پچھلے کالم میں اپنی بیوروکریسی کے کچھ شوہدے کرداروں کا ذکر کیا تھا،اس پر وہ دوست بیوروکریٹ بھی ناراض ہو گئے جنہیں اصل میں خوش ہونا چاہیے تھا کہ وہ اس کھاتے میں نہیں آتے،پر ظاہر ہے چاہے مختلف رنگ و نسل کی ہی کیوں نہ ہوں مجیں مجوں کی بہنیں ہوتی ہیں،ایمانداری صرف یہ نہیں ہوتی آپ رشوت نہ لیں،اصل ایمانداری یہ ہے کوئی شخص آپ کے در پر اپنا کوئی جائز مسئلہ لے کے آ جائے آپ نہ صرف یہ کہ اُسے حل کریں اُس شخص کی عزت بھی کریں،ہمارے کچھ ایماندار افسر رشوت وغیرہ نہ لے کے اپنے آخرت کے معاملات درست کرنے کے بجائے یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ لوگوں پر احسان کر رہے ہیں،ایک باریش سیکرٹری رشوت کا ٹکا نہیں چھوڑتے،ایک بار میں نے اُن سے کہا ”سر آپ کی اتنی لمبی داڑھی ہے آپ کو رشوت لیتے ہوئے شرم نہیں آتی؟“ وہ بولے ”شرم کس بات کی؟ جہاں میری داڑھی ختم ہوتی ہے وہاں میرا پیٹ شروع ہو جاتا ہے“،کچھ افسروں کے پاپی پیٹ قبر میں اُتر جانے کے بعد بھی شاید نہیں بھرتے ہوں گے،میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی ایک گھٹیا حرکت بارے آپ کو آگاہ کیا تھا اور وعدہ کیا تھا آئندہ کالم میں ایک اور سیکرٹری یعنی ایک اور ”بیورو کرپٹ“ کے بارے میں آپ کو بتا¶ں گا،یہ دلچسپ واقعہ پُرانا ہے مگر یہ آپ کو اس لئے تازہ لگے گا اور مزا بھی دے گا اس میں بیورو کریسی کی عمومی فطرت آج بھی صاف ظاہر ہوتی ہے،میں نے امریکہ جانا تھا،جرمنی میں مقیم میرے ایک دوست کی کال آ گئی کہنے لگا ”مجھے سیکرٹری لائیوسٹاک سے کام ہے تم میرے ساتھ چلو“،میں نے اُس سے کہا ”میں آج رات امریکہ جا رہا ہوں،میں سیکرٹری کو کال کر دیتا ہوں تم جا کر اُس سے مل لینا“،اُس کے اصرار پر میں اُس کے ساتھ چلا گیا، سیکرٹری نے خوب آ¶بھگت کی،فرمانے لگے ”آپ کا کام بڑا جائز ہے ایک دو دنوں میں ہو جائے گا“،اُنہوں نے میرے دوست کا نمبر بھی اپنے موبائل فون میں فیڈ کر لیا اور اپنا نمبر اُنہیں دے کے کہنے لگے ”آپ کو اس کام کے لئے اب دوبارہ بٹ صاحب کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں،آپ اگلے ہفتے مجھ سے رابطہ کر لینا آپ کو این او سی مل جائے گا“،ہم بڑے مطمئن ہو کر اُن کے دفتر سے باہر نکل آئے، رات کو میں امریکہ چلا گیا،تین ماہ بعد میں جب واپس آیا وہ سیکرٹری مجھے ایک شادی میں مل گئے،کہنے لگے ”میں نے آپ کے دوست کا کام کر دیا تھا مگر دو ہفتے پہلے میں ایک کورس کے لئے جرمنی گیا،میں نے وہاں اُسے کئی کالز اور میسجز کیے،وہ اتنا احسان فراموش ہے اُس نے جواب تک نہیں دیا“، مجھے اُن کی یہ بات سُن کے بہت افسوس ہوا،میں نے اُن سے معذرت کی،گھر آ کر میں نے اُس دوست کو کال کی،اُس پر چڑھائی کر دی،میں جب خوب لعن طعن کر چُکا اُس نے مجھے بتایا ”آپ کے امریکہ جانے کے بعد اس سیکرٹری نے مجھے بہت خراب کیا، یہ میری کال اٹینڈ کرتا تھا نہ میرے کسی میسج کا جواب دیتا تھا،میں اس کے دفتر جاتا وہ دو دو گھنٹے مجھے انتظار کرا کے اندر بُلاتا اور کہتا ”فکر نہ کریں آپ کا کام ہو جائے گا“، مگر کام نہیں ہوتا تھا،ایک روز میں انتہائی پریشانی کے عالم میں اُس کے دفتر سے نکلا ایک شخص نے مجھے روک لیا اُس نے بتایا وہ سیکرٹری کا ڈرائیور ہے،اُس نے مجھ سے پوچھا ”آپ کا کیا معاملہ ہے؟