Wed, September 16, 2026

ثالثی کی بساط اور ماتم کدہ بھارت

ثالثی کی بساط اور ماتم کدہ بھارت

آج تو چوپال میں رونق لگی ہوئی تھی، سب بہت خوش تھے، ظاہر ہے خوشی کی وجہ بھی تھی کہ عالمی جنگ کا خطرہ کسی حد تک ٹل گیا تھا۔ سب چپ سائیں کا انتظار کررہے تھے۔ چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے اور سب احتراماً کھڑے ہوگئے۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ نتھو اور پھتو نے تھوڑی دیر بعد ہمت کرکے کہا سائیں جی آج آپ چوپال میں رونق اور خوشی کی وجہ کے بارے میں نہیں پوچھیں گے۔ اس پر چپ سائیں زیر لب مسکرائے اور کہا کہ خود ہی بتادو بچو!۔ اس پر نتھو نے کہاکہ سائیں جی وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت کی وجہ سے دنیا ایک بڑی جنگ کے خطرے سے کسی حد تک بچ گئی ہے اور اب بات چیت سے مسائل حل کی طرف جائیںگے۔ اس پر چپ سائیں نے کہاکہ چوپال کے دوستو میں خود بہت پشیمان تھا کہ کیا بنے گا ؟ کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی خیر۔ ۔ ۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی مصلحت اندیشی کی وجہ سے معاملہ میدان سے میز تک آگیا۔۔۔ چاچا رشید بولے۔۔۔ سائیں جی بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی،ہمارے ہمسائیہ ملک میں تو سوگ اور ماتم ہورہا ہے کہ پاکستان کی پوزیشن دنیا بھر میں مستحکم ہوگئی ہے۔۔۔میڈیا کی خبروں کے مطابق تو ہمارے انتہائی قریبی” ہمسائیہ“ ملک کے سربراہ نے تو ہمیں سفارتی سطح پر تنہائی کاشکار کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا لیکن ان کی دال تو گلی نہیں اور اللہ نے ہمارے رہنماﺅں کو عزت بخشی۔۔۔ شکر ہے۔۔ دنیا بھر میں پاکستان کی مصلحت اور کامیابی سفارتکاری کے ڈنکے بج رہے ہیں۔ 
چپ سائیں بولے۔۔۔ دوستو! واقعی یہ ہماری عسکری اور ملکی قیادت کے سر ہی ہے کہ دنیا کو خطرناک جنگ سے بچایا اور سازشی عناس کی چھٹی کرادی۔سچ ہے کہ پاکستان 'جیو پولیٹکس'' سے ''جیو اکنامکس'' کا رخ کررہا ہے اور اس وجہ سے بھارت اور دیگر مخالف قوتیں پریشان ہیں۔ دوستو!پہلے پاکستان کی پہچان ایک ایسی ریاست کی تھی جو عالمی طاقتوں کی جنگوں میں صف اول کا سپاہی بنتی تھی۔ اب پاکستان کا وژن یہ ہے کہ ہم اپنی جغرافیائی صورتحال کو تجارت اور راہداری کے لیے استعمال کریں گے۔میرے بچوں اب ہماری قیادت خواہ عسکری ہو یا ملکی نظریات بدل رہے ہیں اور دنیا کو پاکستان میں ''جنگ'' کے بجائے ''سرمایہ کاری'' کی دعوت دینے کی سوچ جنم لے رہی ہے۔ جیو اکنامکس کا سب سے بڑا ستون چین پاکستان اقتصادی راہداری ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان تاجکستان، ازبکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کو گرم پانیوں (گوادر) تک مختصر ترین راستہ فراہم کر رہا ہے جبکہ بھارت اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بلوچستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر سی پیک کامیاب ہو گیا تو پاکستان معاشی طور پر ناقابلِ تسخیر ہو جائے گا۔جب پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ جیو اکنامکس کی طرف جا رہا ہے، تو دشمن نے اپنی جنگ کا رخ بھی معیشت کی طرف موڑ دیا۔ بھارت عالمی میڈیا پر یہ تاثر پھیلاتا ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے تاکہ غیر ملکی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری نہ کریں۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے ہمیشہ چاہا کہ وہ پورے جنوبی ایشیا کی معیشت پر اجارہ داری قائم کرے۔ لیکن پاکستان کے جیو اکنامک وژن نے نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ بھارت کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ چین اور پاکستان کے ذریعے متبادل تجارتی راستے اپنا سکتے ہیں۔
 بھارت نے ایران میں 'چاہ بہار' بندرگاہ کے ذریعے پاکستان کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی، لیکن پاکستان نے اپنی کامیاب سفارتکاری سے ایران کو یہ باور کرایا کہ گوادر اور چاہ بہار ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ مددگار ہو سکتے ہیں۔پاکستان کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج روس جو کبھی بھارت کا دیرینہ اتحادی تھا، اب پاکستان کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبوں اور دفاعی مشقوں میں مصروف ہے اور مختلف عوامل پر سوچ رہا ہے ۔یورپی ممالک بھی پاکستان کو ایک بڑی مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
چپ سائیں بات کرتے کرتے چپ کرگئے۔ نتھو اور پھتو کو پانی کااشارہ کیا۔۔۔ نتھو نے پانی کا گلاس پیش کیا۔۔ چپ سائیں نے گھونٹ گھونٹ پانی پیا اور تھوڑی دیر کے بعد گویا ہوئے کہ میرے بچوں۔۔ہم سب کو آنے والی نسلوں کے لیے طے کرنا ہے کہ جنگ نہیں امن کی خواہش کو لے کر آگے بڑھیں۔دشمن چاہتا ہے کہ پاکستان سرحدی جھگڑوں اور جنگوں میں الجھا رہے تاکہ اس کی معیشت تباہ ہو جائے۔ لیکن پاکستان کا جیو اکنامکس کی طرف قدم بڑھانا بھارت کی دہائیوں کی محنت پر پانی پھیر رہا ہے، کیونکہ ایک خوشحال پاکستان عالمی برادری کے لیے بھارت سے زیادہ پرکشش اور ناگزیر ہو جائے گا۔
صاحبو!ہم نے دشمن کی کھودی ہوئی خندقوں کو مٹی سے بھرنے کے بجائے، ان کے اوپر سے معاشی پل تعمیر کردیے ہیں۔ بھارت اس لیے ماتم کدہ بنا ہوا ہے کیونکہ اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس ملک کو کیسے روکا جائے جو اب گولی کا جواب ''کنیکٹیویٹی'' اور ''ثالثی'' کے ایسے جال سے دے رہا ہے جس میں خود بھارت کے اتحادی بھی پھنستے جا رہے ہیں۔میرے چوپال کے بچوں ،بھائیو اور دوستو! پاکستان اب وہ ''مردِ آہن'' ہے جو میدانِ جنگ میں خاموش کھڑا مسکرا رہا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کے دشمن کی ہر سازش خود اس کے اپنے پا¶ں کی زنجیر بنتی جا رہی ہے۔ دشمن کی چیخیں دراصل اس بات کا اعلان ہیں کہ پاکستان کا ''امن اور معیشت'' کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے!۔
صاحبو!دنیا اس وقت لیڈرشپ کے بحران سے گزر رہی ہے لیکن ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے''ڈائیلاگ ڈپلومیسی'' (مذاکراتی سفارت کاری) سے ثابت کیا کہ ہم صرف لڑنا نہیں، بلکہ جوڑنا بھی جانتے ہیں۔دشمن کی سازش یہ تھی کہ ہمیں فرقہ واریت میں بانٹ دیا جائے، لیکن پاکستان نے ''ثالث'' بن کر اس سازش کا سر کچل دیا ہے۔پاکستان کی کامیابی کا راز اس کے ''نظریہ'' میں چھپا ہے، اور نظریے کو ایٹم بم سے بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔دشمن کی سازشیں ریت کے گھروندے ہیں جو سچ کی ایک لہر سے گر جاتے ہیں۔پاکستان کی حقیقت چٹان ہے جس سے ٹکرا کر لہریں خود اپنا وجود کھو دیتی ہیں۔۔۔۔ صاحبو!۔۔۔ پاکستان زندہ باد! یہ نعرہ کل بھی حقیقت تھا، آج بھی سچ ہے، اور ان شاءاللہ ابد تک دشمن کے سینے پر مونگ دلتا رہے گا۔۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔

ٹیگز: