جون 2017 کی صبح ٹریفک سارجنٹ بخوشی جب اپنے ڈیوٹی پرگیا ، تو اہل خانہ کو یہ قطعی علم نہیں ہوگا کہ آخری بار گھر کے سربراہ کو الوداع کر رہے ہیں،وہ کسی ایسے عارضہ میں بھی مبتلا بھی نہ تھا جو اچانک جان لیوا ثابت ہوتا البتہ فرائض اس نوعیت کے ضرور تھے کہ کسی حادثہ کا امکان ہو، تاہم کسی ڈرائیور سے غفلت کی امید کم ہی تھی، سارجنٹ کا اپنا ایک دبدبہ ہوتا ہے، کوئٹہ شہر کے چوک جی او پی میں دن کی روشنی میں جس گاڑی نے سارجنٹ کو کچل کے رکھ دیا وہ عام شہری کی گاڑی نہ تھی اچکزئی قبیلہ کے سردار اور ممبر اسمبلی کی لینڈکروزر تھی جن کا کام ہی قانون سازی ہے موصوف ایسی بھیانک لاقانونیت کا مرتکب ہو ئے کہ سرکاری ملازم کی جان لے لی، جہاں سرداری نظام deep routed ہو وہاں سرکاری اہلکار اور سردار کا کیا مقابلہ ؟، اشرافیہ نے اسے موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا ۔
کل ہی کی بات ہے سندھ کی بیٹی کی آہ وبکا پورے عالم نے سنی ،اُم رباب دادا، والد، چچا کی قبروں پر کررہی تھی،جن کو ایک سردار نے اس لئے قتل کرایا کہ قمبرتحصیل میں نکلنے والی گیس، تیل کی رائلٹی کے لئے اس کے والد نے تمندار کونسل بنوائی ،سردار نے اس فعل کو اپنی شان میں گستاخی سمجھا،دادو کی سیشن عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا، استغاثہ عام شہری نے دائر کیا تھا۔ شہداءکے لواحقین کے اعزاز میںمنعقدہ پروگرام میں شہید کی نو عمر بیٹی فیلڈ مارشل سے شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ وڈیرہ انکی زمینوں اورصحن میں پانی چھوڑ دیتا ہے،وہ تکرار کرتی رہی تو فیلڈ مارشل نے اس کے سر پر دست شفقت رکھ کر یقین دہانی کرائی اب پانی نہیں چھوڑے گا۔
سوشل میڈیا پر ہی ایک بے بس لاچار والد کی گفتگو وائرل ہے آنسو اسکی غربت اور لاچارگی کا پتا دیتے ہیں، وہ دل سوز آواز میں شکوہ کناں تھا کہ آٹھویں کلاس میں زیر تعلیم اسکی بیٹی کی عزت کو ایک وڈیرے کے بیٹے سے شدید خطرہ ہے، مدد کی جائے، عمومی رائے یہ ہے کہ کاروکاری کے جتنے بھی واقعات سندھ یا بلوچستان ہوتے ہیں، تو ان کے پیچھے سردار، وڈیرے جیسی بااثر شخصیات ہوتی ہیں، اسکی آڑ میں کچھ اپنے سیاسی مخالفین کو قتل بھی کرتے ہیں۔
سوال ہے سرداری نظام کوکسی نے چیلنج بھی کیا ہے، ” جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“ کتاب کے مصنف ڈاکٹر فاروق عادل اپنی کتاب میں رقم کرتے ہیں” کہ آج بڑا دن ہے،اس کو سلام کرو ،سرداری چاہتے ہو تو جاﺅ ہندوستان، سردار جی کے پاس،یا جاﺅ افغانستان سردار داﺅد کے پاس،یہاں تو سرداری ختم ہوگئی،یہ الفاظ ذوالفقار بھٹو مرحوم کے تھے“ جو کوئٹہ ایوب سٹیڈیم میں،عوامی اجتماع سے مخاطب تھے، دوران خطاب یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے،ہجوم خوف زدہ ہو کر بکھرنے لگا تو مجمع نے بھٹو کی پر جوش آواز سنی ، یہ پٹاخہ مری بخش کا ہے انہوں نے ان دھماکوں کوسرداروں کے نام سے منسوب کیا، ڈاکٹر شاہ محمد مری کہتے ہیں کہ نہیں معلوم یہ دھماکے کس نے کرائے مگر بھٹو صاحب کے جملے زد عام ہو گئے،بھٹو تین وجوہات کی بنا پر سرداری نظام کا خاتمہ چاہتے تھے، ایک ششک چھٹا حصہ فصل کا جو عام کسان سے سردار لیتا تھا ،دوسرا زرعی اصلاحات کیونکہ بلوچ سرداروں نے سرکار سے تعاون کرنے سے انکار کردیا، تیسرا سرداروں کا جعلی کاغذات کے ذریعہ پٹ فیڈر زمینوں پر قبضہ کرنا تھا۔
