آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب اپنی رنگا رنگ ثقافت، جفاکش عوام اور جغرافیائی تنوع کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد پہچان رکھتا ہے۔ لگ بھگ 12.7 کروڑ آبادی کے اس صوبے میں جہاں درجنوں زبانیں اور مختلف طرزِ رہن سہن پایا جاتا ہے، وہاں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے حکومت کے فلاحی اقدامات اور پالیسیوں نے پنجاب کو نئی پہچان عطا کی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ وہاں کی ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور ہسپتالوں سے تو لگایا جا سکتا ہے مگر اصل خوشحالی کا معیار ”اپنی چھت“ کی دستیابی ہے جو انسان کو تحفظ اور سکون کا احساس دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں اگست 2024 میں ”اپنی چھت اپنا گھر“ کے نام سے ایک میگا پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد نعرے بازی سے ہٹ کر مستحق افراد تک شفاف طریقے سے وسائل پہنچانا تھا۔ آج اس پروگرام کی بدولت ہزاروں خاندان اپنے گھروں میں باوقار زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں ڈائریکٹر جنرل پھاٹا (PHATA) خواجہ محمد سکندر ذیشان کی انتھک محنت کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جن کا عزم ہے کہ پنجاب کا کوئی مستحق شہری اپنی چھت سے محروم نہ رہے۔ حال ہی میں الحمرا ہال لاہور میں خواجہ محمد سکندر ذیشان کی سربراہی میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”بیونڈ افورڈیبل ہاو¿سنگ“ منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں نامور سکالرز اور ماہرین نے شرکت کی اور پروگرام کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ کانفرنس کی خاص بات بے وسیلہ اور متوسط طبقے کی ضرورت کے عین مطابق گھروں کے جدید ڈیزائن متعارف کرانا تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت صرف مکان نہیں بنا رہی بلکہ ایک ایسا سماجی ماحول فراہم کر رہی ہے جو عوامی امنگوں کی ترجمان ہو۔ اس منصوبے میں تحقیقی پہلو کو شامل کرنے کے لیے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اور این سی اے (NCA) جیسے معتبر اداروں کے اساتذہ اور طلبہ کے ماڈلز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ”آپ کی مٹی، آپ کا گھر“ جیسے ماحول دوست تعمیراتی منصوبے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پنجاب حکومت مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے اس عوام دوست اقدام کی پذیرائی صرف سرکاری سطح تک محدود نہیں رہی، بلکہ ”پنجاب افورڈیبل ہاو¿سنگ پروگرام“ اور ”یو این ہیبیٹیٹ ان پاکستان“ جیسے نجی و بین الاقوامی ادارے بھی اس کارواں کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ اشتراک نا صرف تعمیراتی عمل میں آسانیاں پیدا کرے گا بلکہ اسے ماحول دوست بنانے میں بھی مددگار ہو گا۔ بقول شاعر میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مریم نواز شریف نے جس پودے کی آبیاری کی ہے وہ خواجہ محمد سکندر ذیشان کی سربراہی میں اب ایک تناور شجر بنتا جا رہا ہے۔ اس عزم اور شفافیت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پنجاب اب دنیا کے ترقی یافتہ خطوں کی صفِ اول میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