تصور کیجیے، ایسا ملک جو ایک اندھیرے کمرے جیسا ہو چکا ہو، جہاں دیواریں ٹوٹ پھوٹی، چھت سے پانی ٹپک رہا ہے اور ہر طرف مایوسی کی بھاری لٹکنیں لٹک رہی ہیں۔ خزانہ خالی، عوام کی جیبوں میں صرف قرضوں کی سلطانیں، اور دشمن کی آنکھیں سرحدوں پر گھور رہی ہیں جیسے بھوکا بھیڑیا بکریوں کی رہگزر دیکھتا ہے۔ سری لنکا کی طرح ڈوبنے کا واویلا، ایک سیاسی جماعت کا بیانیہ کہ "ملک آج ڈوبا، کل ڈوبا" ، یہ تھا پاکستان، جہاں امید کی آخری کرن بھی بجھ چکی تھی۔ بقول شاعر، "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"۔ اور پھر، 29 نومبر 2022 کو، جیسے آسمان سے ایک تیز دھار کی بارش برس پڑی، سید عاصم منیر نے آرمی چیف کا حلف اٹھایا۔ وہ کمرہ روشن ہو گیا، دیواریں مضبوط، اور دشمن کی آنکھوں میں خوف کا سایہ۔ آج، اکتوبر 2025 میں، پاکستان تبدیل ہو گیا ہے بلکہ بلندیوں کی طرف گامزن۔ یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ حقیقت ہے جو ایک ایسے سپہ سالار کی قیادت میں رقم ہوئی، جس نے دفاع وطن اور معاشی بہتری کو اپنے خون سے سینچا۔
یہ کہانی شروع ہوتی ہے اس 3 ستمبر 2023 کے دن بارہ بجے، 35 بزنس مین ان سے ملنے کور کمانڈر ہائوس لاہور پہنچے۔ آرمی چیف آئے اور گفتگو کا آغاز کیا۔
جیسے جیسے ان کی تقریر آگے بڑھی، ہمارے چہرے کھلنے لگے۔ "پاکستان اور مدینہ منورہ، دونوں ریاستیں اللہ کا کرم ہیں، دونوں ہمیشہ قائم رہنے کے لیے ہیں" یہ جملہ سن کر ہر دل میں ایک والہانہ محبت جاگ اٹھی۔ ان کا لہجہ، پرعزم اور پرجوش، جیسے تلوار کی دھار۔ انہوں نے کہا، "سوچیے جب آپ کسی سے پیسے مانگتے ہیں تو آپ کی حیثیت کیا ہو جاتی ہے؟" شرکائے اجلاس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔انہوں نے کہا میری حالت آپ جیسی ہی ہو جاتی ہے جب میں کسی دوسرے ملک کے حکمران سے پاکستان کی مالی مدد کا کہتا ہوں۔ یہ وہی لمحہ تھا جب بزنس مینوں نے تجاویز پیش کیں: برآمدات بڑھانے،کاروباری برادری کو سہولیات دینے اور کرپشن کے خاتمے کی۔ آج، ان میں سے صرف چند پر عمل درآمد ہوا ہے، اور اللہ کا فضل ہو گیا ۔ جی ڈی پی میں اضافہ، افراط زر پر قابو اور سرمایہ کاری کی لہر۔ میں نے اس روز کچھ ساتھی بزنس مینوں کی موجودگی مین فیلڈ مارشل سے کہا تھا کہ آپ کو جاتے جاتے ایسے ہی یہ منصب نہیں دیدیا ، سمجھیں اللہ نے بڑا کام لینا ہے،یہ پیشگوئی میں نے اپنے وژن کے مطابق کی،ان کی شخصیت اور گفتگو کو سمجھتے ہوئے کی تھی، الحمد للہ یہ کہا آج پورا ہوچکا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کو آسمانوں کی طرف لے گئے۔
اب آئیے ،مئی 2025 کا وہ خون آلود باب، جب بھارت نے سرحد پار کر کے دہشت گردی کی آگ لگائی۔ آپریشن بنیان مرصوص ، یہ نام سن کر ہی دشمن کپکپا اٹھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اعلیٰ حکمت عملی نے نہ صرف بھارتی جارحیت کو روکا، بلکہ ان کے رافیل طیاروں کو مار گرایا، ایس400 سسٹمز کو نشانہ بنایا اور چار روزہ معرکے حق میں پاکستان کو تاریخی فتح دلائی۔ 20 مئی 2025 کو، وفاقی کابینہ نے انہیں فیلڈ مارشل کا اعزاز بخشا ۔ ایوب خان کے بعد دوسرا، لیکن سب سے مختلف۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معاشی بہتری کا باب ایسا کھولاکہ آج پاکستان دنیا کی نظروں میں چمک رہا ہے۔ ہم سے 2023 کی اس میٹنگ سے شروع ہو کر، انہوں نے بزنس کمیونٹی کو اپنا ہاتھ تھما دیا۔ نتیجہ؟ SIFC (خصوصی سرمایہ کاری فیسلی ٹیشن کونسل) کا قیام،مزید یہ کہ میں نے سپیشل انوسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل کے کہنے پر ایک ہزار ساٹھ کلومیٹر طویل کوسٹل ہائی وے کے لئے 220 صفحات کی ایک فزیبلٹی سٹڈی جمع کرادی ہے۔اس کے بعد چار مزید تجاویز پر میں کام شروع کرچکا ہوں۔ آج، SIFC کے تحت 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے، برآمدات 15 فیصد بڑھیں اور افراط زر 7 فیصد پر آ گئی۔ یہ کوئی جادو نہیں، بلکہ ایک ایسے لیڈر کی حکمت ہے جس نے کرپشن کے عفریت کو زنجیروں میں جکڑ دیا۔ مجھے یاد ہے، جب وہ بولے، "جو آپ محسوس کر رہے ہیں، وہی ہم دوسرے حکمرانوں کے سامنے پیسے مانگتے ہوئے محسوس کرتے ہیں" یہ تیکھا طنز تھا ان سیاسی جوکروں پر جو ملک کو بیچنے والوں کو "حکیم" کہتے تھے۔ فیلڈ مارشل نے سفارتی میدان بھی سنبھالا۔
اب ذرا وہ مخالفین دیکھیے جو اب بھی واویلا کر رہے ہیں۔ مئی 2025 کے بعد، کچھ اینکرز اور سیاسی مہم جووں کا بیانیہ ہے کہ "پاکستان پہلے والا نہیں رہا"۔ یہ وہی لوگ ہیں جو سری لنکا کی مثالیں دے کر خوف پھیلاتے تھے، اور آج جب پاکستان جی ڈی پی میں 5.5 فیصد اضافہ دیکھ رہا ہے، تو انہیں مذاق سوجھاہے، جب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حلف اٹھایا، جو فیصلہ ہوا، اس پر ڈٹے رہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، معاشی اصلاحات اور قومی اتحاد۔ افغانستان کی طرف دیکھیے۔ TTP کی جڑیں کاٹ دیں، دوحہ مذاکرات میں پاک فوج کی بالادستی اور بھارتی پراکسیز کو راکھ کر دیا۔تین ستمبر دو ہزار تئیس کی شام ہی فیلڈ مارشل نے کہہ دیا تھا کہ افغانستان برادر مسلم ملک ہے لیکن پاکستان ہمارے لئے سب سے مقدم ہے۔
یہ سب کچھ اللہ کی نعمت ہے، مگر ایک انسان کی محنت کا پھل بھی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو آفیسرز ٹریننگ سکول منگلا کے 17ویں کورس سے ہیں، حافظ قرآن اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ایم فل۔ انہوں نے ISI اور ملٹری انٹیلی جنس کی سربراہی کی، کوارٹر ماسٹر جنرل رہے اور آج فیلڈ مارشل ہیں ۔ فائیو سٹار جنرل، جو چیئرمین جوائنٹ چیفس سے بھی اعلیٰ۔ ان کی تقریروں میں بے باکی، لہجے میں محبت، اور فیصلوں میں سختی۔ان کی قیادت میںنوجوانوں نے بھارتی پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا، میڈیا نے "آہنی دیوار" بنائی اور سیاسی قیادت نے سٹریٹیجک بصیرت دکھائی۔ معاشی طور پر، انہوں نے "ہارڈ سٹیٹ" کا تصور دیا ہے۔ جہاں کرپشن ختم، سرمایہ کاری کو خوش آمدیداور عوام کی فلاح اولین۔ آج، پاکستان کی نئی سفارتی حکمت عملی عالمی سطح پر ان کی پہچان بنا رہی ہے۔ سعودی عرب کے دفاعی معاہدے سے علاقائی استحکام، اور بھارت کو وارننگ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اللہ کی طرف سے بھیجا گیا وہ سپہ سالار ہے جس کا انتظار پاکستان کو دہائیوں سے تھا۔ جب اندھیرا تھا،وہ امید کی روشنی لائے، پاکستان تبدیل ہو گیا ۔ مضبوط، خوشحال اور سر اٹھاکر چلنے والا۔ ہم سب کا سر فخر سے بلند ہے۔ اللہ پاکستان کو ہمیشہ قائم رکھے۔ پاکستان زندہ باد! فیلڈ مارشل زندہ باد!