سرداری نظام کی ایک اور مکروہ اور خطرناک شکل یہ ہے کہ اس نے بلوچ نوجوان نسل کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے ہمیشہ گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1948ء میں خان آف قلات میر احمد یار خان نے الحاق کی دستاویز پر دستخط کر کے بلوچستان کو پاکستان کا لازمی حصہ قرار دیا۔ یہ فیصلہ عوامی خواہشات کا عکاس تھا، مگر چند خودغرض سرداروں نے اپنی جاگیردارانہ اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے اس حقیقت کو تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے نوجوانوں کے سامنے من گھڑت کہانیاں پیش کیں۔ ان سرداروں کی پالیسی ہمیشہ ایک جیسی رہی ہے۔ عوام کو تعلیم اور شعور سے محروم رکھنا، تاکہ وہ سوال نہ کریں، اپنے حقوق نہ مانگیں اور غلامی پر قناعت کریں۔ انہی پالیسیوں کے نتیجے میں بلوچ نوجوان جدید تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ گئے۔ یہی وہ خلا تھا جس کا پاکستان دشمن قوتوں نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ بیرونی ایجنسیوں کی مالی و نظریاتی سرپرستی سے یہ سردار اپنے بچوں کو یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں، مگر عام بلوچ نوجوان کو جہالت، پسماندگی اور اندھیروں کے حوالے کر دیا۔ بلوچستان کی بدقسمتی یہ بھی رہی کہ جب بھی ریاست نے یہاں ترقی و خوشحالی کے منصوبے شروع کیے تو چند سرداروں نے ان کی مخالفت کو اپنی سیاست کا ایندھن بنایا۔ سیندک، ریکوڈک اور سی پیک جیسے میگا پراجیکٹس، جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے خوشحالی کے ضامن ہیں، ان سرداروں کی مخالفت کی زد میں آ گئے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر یہ منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ گئے (جو کہ پہنچ چکے ہیں) تو عوام کے روزگار کے دروازے کھلیں گے، شعور بڑھے گا، صنعتیں لگیں گی اور یوں ان کی اجارہ داری ٹوٹ جائے گی۔ اسی لیے انہوں نے نوجوانوں کو یہ باور کرایا کہ یہ منصوبے بلوچستان کے وسائل کو لوٹنے کے مترادف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے وسائل بلوچستان ہی کے عوام کے ہیں۔ سیندک میں تانبے اور سونے کے وسیع ذخائر ہوں یا ریکوڈک کی اربوں ڈالر مالیت کی کانیں، یہ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سی پیک جیسا منصوبہ تو دنیا کی تاریخ کا ایک نایاب موقع ہے، جس نے بلوچستان کو خطے کا تجارتی مرکز بنا دیا۔ مگر افسوس کہ ان منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چند سردار بنے جنہوں نے اپنی غلامانہ ذہنیت سے نکلنے سے انکار کر دیا۔ مزید ظلم یہ کہ ان منصوبوں پر مقامی افراد کو کام کرنے سے روکا اور جب کام کے لیے دوسرے صوبوں سے مزدور اور ماہرین بلائے گئے، تو ان پر حملے کیے گئے۔ پنجابی مزدوروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تاکہ صوبے میں نسلی اور لسانی فسادات پھیلائے جا سکیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کے ذریعے نہ صرف بھائی چارے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ صوبے کی ترقی اور امن و امان کو بھی بُری طرح متاثر کیا گیا۔ ایسے فسادات کے نتیجے میں عوام میں عدم اعتماد، نفرت اور دوریاں پیدا ہوتی ہیں، سرمایہ کاری رک جاتی ہے، روزگار کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ افسوس کہ سرداری ذہنیت نے بلوچ عوام کو دوسرے پاکستانی بھائیوں سے کاٹنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ بلوچستان صرف بلوچوں کا نہیں بلکہ اس کی سرزمین پر پشتون، براہوی، ہندو، پنجابی، سندھی اور دیگر قومیں بھی آباد ہیں۔ یہ سب مل کر بلوچستان کی اصل تصویر ہیں۔ اسلام نے کبھی کسی علاقے کو کسی خاص نسل کی ملکیت قرار نہیں دیا۔ قرآن کہتا ہے۔ ’’یہ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے‘‘۔ لہٰذا یہ کہنا کہ بلوچستان صرف بلوچوں کا ہے، نہ صرف قرآن کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ پاکستان کے آئین اور نظریہ کے بھی منافی ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جن سرداروں نے پنجابی مزدوروں پر حملے کرائے، وہی سردار اپنے ذاتی کاروبار کے لیے انہی پنجابی یا سرائیکی مزدوروں کو ملازم رکھتے ہیں۔ مگر عوام کے سامنے ایک الگ چہرہ دکھاتے ہیں تاکہ ان کی اجارہ داری قائم رہے۔ یہ دوغلا پن اس سرداری نظام کی اصل پہچان ہے۔ پاکستان کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب ریاست نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے، تعلیمی ادارے قائم کیے، سڑکیں اور ہسپتال بنائے، تو عوام نے ان کا خیر مقدم کیا۔ گوادر یونیورسٹی، تربت یونیورسٹی، میڈیکل کالجز اور جدید سکول اسی کا ثبوت ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے بلوچ نوجوانوں کو شعور اور آگہی کی نئی دنیا سے روشناس کرا رہے ہیں۔ لیکن انہی اداروں پر بھی شرپسند عناصر نے حملے کیے تاکہ عوام تعلیم حاصل نہ کر سکیں۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اسلام نے سب سے پہلے انسان کو علم اور ہنر سے آراستہ کیا۔ نبی اکرمﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی ہی علم کے بارے میں تھی۔ ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘‘۔ تعلیم ہی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ مگر سرداری نظام تعلیم کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر سامنے آیا ہے کیونکہ یہ سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور سردار کبھی نہیں چاہتے کہ عوام سوال کریں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ سردار ان کے خیرخواہ نہیں بلکہ سب سے بڑے دشمن ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جس نے ہمیشہ عوام کو غربت، جہالت اور خوف کے اندھیروں میں رکھا تاکہ اپنی غلامانہ حکمرانی قائم رکھ سکے۔ اسلام نے انسان کو آزادی دی ہے، قرآن نے سوچنے اور غورو فکر کرنے کا حکم دیا ہے، اور پاکستان نے سب شہریوں کو برابر کے حقوق دئیے ہیں۔ اگر نوجوان نسل یہ سمجھ لے تو سرداری نظام اپنی موت آپ مر جائے گا۔ ریاست اور افواج پاکستان کی قربانیوں سے آج بلوچستان پسماندگی سے نکل کر ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ یہ حقیقت دشمن قوتوں اور ان کے آلہ کار سرداروں کے لیے سب سے بڑی تکلیف دہ ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ سرداری نظام بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ ہے۔ یہ نظام ختم ہو گا تو بلوچستان کے عوام حقیقی آزادی، مساوات اور خوشحالی کا مزہ چکھ سکیں گے۔ آج وقت آ گیا ہے کہ بلوچ نوجوان اپنے اصل دشمن کو پہچانیں، علم و شعور کی طرف بڑھیں اور پاکستان کے ساتھ مل کر اپنی دھرتی کو ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنائیں۔ یہی مستقبل ہے، یہی نجات ہے اور یہی کامیابی ہے۔