Wed, September 16, 2026

اسرائیلی فوج کے غزہ پر نئے فضائی حملے، 24 فلسطینی شہید، حماس کی امریکا سے مداخلت کی اپیل

اسرائیلی فوج کے غزہ پر نئے فضائی حملے، 24 فلسطینی شہید، حماس کی امریکا سے مداخلت کی اپیل

غزہ : اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے میں 87 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حماس نے اس جارحیت پر امریکا سمیت عالمی طاقتوں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے شمالی غزہ شہر میں ایک کار کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دیر البلح اور النصیرات کے پناہ گزین کیمپوں میں مزید حملے کیے گئے۔ غزہ شہر میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں 11 افراد شہید اور 20 زخمی ہو گئے۔ العشیفا ہسپتال کے ایک ڈاکٹر رامی مہنّا نے بتایا کہ یہ حملہ رِمال محلے میں ہوا۔

دیر البلح میں اسرائیلی حملے میں ایک خاتون سمیت تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔ عینی شاہد خالد ابو حطب نے بتایا کہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ پورا علاقہ دھوئیں سے ڈوب گیا تھا، اور اس نے اپنے پڑوسی کے گھر کی اوپری منزل غائب دیکھ کر گہرا صدمہ محسوس کیا۔ النصیرات میں ایک رہائشی عمارت پر بھی حملہ کیا گیا جس میں متعدد زخمی اور ہلاک ہو گئے، اور گلیوں میں ملبہ بکھرا ہوا تھا۔

غزہ کے سرکاری میڈیا کے مطابق 10 اکتوبر کے بعد سے اسرائیل نے کم از کم 497 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 342 فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہے۔

حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ بندی کی پابندی نہیں کر رہا اور معاہدے کی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔ حماس نے عالمی برادری، خاص طور پر امریکا، مصر اور قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اسے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے روکیں۔ حماس نے امریکی حکومت سے بھی کہا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے اور اسرائیل کو معاہدے کی پابندی کرنے پر مجبور کرے۔

یہ حملے اس وقت ہو رہے ہیں جب گزشتہ دو سالوں میں اسرائیلی حملوں میں 70 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 20 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ میں اس سنگین صورتحال پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور فلسطینی عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

ٹیگز: