Wed, September 16, 2026

ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر سے ملاقات منسوخ کر دی، نئی پابندیاں لگانے کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر سے ملاقات منسوخ کر دی، نئی پابندیاں لگانے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات منسوخ کر دی کیونکہ انہیں یہ ملاقات مناسب نہیں لگی۔ ٹرمپ نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک اہم دن ہے، کیونکہ امریکہ نے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ امریکہ مزید سخت اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بائیڈن کے دور میں شروع ہوئی تھی، اور وہ اس جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نئی پابندیاں پیوٹن کو معقول رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ جب بھی پیوٹن سے بات ہوئی، وہ ہمیشہ اچھے انداز میں بات چیت کرتے ہیں، لیکن اس سے کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کرنے کی خبروں کو بھی مسترد کیا، اور بتایا کہ یوکرین امریکی نہیں بلکہ یورپی میزائل استعمال کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ روس یوکرین جنگ میں ہر ہفتے ہزاروں جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور اس جنگ کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر مزید دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ انہوں نے چین اور کوریا کے دورے کے دوران چینی صدر سے ملاقات کی امید ظاہر کی، اور کہا کہ پابندیاں پیوٹن کو سوچنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

انہوں نے بائیڈن کو امریکی تاریخ کا بدترین صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں پر بجٹ خرچ کرنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے، اور یہ امریکی معیشت کی مضبوطی کا وقت ہے۔

نیٹو سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے اس موقع پر کہا کہ روس پر مزید پابندیاں عائد کرنا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ پیوٹن جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے، تاہم اس وقت روس یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔

ٹیگز: