Wed, September 16, 2026

اس موج کے ماتم میں.... !!

اس موج کے ماتم میں.... !!

کتابوں کی دنیا طلسمی جہاں ہے
جہاں خواب تعبیر سب کچھ عیاں ہے
یہ شعر ہے ثمینہ سید کا اور اس میں ثمینہ کا کتابوں سے عشق عیاں ہے۔ اس کا کتابیں پڑھنے اور لکھنے کا شوق آخری انتہاو¿ں کو چھو رہا تھا۔ وہ زندہ رہتی تو بہت کچھ کر جاتی، خیر اب بھی اس نے کچھ کم کام نہیں کیا۔ زندگی نے اسے جتنی مہلت دی، اس میں اس نے چھے کتابیں تو لکھ ہی لیں جبکہ بہت سے لکھنے والے تو زندگی بھر میں ایک ہی کتاب لکھنے کو کافی سمجھتے ہیں اور اس نے تو لکھا بھی مختلف موضوعات پر۔ شاعری کی، افسانے لکھے، تنقیدی مضامین کے میدان میں طبع آزمائی کی۔ اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی میں بھی لکھا اور یہ سب کچھ اتنی عجلت میں کیا جیسے اسے پتا ہو کہ اس کے پاس وقت بہت کم ہے۔ ایسے لگتا تھا کہ اس کی زندگی کوئی طوفان آشنا سمندر تھی جس کی موجیں ہر وقت اضطراب میں رہتی تھیں۔ اقبال نے کہا تھا:
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
 اس قطعے میں اقبال نے جو دعا مانگی، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ثمینہ سید کے لیے قبول ہوئی۔ قدرت نے اس کے اندر وہ طوفان پیدا کیا جس نے اسے کتاب خواب بھی بنایا اور صاحب کتاب بھی۔ ثمینہ سید نے ملک عدم سدھارنے سے قبل اپنے ذوق مطالعہ کی بنیاد پر نہ صرف ادبیات میں ایم فل کیا بلکہ پی ایچ ڈی کے لیے بھی پر تول رہی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے "سامنے مات ہے" اور "ہجر کے بہاو¿ میں" کے نام سے دو شعری مجموعے، "کہانی سفر میں ہے" کے عنوان سے افسانوں کا مجموعہ، "رات نوں ڈکو" کے نام سے پنجابی کہانیاں جبکہ "زن زندگی" اور "یہ میرے ہم عصر" کے عنوان سے مضامین کے دو مجموعے ادب کی دنیا کو دیئے۔
ثمینہ سید سے کبھی زیادہ جان پہچان نہیں رہی۔ بس ادبی محافل اور مشاعروں میں آمنا سامنا ہو جاتا تھا یا پھر اس قدر شناسائی تھی کہ وہ معروف صحافیوں تنویر عباس نقوی مرحوم اور نوشین نقوی کی بہن اور راجا ریاض کی خواہر نسبتی تھی۔ ثمینہ سے شناسائی کا تیسرا حوالہ شاذیہ مفتی ہیں جو ثمینہ کی بچپن کی سہیلی تھیں۔ شاذیہ مفتی کے ساتھ گزشتہ سال حلقہ ارباب ذوق میں ان کی سیکریٹری شپ کے دوران بہت قریبی رابطہ رہا کہ راقم ان کے پینل میں بطور جوائنٹ سیکریٹری شامل تھا۔ شاذیہ مفتی سے قریبی رابطے کے سبب ثمینہ کے ساتھ بھی اچھی خاصی غائبانہ شناسائی ہو گئی۔ اس کے بارے میں جو کچھ پتا چلا، وہ کسی بھی شخص کو اس کا معتقد بنانے کے لیے کافی ہے۔
ثمینہ کا تعلق پاکپتن سے تھا، شاذیہ مفتی کے مطابق وہ اور ثمینہ ایک ہی سکول میں پڑھتی تھیں۔ ثمینہ کی شادی کم عمری میں ہو گئی تھی، اس کے باوجود اسے اپنے شوہر کی طویل رفاقت نصیب نہیں ہوئی کہ رفیق حیات کی کینسر کے ہاتھوں موت کے باعث اسے جوانی ہی میں بیوگی کے عذاب سہنا پڑا۔ باہمت ثمینہ نے اس سانحے کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا اور نہ صرف بطور معلمہ ملازمت اختیار کر کے اپنے دو بچوں کو بہترین طریقے سے پالا بلکہ اپنی تعلیم بھی مکمل کی اپنا تخلیقی سفر بھی جاری رکھا۔ اسی دوران اسے بھی کینسر جیسے موذی مرض نے آن گھیرا لیکن اس نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔ علاج بھی کراتی رہی، ڈگریاں بھی لیتی رہی اور شعروادب کی بھی خون جگر سے آبیاری کرتی رہی۔ 
ثمینہ سید کو ایک سال قبل ہی سیکریٹری محمد نواز کھرل کے دور میں حلقہ ارباب ذوق کی رکنیت ملی تھی۔ اسے رکنیت ملتے ہی اس کی ہمدم دیرینہ شاذیہ مفتی کا دور شروع ہو گیا۔ ہماری شدید خواہش رہی کہ ثمینہ کو اپنے کسی اجلاس میں شیڈول کریں لیکن اس دوران بار بار کیموتھراپی ہونے کے باعث اس کی صحت اس قدر گر چکی تھی کہ پاک ٹی ہاو¿س آنا اور حلقے کے اجلاس میں اپنی کوئی تخلیق پیش کرنا اس کے لیے تقریبا ناممکن ہو چکا تھا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ہمارا سیشن ختم ہونے سے پہلے ہی ثمینہ چل بسی۔ یوں اس کا حلقے کی رکنیت کا عرصہ ایک سال سے بھی کم وقت پر محیط رہا اور اس دوران وہ ایک بار بھی حلقے کی رونق میں اضافہ نہ کر سکی۔
گزشتہ ہفتے شاذیہ مفتی نے یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں ثمینہ سید کی یاد میں ایک نشست کا اہتمام کیا۔ اس نشست کی صدارت ایم فل میں ثمینہ کے استاد ڈاکٹر نجیب جمال نے کی جبکہ مہمان خصوصی نامور شاعر، ادیب اور نقاد غلام حسین ساجد تھے۔ ثمینہ پر گفتگو کرنے والے دیگر افراد میں ثمینہ کے بہنوئی معروف صحافی راجا ریاض، بہن نوشین نقوی، بیٹی سیدہ شوال رضا، ممتاز دانشور ڈاکٹر امجد طفیل، ثمینہ کی سہیلیوں رقیہ اکبر چودھری، دلشاد نسیم اور منزہ سحر نے اپنے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کیا جبکہ انجم شیرازی، نیل احمد بشیر اور اسامہ عباس نے ثمینہ سید کا کلام بھی گا کر سنایا۔ 
ثمینہ سید کے چلے جانے سے یقینا لاہور کی ادبی فضا میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو بہت دیر تک پر نہ ہو سکے گا کہ ایسے جذبے اور جنون کے حامل افراد روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ اس کے بارے میں مزید کیا کہا جائے۔ بس وہی شعر شاید سب کے دلوں کا ترجمان ہے جو ڈاکٹر نجیب جمال نے اپنے صدارتی خطبے کے آخر میں پڑھا: 
وعدوں کی رت رخصت ہوئی
باتوں کو چپ سی لگ گئی

ٹیگز: