آج سے تین دن بعد 27 اکتوبر کو کشمیری عوام اسی جذبے کے تحت بھارتی فوجی تسلط کے خلاف دنیا بھر میں یوم سیاہ اور یوم الحاق پاکستان منائینگے بھارت کا پاکستان کے ساتھ صرف مسئلہ کشمیر ہی نہیں وہ پاکستان کی آزادی سے آج تک ہر قدم پر پاکستان کی مخالفت کرتا ہے وہ بے چارہ پاکستان پر چڑھ دوڑنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور ہر دفعہ اپنے منہ کی کھاتا ہے، حال میں مئی میںپہلگام کے واقعہ پر اس نے اپنی رعایا کو ہی نہیں بلکہ دنیا کو بے وقوف بناتے ہوئے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی مگر ہماری بہادر افواج نے گھنٹوں میں اسکا ناپاک منصوبہ ملیا میٹ کردیا ، جن فرانسیسی جہازوںپر اسے ناز تھا وہ بھی تباہ کرالئے ، اپنی رعایا کو اور دنیا کو بے وقوف بنانے کیلئے اپنے میڈیا کو استعمال کیا جس کے جھوٹ پر نہ صرف دنیا بلکہ خوداندرون بھارت کچھ ذی شعور لوگوںنے شور مچایا کہ کیا جھوٹ ہے جو بھارت کو مزید بدنام کررہا ہے پہلگام واقعہ پر بھارت کو منہ کی کھانا پڑی یہ جنگ پاکستان کی مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ولولہ انگیز قیادت میں خود لڑی اگر مسئلہ عالمی نام نہاد فورموں میں لے جایا جاتا تو آج تک لٹکا ہوتا ، کشمیر کے مسئلے پر گزشتہ ستر سال سے زائد پاکستان ہر فورم پر کوشش کرتا رہا ہے دنیا بھارت کو کہے کہ کشمیریوں کا قتل عام بند کرو، مگر دنیا کو معصوم بچوں، نوجوانوں ، بوڑھوں کی چیخیں سنائی دیںاور نہ ہی بھارتیوں کے ہاتھو ں ہزاروں عصمت دری کا شکار عورتیں کی آواز سنائی دی مسئلہ معیشت کا رہا ہے ہماری معیشت اس قابل نہیں تھی کہ کوئی ہماری بات سنے، مگر پہلگام واقعہ میں بھارت کی عبرتناک شکست کو بھارت برداشت نہ کر سکا، افواج پاکستان کے عزم اور ہماری وزارت خارجہ کی کاوشوں نے دنیا کے ذہنوںکو اپنا مقدمہ سننے کے قابل کردیا ، پہلی دفعہ ہماری وزارت خارجہ نے بھارت کو دنیا میں تنہا کردیا اب بھارت نے نئی سازش رچائی پاکستان کے پڑوسی اسلامی ملک افغانستان جس پر پاکستان کے ہزاروںاحسان ہیں اسکی پشت پر بیٹھ کر پاکستان پر حملے کی ٹھانی مگر پاکستان کا یہ اعلان کہ پاکستان پر جو بھی نظر اٹھائے گا اسکا مقابلہ ہو گا، بھارت کی شہ پر شروع ہونے والی افغان پاکستان جنگ میں بھی پاکستان نے خیال کیا کہ افغان عوام کو نقصان نہ پہنچے مگر جو دہشت گرد پناہ گزین افغانستا ن میں ہیں بھارت کے مالی تعاون سے پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں انہیں نشانہ بنایا جو پاکستان یا ہر ملک کا حق بنتا ہے ۔ کشمیر میں بھارت روزاول سے ہی قابض ہونے کا خواب دیکھ رہا ہے نہ صرف کشمیر بلکہ آزاد کشمیر اور پورے پاکستان پر بھی قبضہ کا خواب دیکھتا ہے اور خوابوں پر پابندی لگ نہیں سکتی ۔ اکتوبر 1947 کو، ہندوستان نے پہلی بار اپنی فوجیں غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں اتاریں۔ اس نے تب سے اس علاقے پر زبردستی قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے زائد بھارت نے جموں و کشمیر پر اپنی غیر قانونی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف طریقے آزمائے ہیں۔ بھارت کی معروف توسیع پسندی کا مظاہرہ 2019 میںدنیا نے دیکھا بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی خود مختار حیثیت کو منسوخ کر دیا، ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا، اور خطے پر طویل مواصلاتی اور نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ ان اقدامات نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کی خصوصی دفعات کو منسوخ کر دیا، جس نے اس خطے کو خود مختاری کی ڈگری دی تھی اور غیر رہائشیوں کو زمین خریدنے یا کچھ ملازمتیں رکھنے سے روکا تھا۔بڑی طاقتیںغزہ میں فلسطین اور اسرائیل کی جنگ روکنے کیلئے کوشاں ہیں مگر یہ معاہدے اس حد تک کمزور ہیں کہ امن معاہدوں کے شور کے باوجود روزانہ چالیس پچاس فلسطینی غزہ میں شہید ہو رہے ہیں ہندوتوا پر مبنی بھارتی بدنیتی کا اندازہ تو اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے مابین احمد آباد میں ہونے والے میچ کے دوران بھی پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگ جیسی فضا بنائے رکھی اور پاکستان کے میچ ہارنے پر جنگ میں فتح جیسا جشن منایا۔ آج فلسطینی عوام پر ٹوٹی ہوئی قیامت کے حوالے سے مسلم دنیا کی کمزوریوں کو بھانپ کر بھارت کے حوصلے مزید بلند ہو سکتے ہیں اور وہ کشمیریوں پر نئے مظالم کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھی نئی سازشیں تیار کر سکتا ہے۔ اگر عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں نے بھارتی اور اسرائیلی جنونیت کا اب بھی نوٹس نہ لیا اور مسئلہ کشمیر و فلسطین کے حل کیلئے یو این قراردادوں پر عملدرآمد سے گریز کیا تو بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن کی تباہی بعیداز قیاس نہیں۔کشمیری عوام اپنی ارض وطن وادی کشمیر پر بھارتی فوجی تسلط کے خلاف آج 27 اکتوبر کو مقبوضہ وادی، بھارت اور دنیا بھر میں یوم سیاہ اور یوم الحاق پاکستان اس فضا میں منا رہے ہیں جب اپنے آزاد وطن کیلئے گذشتہ 75 سال سے زائد جدوجہد میں مصروف فلسطینی باشندے ظالم اور غاصب اسرائیل کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں۔ ان پر ایک نئی کربلا بپا ہے۔ وہ اسرائیلی بمباری سے بھی، ادویات نہ ملنے سے بھی اور بھوک پیاس سے بھی روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں دم توڑ رہے ہیں، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت ساری الحادی قوتیں اسرائیل کی پشت پر کھڑی ہیں۔ حماس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے اسے جنگی سازوسامان سے لیس کر رہی ہیں ۔ کشمیری عوام بھی مسلم دنیا کی اس بے حسی کے باعث ہی گزشتہ 76 برس سے اپنی آزادی کی جدوجہد میں بھارتی فوجوں کا تنہا مقابلہ کررہے ہیں اور اپنی بے بہا قربانیوں کی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ بھارت نے تقسیم ہنداور قیام پاکستان کے سوا دو ماہ بعد 27 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ سے منسوب ایک جعلی دستاویز کو جواز بنا کر وادی کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کی تھیں اور آج پون صدی بعد بھی
وادی کشمیر بھارتی فوجوں کے تسلط میں ہے جنہوں نے کشمیریوں کی بھارتی تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے اٹھائی جانے والی آواز دبانے کیلئے ہر قسم کے مظالم اور جبر و تشدد کے کسی ہتھکنڈے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسکے باوجود مادر وطن کی آزادی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے جذبے سے معمور کشمیری عوام کے پائے استقلال میں ہلکی سی بھی لرزش پیدا نہیں کی جا سکی۔ کشمیری عوام ہر سال 27 اکتوبر کو اسی جذبے سے لبریز ہوکر بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ اور یوم الحاق پاکستان مناتے ہیں اور عالمی ضمیر بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی تناظر میں آج بھی کشمیری عوام دنیا بھر میں اپنے اپنے مقام پر احتجاجی مظاہرے کر کے اور ریلیاں نکال کر عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوجوں اور دوسری سکیورٹی فورسز کے مظالم اور کشمیر پر بھارتی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو لاحق ہونے والے سنگین خطرات کی جانب متوجہ کریں گے اور دیرینہ مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل کیلئے اپنی جدوجہد مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کریں گے۔ مسلمان دنیا کو کچھ کرنا ہوگا صرف افسوس اور دن منانے کا فائدہ دشمن کو ہی ہوگا ۔