تحریک انصاف نے اپنے قیام کے بعد ملکی مفاد کی تو کبھی پراہ کی ہی نہیں اس کی پوری سیاسی تاریخ اپنے سیاسی بلکہ اگر یہ کہیں کہ عمران خان کی ذات کے گرد گھومتی ان کے ذاتی مفاد کے دائرے سے کبھی باہر نہیں نکلی لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے سیاست کے بے تاج بادشاہ آصف علی زرداری نے جس طرح اپنی ایک ہی چال سے تحریک انصاف کی سیاست کو چاروں شانے چت کر کے دکھا دیا ہے تو اس سے وہ حقیقی معنوں میں سیاست کے بادشاہ ثابت ہوئے ہیں اس پر چند گذارشات۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کراچی کے دورے پر جاتے ہیں اور ان کا خیال تھا کہ یہاں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی لیکن آصف علی زرداری نے سعید غنی کو ان کے استقبال کے لئے بھیج دیا اور صرف انھیں نہیں بھیجا بلکہ ان کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کا ایک پورا قافلہ تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے سندھی ثقافت کی شناخت اجرک اور سندھی ٹوپی کا تحفہ بھی سہیل آفریدی کو پیش کیا ۔ ان کے اس ایک اقدام سے وہ پوری تحریک انصاف کہ جو کراچی ایئر پورٹ پر لینڈ کرنے سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے لتے لے رہی تھی اور ان کا سوشل میڈیا بد زبانی کر رہا تھا وہ سب یک دم مجبور ہو کر پاکستان پیپلز پارٹی کی تعریفیں کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ دوسرا ان کے استقبال کے لئے سعید غنی کے ساتھ جو قافلہ تھا وہ سہیل آفریدی کے اپنے استقبال کے لئے آنے والوں سے زیادہ بڑا تھا جس سے تحریک انصاف کو بڑا واضح پیغام دیا گیا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں تحریک انصاف کے لئے کوئی جگہ نہیں اور تیسرا انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک روا دار اور جمہوری اقدار کی جماعت ثابت کیا اور تحریک انصاف کو یہ بھی بتا دیا کہ تحریک انصاف نے اپنے دور میںپوری حزب اختلاف کو پابند سلاسل رکھ کرجو کم طرفی دکھائی تھی لیکن ہم نے آپ کو خوش آمدید کہہ کر اپنی اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا ہے ۔پیپلز پارٹی کے حکومتی استقبال کو قبول کر کے سہیل آفریدی نے اس حکومت کے مینڈیٹ کو تسلیم کر لیا ہے۔
یہ تو آصف علی زرداری صاحب کے حوالے سے ان کے سیاسی اقدام پر چند گذارشات تھیں لیکن اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ اس وقت ملکی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اور خاص طور پر اس خطے میں بلکہ ہمارے آس پڑوس جو سنگین حالات ہیں اور اس حوالے سے جن شدید خدشات کا اظہار پوری دنیا کر رہی ہے اور پوری دنیا اس ساری صورت حال سے پریشان ہے بلکہ پریشانی سے بڑھ کر اگر ہم کہیں کہ خوف زدہ ہے تو غلط نہ ہو گا ۔ ایسے حالات میں سیاسی اور بین الاقوامی سیاست کے تجزیہ کاروں کی اکثریت اس بات کا اظہار کر رہی ہے کہ وینزویلا میں تو جو ہونا تھا وہ ہو گیا لیکن اب ایران کے بعد پاکستان کی باری بھی آ سکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان جو کشیدگی ہے وہ بھی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے تو ایسے نازک حالات میں حب الوطنی کی سیاست کرنے والے اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف یہ کہ خود بلکہ قوم کو بھی اتحاد و یک جہتی کا سبق دیتے ہوئے متحد ہونے کی تاکید کرتے ہیں لیکن جیسا کہ کالم کے شروع میں عرض کیا کہ تحریک انصاف کی سیاست روز اول سے ہی ملک و قوم کی بجائے اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے ۔ یہاں ایک اور نقطہ انتہائی اہم ہے کہ جسے الیکٹرانک میڈیا سمیت ہر فورم پر بار بار بیان تو کیا جاتا ہے لیکن بین الاقوامی حالات کے تناظر میں وہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان پاکستان میں جو ملک دشمن کردار ادا کر سکتی ہے اس پر ابھی کسی نے توجہ نہیں دی ۔ ونزویلا ہو یا اس سے پہلے لیبیا اور عراق میں بھی امریکہ نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور اب وہی آزمودہ طریقہ ایران میں آزما رہا ہے اور میڈیا میں ایران کے حوالے سے جو خبریں آ رہی ہیں وہ انتہائی تشویش ناک ہیں ۔ ایران کے ساتھ بھی کیا ہوا تھا کہ جون 2025میں ہونے والی جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو پورا یقین تھا کہ وہ ایران کو تباہ کر دیں گے اور وہاں کامیابی کے ساتھ رجیم تبدیل ہو جائے گی لیکن جب ایسا کرنا ممکن نہیں ہوا تو اب اندرونی خلفشار سے یہ مقصد حاصل کیا جا رہا ہے یاد رہے کہ اس جنگ میں پاکستان کا جو کردار تھا اس پر ایرانی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگے تھے اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ ایران کی جیت کے پیچھے بھی وردی ہے۔
یہی کچھ پاکستان کے ساتھ ہوا تھا کہ مئی 2025کی جنگ بھی اسی مقصد کے تحت شروع کی گئی تھی اور اس دوران بھی کس جماعت کے سوشل میڈیا نے عین حالت جنگ میں ہندوستان کے بیانیہ کا ساتھ دیا تھا اس کا علم پوری دنیا کو ہے ۔ اب بھی حالت یہ ہے کہ دہشت گرد اپنی پوری قوت سے خیبر پختون خوا میں اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ سہیل آفریدی جو اس صوبہ کے وزیر اعلیٰ ہیں انھیں اس کی رتی بھر پرواہ نہیں کہ وہ صوبہ میں امن و امان کی بہتری کے لئے کوئی قدم اٹھائے حتیٰ کہ وہ تو افواج پاکستان کے شہداءکے جنازوں میں جانا بھی گوارہ نہیں کرتے بلکہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی بھی مخالفت کر رہے ہیں اور یہی طرز عمل پوری تحریک انصاف کا ہے تو ملکی اور بین الاقوامی مخدوش حالات کے تناظر میں اب وقت آ گیا ہے کہ مزید وقت ضائع کیئے بغیر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان اور ان کے سیاسی سر پرستوں کے خلاف بھی کارروائی کر کے انھیں قانون کے کٹہرے میں لا کر آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