“، میں نے اُسے ساری بات بتائی۔ وہ کہنے لگا ”اگر آپ بٹ صاحب کو نہ بتانے کا مجھ سے وعدہ کریں اور دس لاکھ مجھے دیں میں آج ہی آپ کا کام کرا دیتا ہوں“،مجھے وہ شخص بڑا ہمدرد اور معقول سا لگا،میں فوراً بینک گیا،پانچ لاکھ روپے نکلوا کے اُسے دے دئیے اور وعدہ کیا بقایا رقم این او سی ملنے کے بعد آپ کو مل جائے گی،وہ اُسی شام میرے گھر آ کے این او سی دے کے بقایا رقم لے گیا“۔مجھے اپنے دوست کی اس کہانی پر بالکل یقین نہیں آ رہا تھا،میں نے اُس سے کہا تم جھوٹ بولتے ہو،اُس نے اُسی وقت ڈرائیور کا نمبر ملایا اور جو گفتگو اُس سے کی تمام باتوں کی تصدیق ہو گئی،اُس کے بعد میں نے اُس سیکرٹری کو فون کیا اُس سے کہا ”تم کوئی بہت ہی بےشرم اور بے غیرت انسان ہو، جرمنی میں میرے دوست نے تمہارے ساتھ بالکل ٹھیک سلوک کیا تھا،تم اسی لائق ہو،تم نے اُس کا کام میرے کہنے پر نہیں اپنے ڈرائیور کے ذریعے دس لاکھ روپے لے کر کیا تھا،میں اب اس پر کالم لکھوں گا اور وی لاگ بھی کروں گا، میں نے غصے میں فون بند کر دیا،پھر بیشمار سینئر افسروں کی مجھے کالز آنا شروع ہو گئیں، وہ کہنے لگے ”سیکرٹری لائیو سٹاک آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں، آپ کچھ لکھنے یا بولنے سے پہلے ایک بار اُن سے مل ضرور لیں“۔میں نے سب سے معذرت کر لی پر ایک عظیم شخص جی ایم سکندر کو میں انکار نہیں کر سکا، شام کو وہ سیکرٹری میرے گھر آ گئے، انتہائی بوکھلائے اور ڈرے ہوئے تھے کہنے لگے ”میرا ڈرائیور بڑا حرامزادہ ہے، مجھے پتہ ہی نہیں تھا اُس نے دس لاکھ لئے ہیں، پھر ایک بیگ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگے ”یہ دس لاکھ روپے آپ اپنے دوست کو واپس کر دیں“، میں نے عرض کیا ”اگر آپ کے ڈرائیور نے دس لاکھ روپے آپ سے بغیر پوچھے لئے تھے پھر ابھی آتے ہوئے آپ اُس کی معطلی یا برطرفی کے آرڈرز ساتھ لے کر کیوں نہیں آئے؟“،کہنے لگے میں نے اُس کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے، میں نے کہا ”وہ حُکم بھی آپ نے زبانی کلامی دیا ہو گا تاکہ بعد میں زبانی کلامی اُسے واپس لے سکیں،ورنہ کم ازکم انکوائری کے وہ تحریری آرڈرز ہی ساتھ لے آتے“،وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے،میں نے اُن کی موجودگی میں جرمنی میں اپنے اُس دوست کو کال کر کے بتایا ”سیکرٹری تمہارے دس لاکھ روپے واپس کرنے آئے ہیں“، وہ بولا ”میں نے یہ رقم اب واپس نہیں لینی، آپ اسے شوکت خانم ہسپتال میں جمع کرا دیں“،ان بے شرم ”بیورو کرپٹوں“ کے ایسے کئی واقعات آج کل میں اپنی کتاب ”پاکستان کی بیورو کرپٹی“ میں لکھ رہا ہوں،یہ واقعہ نہیں یہ ایک ”مائنڈ سیٹ“ ہے جس نے پاکستان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے،اب میں اگلے کسی کالم میں آپ کو چند دلچسپ واقعات کچھ ”بیورو کرپٹوں“ کی خوشامد کے بھی سُنا¶ں گا وہ کس طرح سیاسی و اصلی حکمرانوں کی خوشامد کے وٹے پہلے صرف اُٹھاتے تھے اب باقاعدہ منہ میں ڈال لیتے ہیں،ایسے فنکار بیورو کرپٹوں کے بارے میں صرف عرض کروں گا ”یہی چراغ جلیں گے تو مزید اندھیرا ہو گا“۔ ان بدبختوں کی موجودگی میں ترقی کی منزلیں طے کرنا تو دُور کی بات ہے ترقی کے پہلے زینے پر ہی پاکستان نہیں چڑھ سکتا۔