سرزمین پاکستان ایک امن پسند ریاست ہے ،جس نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں اہم کردار اداکیا ہے۔علاقائی سالمیت ہو یا عالمی حقوق کی پاسداری،پاکستان کا کردار روز اول سے مثبت اور مثالی رہا ہے۔پاکستان کے مضبوط دفاعی اور معاشی استحکام سفر کی مثالیں آج امریکہ اور یورپی اقوام بھی دیتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔تاہم گزشتہ دنوں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں کیے گئے ایک درست اور محدود فضائی حملے کولے کر ایک منظم اور گمراہ کن پراپیگنڈا مہم شروع کی گئی۔ اس حملے میں پاکستان نے ان دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنایا جو اپنی پناہ گاہیں افغان سرزمین پر قائم کیے بیٹھے تھے اور بارہا پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیاں کر چکے تھے۔الزام لگایا گیا کہ اس حملے میں ایک کرکٹ ٹیم کو نشانہ بنایا گیا، اور بعض بے بنیاد دعوے سوشل میڈیا اور مخصوص حلقوں میں پھیلائے گئے کہ پاکستان نے کھیل کے میدان میں موجود افراد کو نشانہ بنایا۔ یہ سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے بلکہ ان دہشتگردوں کو بھی تحفظ دینا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان امن کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پکتیکا میں کی جانے والی یہ کارروائی ایک مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی تھی، جس میں حافظ گل بہادر گروپ کے خوارج کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہی گروہ ہے جس نے حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان دہشتگردوں نے افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر حملہ کیا، جو کہ ایک سراسر جارحیت ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی۔جب پاکستان نے ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی تو افغان طالبان حکومت نے بجائے تعاون کرنے کے، الٹا پاکستان کے خلاف جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا۔ کرکٹ ٹیم کے نشانے پر ہونے کا دعویٰ اسی سازش کا حصہ تھا تاکہ خوارج کو ایک انسانی ڈھال فراہم کی جا سکے اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ کوئی کرکٹ ٹیم نشانہ بنی ؟ تو یہ سوال سوائے جھوٹ کے پلندے کے کچھ بھی نہیں۔ اس حملے میں کسی بھی شہری، کھلاڑی یا غیر عسکری ہدف کو نقصان نہیں پہنچا۔ پاکستانی انٹیلی جنس اور عسکری اداروں نے مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ کارروائی کی، جس کا مقصد صرف اور صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔
اس بات کی تصدیق زمینی شواہد اور آزاد ذرائع سے بھی ہو چکی ہے کہ نہ کوئی کرکٹ ٹیم وہاں موجود تھی، نہ ہی کوئی کھیل جاری تھا۔یہ جھوٹ اس لیے گھڑا گیا تاکہ پاکستان کے قانونی دفاعی اقدامات کو ایک غیر انسانی اقدام کے طور پر پیش کیا جا سکے۔اور دنیا بھر کی نظر میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے مثبت کردار کو داغدار کیا جاسکے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت، جو خود کو ایک اسلامی حکومت قرار دیتی ہے، وہ خوارج جیسے دہشتگرد گروہوں کو کیوں پناہ دے رہی ہے؟ کیوں ان گروہوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کی اندرونی سلامتی کے لیے بھی ایک خطرہ ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ کچھ حلقے خوارج کو پراکسی فورس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ پاکستان پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔ ان دہشتگردوں کو ڈھال بنا کر اپنی سیاسی اور سٹریٹیجک چالیں چلی جا رہی ہیں۔ لیکن یہ عمل خطے کے امن کو مزید خطرے میں ڈال رہا ہے۔حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، چاہے دہشتگرد کسی بھی طرف سے آئیں، اور جہاں بھی چھپے ہوں۔ پاکستان کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں پوری مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پکتیکا حملہ ایک سنجیدہ، محدود اور درست کارروائی تھی جس میں شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے مکمل احتیاط برتی گئی۔
پراپیگنڈا ہمیشہ کسی خاص سیاسی یا تزویراتی مقصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کیس میں بھی یہی ہوا۔ افغان طالبان کی حکومت پر بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دے۔ ایسے میں جب پاکستان نے خود کارروائی کر کے ان دہشتگردوں کو نشانہ بنایا، تو افغان حکومت کے پاس صرف ایک ہی راستہ تھا کہ اس کارروائی کو جھوٹے بیانیے کے ذریعے متنازع بنا دیا جائے۔کرکٹ جیسا مقبول کھیل، جس سے جذبات جڑے ہوتے ہیں، کو استعمال کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان نے نہ صرف سرحد پار کی بلکہ بے گناہ کھلاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ لیکن جب اس جھوٹ کو پرکھا گیا، تو ثابت ہوا کہ یہ صرف ایک افسانہ تھا۔
پاکستان نے نہ صرف اندرونِ ملک دہشتگردی کا سامنا کیا بلکہ دنیا کے لیے بھی قربانیاں دیں۔ لاکھوں شہریوں، ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں گواہ ہیں کہ پاکستان کسی بھی قیمت پر دہشتگردی کو برداشت نہیں کرے گا۔ پکتیکا کی کارروائی اسی تسلسل کا حصہ ہے، اور یہ پیغام ہے کہ چاہے دہشتگرد کہیں بھی چھپیں، پاکستان انہیں نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ خارجی پراپیگنڈے، جعلی بیانیے اور دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو بے نقاب کیا جائے۔ پاکستان کی کارروائی کسی جارحیت کا عمل نہیں تھی بلکہ ایک دفاعی اور ضروری اقدام تھا، جو بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر کیا گیا۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ سچائی کو تسلیم کرے اور پراپیگنڈے کی چالوں میں نہ آئے۔پکتیکا کا حملہ دہشتگردوں کے خلاف ایک ٹھوس پیغام تھا، اور کرکٹ ٹیم کی ہلاکت کی کہانی محض ایک ڈرامہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان کی ریاست اور عوام، دونوں، ان جھوٹے بیانیوں سے نہ پہلے مرعوب ہوئے ہیں، نہ آئندہ ہوں گے۔