وطن عزیز میں سیلاب سے متاثرہ افراد امداد کے سروے فارم کی پہلے تصدیق کریں اور پھر اسے پُر کریں ۔ ابھی سروے شروع ہی نہیں ہوا مگر سائبر کرائمز کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ایک مخصوص برادری فارم پرنٹ کرا کے اپنا کام کر رہی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان افراد کو امداد ملنے والی ہے اس لیے وہ ایڈوانس تیاری مکمل کر کے متاثرین کی خاندانی و خفیہ تفصیل اس فارم پُر لے رہی ہے۔ جیسے شناختی کارڈ نمبر، والدہ کا نام، فنگر پرنٹ، جنہیں بعد میں سیلی کون پر بنوا کر سم ریپلیسمنٹ اور بائیو میٹرک کے لیے استعمال کریں گے۔ جب اصلی امداد آپ تک پہنچے گی تو ان جعل سازوں کے پاس آپ کے اکاؤنٹ تک پہنچنے کا مکمل ڈیٹا موجود ہو گا۔ سیلی کون پرنٹ کے ذریعے یہ بائیو میٹرک تصدیق بھی کر دیں گے اور آپ کا خفیہ کوڈ سم ریپلیس کرانے کے بعد ان کی دسترس میں ہو گا۔ لہٰذا احتیاط کریں اور ایسا فارم پُر کرنے سے پہلے سٹاف کی تصدیق متعلقہ دفاتر سے کریں۔ سیلاب کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ جلال پور پیر والا اور شجاع آباد کی زمینیں اپنی حد بندیاں کھو بیٹھی ہیں۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق جمع بندیوں میں ملکیت کی نشاندہی کے لیے کھتونی اور کھیوٹ نمبر تو رجسٹروں میں موجود ہیں مگر ان کی پہچان مٹ گئی ہے۔ کون کہاں رہتا تھا، اب کوئی نہیں جانتا۔ موضع جاتی حد بندیوں کے لیے زمین کی گہرائی میں دفن فولادی سنگ میل تلاش کرنا ہونگے۔ اس کام کے لیے ایک بار پھر پٹواری، قانونگو اور نائب تحصیلدار پر انحصار کرنا پڑے گا اور اس بار انہیں بھی مزاج اور روایتی معیار بدلنا ہونگے۔ جن لوگوں کے ٹریکٹر، ٹرالیاں اور زرعی آلات پہلے پانی اور پھر مٹی میں دفن ہو چکے ہیں اور ان کو تلاش کرنے کے لیے میٹل ڈی ٹیکٹر کی ضرورت ہے تاکہ جگہ جگہ زمین نہ کھودنا پڑے۔ حکومت انہیں جدید آلات فراہم کرے۔ صرف خیمے، کمبل اور راشن ہی کافی نہیں ان بے گھروں کو چھوٹی سی چھت چاہیے تاکہ وہ نئے سرے سے زندگی شروع کر سکیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے سیلاب سے پکا گھر مکمل طور پر گرنے پر 10 لاکھ روپے اور گھر کا کچھ حصہ گرنے پر 5 لاکھ روپے دینے اور سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے دو ہفتے میں آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ آخری فرد اپنے گھر میں جا کر آباد نہیں ہوتا، مریم نواز چین سے نہیں بیٹھے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر نگرانی اور سخت ہدایات کے تحت حالیہ سیلاب متاثرین کو 2010 کے سیلاب زدگان کی طرح بے یارومددگار نہیں چھوڑا جا رہا، اس وقت پنجاب کے تمام ادارے اور مشینری سیلاب زدگان کی امداد اور انکی بحالی میں مصروف ہے جبکہ نجی فلاحی اداروں کی امدادی سرگرمیاں بھی قابل ستائش ہیں۔ حالیہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیلاب بتایا جا رہا ہے جس کی تباہ کاریاں اب بھی جاری ہیں۔ جن علاقوں میں سیلابی پانی اترنا شروع ہو گیا ہے وہاں حکومت پنجاب نے بحالی کا کام تیزی سے شروع کر دیا ہے۔ بحالی کا یہ کام بلا امتیاز اور بے لاگ ہے اور بینظیر انکم سپورٹ منصوبے کی مدد بھی لی جا رہی ہے جس میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ نظر آ رہی ہے اور نہ پنجاب حکومت اپنی ستائش کو مدنظر رکھ کر سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کا کام کر رہی ہے۔ حکومت نے پکے گھروں کی تعمیر کیلئے دس لاکھ اور گھر کے جزوی نقصان پر پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے تو کوشش کی جائے کہ یہ رقم بروقت اور شفاف طریقے سے مستحقین تک پہنچائی جائے تاکہ اس میں کسی قسم کی بے ضابطگی اور بدعنوانی کا ارتکاب نہ ہو۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جس خلوص نیت کے ساتھ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہی ہیں، اس تناظر میں امید کی جا سکتی ہے کہ بہت جلد تمام سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام مکمل ہو جائیگا اور سیلاب سے ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی کیا جائیگا۔ مگر متاثرین کے مویشیوں کے لیے آئندہ فصل تیار ہونے تک چارے کا بندوبست بھی کیا جائے اور علاج کی سہولت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ جن علاقوں میں سکول تباہ ہو گئے ہیں ان بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جائے اور انہیں متبادل اداروں میں بھیجا جائے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کو بھی روشن مثالیں قائم کرنا ہوں گی تاکہ ازسرنو ترتیب پاتا معاشرہ نئے رنگ اور الگ روپ میں نظر آئے اور ہم فلاح کی جانب سفر کا آغاز کر سکیں۔