ڈاکٹر عطا مری نے اپنی کتاب ”بلوچ قوم : قدیم عہد سے عصر حاضر تک “ میں سرداری نظام کے سیاسی، اقتصادی، سماجی ،نفسیاتی پہلوﺅں پر تفصیل سے تذکرہ کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ انگریز دور میں عام بلوچ کا خون بہا دوہزار جبکہ سردار کا آٹھ ہزار روپے ہوتا تھا، سرداری نظام کوئی ٹائٹل نہیں، یہ پورا سماجی، اقتصادی نظام ہے اس کے خاتمہ کے لئے متبادل نظام ہی کی ضرورت ہے، مگر بھٹو صاحب نے متبادل نظام دیئے بغیر اس کے خاتمہ کا اعلان کر دیا،بھٹو صاحب ہوائی آدمی تھے ان کی طرف سے اس نظام کا خاتمہ بھی ہوائی ثابت ہوا،بھٹو مرحوم چونکہ خود بھی جاگیر دارانہ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، شعبدہ بازی پر ہی انہوں نے اکتفا کیا تاکہ سردار ناراض نہ ہوں رند کے رند رہیں اور جنت بھی ہاتھ سے نہ جائے۔
اس نظام کے سماج پر کیا منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ ماہرین کہتے ہیں، سب سے بڑا نقصان ہے کہ طاقت چند خاندانوں اور گروہوں میں مرتکز ہو جاتی ہے، مقامی سیاست شہری حقوق کی بجائے وفاداری، قبیلہ، اثر و رسوخ ، زمین پر چلتی ہے، پٹواری، پولیس، تھانہ، عدلیہ، ترقیاتی فنڈز، مقامی تنازعات حتیٰ کہ ووٹ تک اشرافیہ کے زیر اثر آتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں جہاں سرداری، وڈیرہ شاہی، گدی نشینوں کا نظام کسی نہ کسی صورت میں ہے وہاں شرح خواندگی کم اور غربت بہت زیادہ ہے اس کی بڑی مثال بلوچستان اور سندھ کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہیں، جس کی شہادت ورلڈ بنک بھی دیتا ہے، ایسا ہی کچھ معاملہ جنوبی پنجاب کا بھی ہے۔
تحقیقی مقالہ جات ثابت کرتے ہیں، برصغیر میںاس نظام کو پروان چڑھانے میں تاج برطانیہ کا بڑا ہاتھ ہے، مخبری کا فریضہ انجام دینے پر وڈیروں، سرداروں، گدی نشینوں کو جاگیریں انگریزوں نے اپنی وفاداری کے عوض دیں، مگرہندوستان کی سرکار نے تمام جاگیروں کو بے زمینوں میں تقسیم کر کے اس نظام کو جڑ ہی سے اکھاڑ دیا ہے، وہاں یہ طبقہ کسی طور بھی سیاسی نظام پر اثر انداز نہیں ہوتا نہ ہی سماجی اور معاشی تفاوت اس اعتبار سے پایا جاتا ہے، مشرقی پاکستان اب (بنگلہ دیش) میں 1950 بعد ازاں 1971 میں زمینی اصلاحات سے جاگیر داری نظام ختم کیا گیا، دلچسپ امر یہ کہ برطانوی شاہی خاندان نے اپنے سارے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کر دیئے۔
ستیش کمار کی کتاب ”نیا پاکستان“ میں رقم ہے احمد سلیم نے شاہ محمد مری سے سوال کیا، کہ سرداروں نے بے زمین کو نہ زمین دی، نہ چرواہے کو چراگاہ ،نہ صنعت لگائی نہ سڑکیں بنائیں، نہ تعلیم دی، پھر لوگ ان کے چنگل سے آزاد کیوں نہیں ہوتے؟ جواب تھا، وڈیرہ، سردار، گدی نشین اب محض وہ نہیں رہا بلکہ صنعت کار، سرمایہ دار بن کر زیادہ مضبوط ہوا ہے،مذکورہ واقعات قانون کی عمل داری کی بے بسی کو عیاں کرتے ہیں، یہاں نظام عدل اگر نافذ ہوتا تو سارجنٹ اور اُم رباب کے خونی رشتوںکے قاتل بھی ایسے ہی انجام کو پہنچتے مگر کیا کیجئے ،مذکورہ نظام کی برقراری اورمقتدرہ کی مصلحتوں کی سزا عام شہری کو مل رہی ہے متروک، بوسیدہ سرداری نظام کا بوجھ لاچار شہری اب بھی اٹھارہا ہے۔