میں مالی نقصان کے طور پہ دیکھا جائے تو کافی نقصان ہوا اور کم از کم 39افراد جان سے گئے جن میں سیاح بھی شامل تھے۔اگر مجموعی نقصان کو دیکھا جائے متعدد دیہات زیر آب ،زرعی اراضی گھریلو انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا اور اگر پانی کے ضیاع کی بات کی جائے تو یہ پانی ضائع نہیں ہوا بلکہ ایک محدود اور عارضی جھیل کی صورت میں اکٹھا ہوا اگر مناسب حفاظتی اور ذخیرہ کے نظام موجود ہوتے تو اسے بہت سی جگہوں پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔
دوسری جانب خیبر پختونخواہ سیلاب اور موسلادھار بارشوں کی وجہ سے پاکستان میں 26جون کے بعد تقریباً 706افراد ہلاک ہوئے۔ بونیر میں ہونے والے شدید کلائوڈ برسٹ اور فلڈواقعات نے گھروں ،بازاروں،اور افراد کو سنگین نقصان پہنچایا اتنی تباہی کے بعد ہر ایک کے ذہن میں ایک ہی سوال آتا ہی کہ کیا اس خطرے کی آگاہی نہیں تھی جو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
(NDMA) نے مئی میں سٹیٹ کی کلائمت چینج کمیٹی کو بتایا کہ مون سون کے دوران بارش معمول سے 15-30% زیادہ ہوں گی، بلوچستان میں 80%-70زیادہ ہوں گی اور سندھ میں 18%سے زیادہ ہوں گی۔ پیشگوئی کے باوجود جو عملی خامیاں تھیں اگرچہ (NDMA)نے الرٹس دئیے لیکن یہ زیادہ تر عمومی نوعیت کے ہوتے تھے مثلاً پورے صوبے کو ایک ہی الرٹ ہوتا کہ متاثرہ علاقوں کو مخصوص اوقات یا تباہی کا اندازہ نہیں بتایا جا سکتا۔ عملی طور پہ جو مسئلہ ہے وہ سپارکو، PDMA ِ،NDMA، PMDوغیرہ کے درمیان تال میل اور وسائل کا فرق بڑا مسئلہ ہے اور اگر صرف کراچی شہر کی بات کی جائے تو تقریباً 150سے 200دکانوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ پورے شہر میں 1000سے زائد گودام متاثر ہوئے۔ کراچی میں بارشوں اور ناکام نکاسی آب کے باعث حکومتی انتظامات میں خامیاں عیاں ہوئیں شہریوں اور تاجر برادری کو اربوں کا نقصان ہوا۔
اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے بچا کیسے جا سکتا ہے ،بڑے ڈیمز، دیامیر، بھاشا ڈیم، داسو ڈیم، کالا باغ ڈیم (متنازع) جیسے منصوبے اگر مکمل ہوتے تو اربوں مکعب فٹ پانی ذخیرہ کر لیا جاتا۔
بڑے ڈیمز سیلاب کے دبائو کے دبائو کو بھی کم کر دیتے اور خشک سالی میں بھی پانی مہیا کرتے۔اربوں کے نقصانات کا ویسے سامنا ہر سال کر لیا جاتا ہے مگر ان ڈیمز پہ لگا کر نہ صرف نقصان سے بچا جا سکتا ہے بلکہ عوام کا اور تاجر برادری کا جو، اربوںکا نقصان ہوتا ہے جانیں الگ سے ضائع ہوتی ہیں اور امداد کی مد میں گورنمنٹ کا پیسہ الگ سے خرچ ہوتا ہے۔ پاکستان کے پاس موقع ضرور تھا کہ سیلاب سے بچا جا سکے، مگر بر وقت فیصلے نہیں ہوئے۔
چھوٹے ڈیمز اور ری چارج سسٹمز پر خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ نتیجہ یہ کہ پانی سیلاب کی صورت میں تباہی مچاتا اور چند دن کے بعد پانی کی قلت کا شکار ہو جاتاہے۔
سیلابی ریلے محض تباہی کا پیغام نہیں ہوتے بلکہ یہ ہمیںآئینہ دکھاتے ہیں کہ ہم اپنے وسائل کے ساتھ کس قدر غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دریائوں کے پانی کو اگر ہم ذخیرہ کر لیتے تو آج یہی پانی پیاسے کھیتوں، بجھتے دریائوں اور بجلی کے بحران کے اندھیروں کو روشنی میں بدل سکتا تھا۔ مگر ہم نے اسے ضائع کر کے صرف نقصان اور آنسو کمائے اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ فیصلے آج کرنے ہونگے ورنہ تاریخ ہمیں صرف ناکامی کی مثال بنا کر یاد رکھے گی۔