Wed, September 16, 2026

آزاد جموں کشمیر میں مفاد پرست گروہ…

 آزاد جموں کشمیر میں مفاد پرست گروہ…

گزشتہ کچھ عرصہ سے آزاد جموں و کشمیر میں برپا کئے جانے والے بحران فری و معاشرتی نہیں تھا بلکہ یہاں بھی دو رخی فتنہ گری کے طفیل یہ مصنوعی صورتحال پیدا کی گئی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے خود کو بظاہر جموں کشمیر کے مفادات کے حق میں رہنما اور محافظ ظاہر کیا لیکن اہل حکمت جانتے ہیں کہ یہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہونے والی سازش ہے حقیقت اس ظاہری خیر خواہی کے برعکس ہے ۔ 
اس مبالغہ آرائی ، جعلی ہمدردی اور بظاہر لیڈری کے پس پردہ تاجروں مفاد پرستوں ، ٹرانسپورٹرز ، وکلاء طلباء اور محضوص طالع آزما عناصر کا منصوعی اتحاد ہے ایہ یہ ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ مفاد پرستوں کا گٹھ جوڑہے ان کے خطے میں کوئی معاشرتی ، سیاسی عزائم نہیں بلکہ یہ ایک خود غرض تجارتی مفاداتی گروہ ہے جس نے اپنا مینڈیٹ نہایت شاطرانہ انداز میں بڑھا کر احتجاج کو وسیع تر کرنا چاہا ہے ۔ 
2024ء کی سازشی تحریک اور 8 مئی سے شروع ہونے والے چھ روزہ احتجاج ہنگامے گواہ ہیں کہ کس طرح محاصروں ، ہڑتالوں اور دھرنوں کے ذریعے آزاد کشمیر کی زندگی کو مفلوج کیا گیا۔ بیورو کریسی اور دیگر اداروں کا کنٹرول ختم کیا گیااور ایک ایسی مصنوعی صورت حال پیدا کر دی گئی جس نے آزاد جموں کشمیر کے لوگوں کو منتشر خیالی کا پیش خیمہ بنا دیا جھوٹے پرکشش نعرے سستی بجلی انتہائی سبسڈائزڈ اناج اور وسائل پر کنٹرول سے ایسی صورت حال بنا دی کہ آزاد جموں کشمیر ایک استحصال شدہ محروم خطہ دکھائی دے …
مگر حقیقت کے سامنے جھوٹا بیانیہ کب تک ٹک سکتا ہے جب صورتحال واضع ہوئی درست اعداد و شمار سامنے آئے تو سارا جھوٹا منظرپل بھر میں ٹوٹ گیا۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام دعوے اس طرح ریت کی دیوار ثابت ہوئے کہ ان کے متضاد مستند ثبوت موجود تھے۔ پڑھائی لکھائی یعنی تعلیم کی جو شرح بیان کی گئی کے برعکس پرائمر سے لیکر اعلیٰ سطح تک جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے معیارات کے عین مطابق ہے جب اصل حقائق سامنے آتے ہیں تو ان مفاد پرستوں کی گھڑی ہوئی جھوٹی کہانیاں ہوا میں اڑ جاتی ہیں یہ پراپیگنڈہ دم توڑ دیتا ہے کہ وہاں تعلیم کی شرح کے سلسلے میں لاپرواہی برتی گئی۔ 
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے تعلیم کی طرح صحت کے شعبہ میں بھی جھوٹا پراپیگنڈہ کرتے ہوئے ’’طبی ترک‘‘ کا دعوے کیا۔ جو کہ سراسر معاشرتی ناہمواری اور بے چینی کے لئے کیا گیا تا کہ لوگ مضطرب ہوں جبکہ مریضوں کی کثیر تعداد علاج سے فیض یاب ہوتی ہے اعداد و شمار کے لحاظ سے آرمی میڈیکل سہولیات بھی مریضوں کی ایک کثیر تعداد کو شفاء ملتی ہے ۔ جہاں تک اقتصادی و معاشی معاملات کا ذکر ہے ۔آزاد جموں کشمیر کی حالت نسبتاً ملک کے دیگر کئی علاقوں سے بہتر ہے جہاں تک ملازمتوں اور کاروبار حیات کا ذکر ہے تو آزاد کشمیر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ فوج میں ملازمت کرتا ہے جس کی وجہ سے خطے میں خوشحالی اور توازن پیدا ہوتا ہے ۔ 
اس مفاد پرست ٹولے میں کچھ شکست خوردہ ناکام گروپ بھی آن ملے ہیں انہی میں لبریشن جموں و کشمیر بھی کب سے قصہ یارینہ ہو چکا ہے ان احکامات کی بدولت دوبارہ اپنے پائوں جمانے کی کوشش میں شامل ہوگیا۔ ایسے میں چند طالع آزما سیاست دان کیسے پیچھے رہ جاتے لہٰذا وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ذریعے پس پردہ کارروائی فرما رہے ہیں ان پردہ نشینوں کا مقصد بلیک میلنگ سے وفاقی امداد میں راستہ ہموار کرنا ہے ۔ یہ بھی عوامی فلاح کی بجائے ذاتی اور سیاسی فائدہ چاہتے ہیں جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کو باقی پاکستانیوں کی نسبت بجلی کے نرخ نہایت کم ادا کرنے پڑتے ہیں۔یہی صورتحال اناج کے حوالے سے بھی ہے آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو گندم و دیگر اجناس وطن عزیز کے دیگر شہروں کی نسبت کہیں کم ادا کرنے ہوتے ہیں۔ 
وقت آ گیا ہے کہ حکومت کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اب ایک سول سوسائٹی کے سرکردہ گروپ کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اس کی تخریب کار سوچ اور کاروائیوں کی بیخ کنی کرنی چاہئے ۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایک دھوکہ ہے اور اس کے سازش عناصر ون کے مفادات کے متضاد مصروف کار ہیں جن کا سدباب ضروری ہے تا کہ 2024ء والی صورتحال دوبارہ کبھی پیدانہ ہو۔اس مفاد پرست گروہ کے اٹھائے گئے سوالوں کا پہلے ہی انتہائی سبسڈائزڈ قیمتوں سے جواب دے دیا گیا ہے جسے یہ لوگ تسلیم نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے جذبات سے کھیل کر ان سے جھوٹے وعدے کر کے حکومت پر نکتہ چینی کو ہوا دیکر پس پردہ یہ اپنے مخصوص مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 
پورا پاکستان حیران تھا کہ انتہائی خوش خلق کشمیری عوام کس طرح دھرنے ، مرنے ، احتجاج اور قدرے بغاوت پر اتر آئے تو ان کے پاس پردہ مندرجہ بالا حقائق تھے جو کہ نہایت ناپسندیدہ اور ناقابل معافی ہیں ہر ایسا غیر سیاسی گروہ جو اپنے مطلب و مقاصد کے لئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جیسا مفاداتی گروہ بناتا ہے ۔ پاکستان کی سالمیت کے تناظر میں اس کافیصلہ ہونا چاہئے ۔ 

ٹیگز: